رانا ثناء اللہ نے مریم نواز کے بیرون ملک جانے کا اشارہ دے دیا

لاہور(این این آئی) مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ لوگ عزیزوں سے ملنے جاتے ہیں،مریم نواز کو عزیزوں سے ملنے یا دوسری کسی غرض سے جاناپڑا تو جائیں گی، ساری دنیا جاتی ہے، لوگ جاتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ ان کا جانامنع ہے۔لاہو رہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ مریم نواز سے بہتر اس ٹولے کا علاج کوئی نہیں جانتا، اس وقت مسلط ٹولے سے نجات کی ضرورت تک مریم جدوجہدمیں شامل رہیں گی، آپ لوگ فکر نہ کریں مریم آپ کے علاج کیلئے یہاں موجود ہیں۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کی عبوری ضمانت میں پانچ اپریل تک توسیع کرتے ہوئے نیب کے وکیل کو اسی روز ہر صورت دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی کی دو رکنی بنچ نے رانا ثنا اللہ خان کی درخواست پر سماعت کی۔نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر فیصل رضا بخاری عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی میڈیکل رپورٹس پیش کرتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔نیب کے وکیل نے کہاکہ نیب نے ایک بار بھی کیس ملتوی کرنے کی استدعا نہیں کی، ملزم رانا ثنااللہ نے کئی بار اس کیس میں التوا ء مانگا ہے، نیب نے کیس کو جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کیلئے متفرق درخواستیں بھی دائر کیں، میری طبیعت ٹھیک نہیں کیس کو آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کر دیا جائے۔فاضل عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کی کیس فوری طور پر ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کے وکیل کو دلائل شروع کرنے کا حکم دیدیا۔رانا ثنا اللہ کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اے این ایف نے رانا ثنااللہ کو منشیات کیس

میں گرفتار کیا،این ایف نے رانا ثنااللہ کے ذاتی اکاؤنٹس اور قومی اسمبلی کی تنخواہ بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیا۔اے این ایف نے رانا ثنااللہ پر منشیات سمگلنگ کے الزامات کے تحت چالان جمع کرایا۔لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کیس میں ضمانت دی۔رانا ثنااللہ ضمانت ملنے پر گھر پہنچے ہی تھے کہ نیب نے طلبی کا نوٹس بھجوا دیا۔26 دسمبر

2019 کو رانا ثنااللہ کی ضمانت منظور ہوئی 27 دسمبر کو نیب میں طلب کر لیا گیا۔نیب نے جیل میں تفتیش کے لیے کوئی درخواست نہیں دی۔ نیب کے طلب کرنے پر رانا ثنااللہ نیب میں پیش ہوئے اور نیب کو ریکارڈ فراہم کیا۔رانا ثنااللہ سینے پر ہاتھ رکھ کر نیب میں پیش ہوئے اور نیب کے سوالات کے جوابات دئیے۔رانا ثنااللہ کی گھر کی سوئی سے لے کر ہر چیز جائز آمدن سے بنائی گئی ہے۔اے این ایف کے مطابق رانا ثنااللہ کی جائیداد منشیات فروشی

سے بنی ہے۔ نیب کے مطابق رانا ثنااللہ کی جائیداد منی لانڈرنگ اور ناجائز آمدنی سے بنی ہے۔ایک ہی جائیداد پر دو مختلف اداروں کا مختلف بیان ہے۔عدالتی حکم پر رانا ثنا اللہ کے منجمد کئے گئے اکاؤنٹس بحال نہیں کئے گئے، صرف بطور پارلیمنٹرین رانا ثنا اللہ کی تنخواہ کا اکاؤنٹ بحال کیا گیا ہے۔ فاضل عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے نیب کے وکیل کو اسی روز دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دلائل سن کر فوری فیصلہ کر دیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *