2013ء میں ٹیکس صفر، 2014ء میں ادا کیا گیا ٹیکس صرف 50 روپے،2018ء میں 1 کروڑ روپے ٹیکس ظاہر کر دیا، کیا یہ ٹیکس چوری نہیں، وفاقی وزیر خزانہ کی ٹیکس رپورٹ میں حیرت انگیز انکشاف

لاہور(مانیٹرنگ+ آن لائن) معروف صحافی ندیم ملک نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں حماد اظہر کی بطور وزیر خزانہ تعینات پر سوالات اٹھا دیے۔ ندیم ملک وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر کی ٹیکس ریٹرن رپورٹ منظر عام پر لے آئے، انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ 2013ء میں حماد اظہر کا ٹیکس صفر تھا، 2014ء میں ٹیکس

صرف 50 روپے، وفاقی وزیر نے 2015ء میں 6407 روپے ٹیکس ادا کیا، 2016ء میں انہوں نے 8031 روپے ٹیکس دیا۔ 2017ء میں انہوں نے 20 ہزار ٹیکس دیا۔ اس موقع پر معروف صحافی نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماد اظہر نے 2017ء کے بعد اگلے سال ایک کروڑ روپے ٹیکس ظاہر کر دیا، انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سب کیسے ہو گیا، کیا یہ ٹیکس چوری نہیں۔ دوسری جانب فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حماد اظہر کو وفاقی وزیر خزانہ کا قلمدان سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے بزنس کمیونٹی کا اعتماد بحال ہوگا۔ بدھ کو ایک مشترکہ بیان میں صدر سارک چیمبر افتخار علی ملک، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور راجہ محمد انور، محمد نواز، عدیل صدیقی اور محمد آصف یوسف جیوا نے وزیر اعظم پر زور دیا ہے کہ اب وہ اپنی پارٹی کے منشور پر توجہ دیں اور عوام کی خواہشات پر پورا اتریں جنھوں نے انہیں اقتدار میں آنے کیلئے ووٹ دیا ہے، مزید یہ کہ وہ اپنی توجہ اقتصادی نمو اور برآمدات کے فروغ پر مرکوز کریں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو پرامن ماحول، کاروبار دوست اور برآمدات پر مبنی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کو مستحکم بنانے کے لئے منصفانہ اور

اچھی حکمت عملی پر مبنی پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ حماد اظہر اعلی تعلیم یافتہ سیاستدان ہیں جو اچھے نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اچھا شگون ہے کہ وزیر اعظم نے اس کام کے لئے درست انتخاب کیا ہے اور وہ یقینی طور پر ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں معاون ہوں گے۔ حماد اظہر کے

والد سابق گورنر پنجاب اور سابق لارڈ میئر لاہور میاں محمد اظہر بھی ایک تجربہ کار اور زیرک سیاست دان ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حماد اظہر اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سب سے زیادہ کامیاب اور انتہائی قابل وزیر خزانہ ثابت ہوں گے۔ راجہ محمد انور نے کہا کہ پاکستان میں زبردست صلاحیت موجود ہے اور وہ بہترین

ٹیلنٹ سے مالا مال ہے۔ ہمیں صرف حکومتی پالیسیوں میں مستقل مزاجی اور آگے بڑھنے کے لئے ایک واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے اور یہ پائیدار اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ محمد نواز نے کہا کہ حماد اظہر کو ایس ایم ایز کو بہت زیادہ اہمیت دینا ہوگی جو دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت میں کلیدی کردار ادا

کرتے ہیں۔ عدیل صدیقی نے کہا کہ ملک بھر کی کاروباری برادری کو حماد اظہر پر بھر پور اعتماد ہے کہ وہ معاشی سرگرمیوں کو تیز تر کرنیکیلئے بہترین مراعات مہیا کریں گے تاکہ معیشت کی ترقی کو تیز تر کیا جا سکے۔ محمد عارف یوسف جیوا نے کہا کہ ملک کے مستقبل کا انحصار مستحکم معیشت پر ہے لہذا وزیر اعظم غیر متنازعہ تاجر رہنماؤں کو پالیسی سازی کے عمل میں اعتماد میں لیں بصورت دیگر ہم اپنے ہمسایہ ممالک اور دنیا بھر سے کبھی مقابلہ نہیں کرسکتے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.