بھارت کے ساتھ تجارت کشمیر کی قیمت پر نہیں ہو سکتی، تجارت اور دوستی کیلئے بھارت کو کشمیر پر 5 اگست کی پوزیشن پر واپس جانا ہو گا، وزیراعظم کا دو ٹوک اعلان

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ای سی سی کا فیصلہ کابینہ کیلئے تجویز ہے، کابینہ نے بھارت سے تجارت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا،جب تک کشمیر پر فیصلہ نہیں ہوتا حکومت کی پوزیشن واضح ہے،پاکستان اور ہندوستان کی دوستی خطے کے لئے بہترین ہوگی،سب سے پہلے بھارت

کو پانچ اگست کی پوزیشن پر واپس جانا ہوگا،عمران خان کے ہوتے ہوئے کشمیر کا سودا کوئی نہیں کر سکتا،98 فیصد پاکستانیوں کو کرونا ویکسین فری لگے گی،دو فیصد پاکستانی جو لائن میں نہیں لگنا چاہتے ان کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کو اجازت دی،کینسائنو کی 4 ہزار 225 روپے قیمت ہوگی، اسلام آباد، گلگت کے تمام شہریوں کو صحت کارڈ دیئے جائینگے،جمعرات کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کابینہ میٹنگ کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کابینہ کی کافی دنوں بعد طویل میٹنگ ہوئی ہے،کابینہ کے فیصلے سنانے کی ذمہ داری مجھے دی گئی ہے۔ فواد چوہدری نے کہاکہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ نے حکومت کو سوئس اکاؤنٹ کا اوریجنل ڈیٹا فراہم کیا ہے،اب سوئس اکاؤنٹ کا اوریجنل اکاؤنٹ حکومت کے پاس موجود ہے، اس ڈیٹا کی بنیاد پر آصف زرداری کے خلاف مقدمات بنائے جاسکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہاکہ اخبار کی ہیڈلائن ہے کہ پاکستان نے انڈیا سے کاٹن لینے کی اجازت دے دی ہے، اکنامک کونسل کا فیصلہ کابینہ کیلئے ایک تجویز کی حیثیت دیتا ہے، کابینہ حتمی فیصلہ کرتی ہے، کابینہ نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا،جب تک کشمیر پر فیصلہ نہیں ہوتا حکومت کی بڑی واضح پوزیشن ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ہندوستان کی دوستی خطے کے لئے بہترین ہوگی،

وزیر اعظم نے مودی کو خط میں بھی کشمیر پر بات کی۔ انہوں نے کہاکہ،سب سے پہلے بھارت کو پانچ اگست کی پوزیشن پر واپس جانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اگر بھارت پانچ اگست والی پوزیشن پر واپس جاتا ہے پھر ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم ہندوستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں، دوستی کرنا چاہتے ہیں،

تجارت میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔وفاقی وزیر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ بھارت کے اندر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھیں، مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے، کشمیر کے لوگوں کو ان کے حقوق نہ دیں اور ہم یہ سمجھیں کہ اس سب کے باوجود ہم اور بھارت ہنسی خوشی رہ سکتے ہیں تو یہ ممکن نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *