فیوچرسیلزکا سٹہ بازی سے کوئی تعلق نہیں،بہتان بازی نہ کی جائے،جہانگیر ترین کھل کر بول پڑے

لاہور(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ فیوچر سیلز کا سٹہ بازی سے کوئی تعلق نہیں، بہتان بازی کا سلسلہ بند کیا جائے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں جہانگیر ترین نے لکھا کہ معمول کی کاروباری سرگرمیوں میں مستقبل کے لئے مالی تحفظ کیا جاتا ہے۔ترین نے

لکھا کہ دنیا بھر میں کارروبار کے لئے فیوچر سیلز ایک معمول کا طریقہ ہے۔ جے ڈی ڈبلیو کے کھاتوں میں تمام طرح کی سیلز پوری طرح ڈکلیئر ہیں۔ دوسری جانب امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ شوگر مل مالکان کا چینی80روپے فی کلو دینے سے انکار حکومت کی ناکام رٹ کی جانب وا ضح اشارہ کرتا ہے۔ 3ماہ کے دوران مہنگی چینی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر 16ارب جبکہ سوا سال کے دوران 81ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔ وزیر اعظم اپنی کابینہ کی کارکردگی بہتربنانے کی بجائے عوام کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی تبدیلی نے 22کروڑ عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کے پاس عوام کی حالت بہتر بنانے اور مہنگائی کو روکنے کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ احتساب کا عمل وزیر اعظم کو اپنی کابینہ سے شروع کرناچاہیے تھا۔ اس وقت چینی مافیا اور آٹا چور ان کے ارد گرد حصار بنائے کھڑے ہیں۔ سٹیٹ بینک قومی ادارہ ہے، جسے آئی ایم ایف کے سپردنے کے بارے میں خبروں کا میڈیا میں آنا تشویشناک اور حکومت کی نااہلی کی بد ترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کا طوفان

امڈ آیا ہے۔ کابینہ میں وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے سے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اور نہ آئندہ مل سکتے ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کے ادارے عملاً غیر فعال ہوچکے ہیں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ کوئی ایک وعدہ بھی ایسا نہیں ہے جو وزیر اعظم عمران خان نے پورا کیا ہو۔ 22کروڑ عوام حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں کا بدلہ عام انتخابات میں لیں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور حکومت کی اصل حقیقت عوام جان لیں۔ مسائل دن بدن گھمبیر ہوتے چلے جارہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *