این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی انتخاب، 20 پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا ایک سازش تھی،سپریم کورٹ کے ریمارکس

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ 20 پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا ایک انوکھا واقعہ ہے، ایک سازش کے تحت سب کچھ کیا گیا۔ 23 پولنگ اسٹیشنز کیخلاف درخواست پر پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ دینا حیران کن ہے،ہم نے دیکھنا ہے کیا محدود پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کے الزام پر

پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں یا نہیں۔سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی انتخاب دوبارہ کرانے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دئیے کہ ٹرن آؤٹ کم ہونے کے باعث الیکشن دوبارہ کرانے کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کی دلیل کا اطلاق اس کیس میں نہیں ہو سکتا،تشدد کے واقعات کے سبب الیکشن کمیشن نے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا،جن عدالتی دلیلوں کا حوالے دے رہے ہیں ان میں جیت کا تناسب متنازعہ ووٹوں سے کم تھا۔تحریک انصاف کے وکیل شہزاد شوکت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی شکایت کا مرکز پنجاب حکومت کی ناکامی ہے،ضمنی انتخابات کے دوران رینجرز بھی موجود تھی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت نہیں بلکہ صوبائی انتظامیہ پر بات کی،الیکشن کمیشن کے فیصلے میں رینجرز کا کوئی زکر نہیں ہے،ہمیں بتائیں الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں کہاں رینجرز کا زکر ہے، وکیل تحریک انصاف نے کہا پنجاب حکومت کی رپورٹ میں رینجرز کا ذکر ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہم اسے آسمانی صحیفہ تسلیم نہیں کر سکتے،دو ہیوی ویٹ امیدواروں کے درمیان ضمنی انتخاب

ہوا، پر تشدد واقعات کے باعث حلقے کے عوام متاثر ہوئے،جو دلیل آپ دے رہے ہیں وہ صرف پنجاب حکومت کا یکطرفہ موقف ہے،ہم نے الیکشن کمیشن کے موقف کو بھی سامنے رکھنا ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے تحریک انصاف کے وکیل سے مکالمے میں کہا جب ڈسکہ ضمنی انتخاب میں ایک فریق مضبوط ہے تو وہ جھگڑا کیوں

کرے گا۔ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا پولنگ کے دوران جھگڑے اور پر تشدد واقعات منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہونگے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا پر تشدد واقعات کی منصوبہ بندی بارے الیکشن کمیشن میں کوئی زکر نہیں ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا انتخابات میں روایتی طور پر خواتین کا ٹرن آؤٹ ہوتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال

نے کہا یہ معاملہ ٹرن آؤٹ کی کمی کا نہیں ہے،پولنگ کا عمل رکنے کے واقعات ہوئے۔ وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں ضمنی انتخاب کے دوران واقعات کی وڈیوز چلائی گئیں، الیکشن کمیشن نے یہ تک نہیں پوچھا ویڈیوز کس نے بنائیں،کب بنیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن میں ویڈیوز چلائی

گئیں تو آپ نے اعتراض اٹھایا،میں آپ سے ایک آسان سوال پوچھ رہا ہوں،جب الیکشن کمیشن میں ویڈیوز چلائیں گئیں آپ نے اعتراض اٹھایا یا نہیں۔تحریک انصاف کے وکیل نے جواب دیا میں اپنے موکل سے پوچھ کر بتاؤں گا،الیکشن کمیشن کا دوبارہ انتخابات کا فیصلہ درست نہیں ہے۔تحریک انصاف کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے

بعد ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے ویڈیو لنگ کے زریعے سپریم کورٹ رجسٹری لاہور سے دلائل دیئے۔ واضح رہے کہ سلیمان اکرم راجہ کرونا کا شکار ہیں انھوں نے دوران سماعت یہ تسلیم بھی کیا کہ ان میں کرونا کی معمولی علامات ابھی موجود ہیں۔ ن لیگ کی نوشین افتخار کے وکیل نے دلائل میں کہا یہ عام کیس نہیں ہے،یہ منظم

دھاندلی سے متعلق کیس ہے،انتخابات میں دونوں فریقین کو مساوی مواقع فراہم نہیں کیے گئے،الیکشن کمیشن نے خود منظم دھاندلی کو تسلیم کیا،الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے باعث فیصلہ بھی دیا، پریذائڈنگ افسران کے ساتھ ساتھ انتخابی مواد بھی غائب ہوا، حیرت تو یہ ہے انتخابی مواد اور عملہ پولیس کے تحفظ میں تھا،الیکشن کمیشن نے

اپنے عملے سے رابطہ کی متعدد کوششیں کی،کمیشن کی جانب سے انتظامیہ سے رابطوں کی کوششیں بھی ناکام ہوئیں،حیرت ہے موبائل فونز کے ساتھ پولیس وائرلیس بھی اس وقت کام نہیں کر رہی تھی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ غائب ہونے والے پریذائڈنگ افسران پولیس اسکواڈ میں تھے۔ ن لیگ کے وکیل نے جواب دیاجی ہاں عملے

کی گاڑی کے ہمراہ پولیس کی گاڑیاں بھی موجود تھیں،غائب عملہ اور سامان ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ سے سامنے آئے۔ جسٹس منیب اختر نے پوچھا راجہ صاحب آپکے موکل کو معاملہ اٹھانے میں اتنی دیر کیوں لگی۔ن لیگ کے وکیل نے جواب دیا صبح تین بج کر بیس منٹ پر میری موکلہ نے ہاتھ سے لکھی درخواست ریٹرننگ افسر کو

دی، الیکشن کمیشن میں دکھائی گئی وڈیوز غیر متنازعہ تھیں،تحریک انصاف کے وکیل نے وڈیوز پر الیکشن کمیشن میں اعتراض نہیں اٹھایا،الیکشن کمیشن میں تو تحریک انصاف کے وکلاء خوش تھے، ذوالفقار علی ورک کو الیکشن کمیشن کے اعتراض کے باوجود تعینات کیا گیا،ذوالفقار علی ورک کو پورے حلقے کا انچارج لگا دیا گیا۔ جسٹس عمر

عطا بندیال نے کہاذوالفقار علی ورک صرف سمڑیال سیکٹر کے انچارج تھے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ اپنی دلیل کو درست کر لیں،آپ مقدمے میں پہلی مرتبہ دلائل نہیں دے رہے،ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل سن رہے ہیں۔ ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ جی میں درستگی کر لیتا ہوں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے

ہوئے کہا کہ20 فروری کو آپ نے درخواست دی،22 فروری کو نوٹسز جاری ہوئے،23 فروری کو الیکشن کمیشن نے معاملے کی سماعت شروع کردی،الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس کا ٹائٹل کیا تھا۔ ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ نوٹس 23 پولنگ اسٹیشنز کے حوالے سے جاری کیا گیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ نے 23

پولنگ اسٹیشنز کے حوالے سے درخواست دی، ریلیف پورے حلقے کا دے دیا گیا،23 پولنگ اسٹیشنز کی درخواست پر 360 پولنگ اسٹیشنز کا ریلیف حیران کن ہے،آپ بنیادی بات پر آئیں،حیرانگی ہے کہ پولنگ عملے کے ساتھ پولیس بھی غائب ہوگئی۔ ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ میری موکلہ کو پولنگ کے روز حراسگی کا سامنا بھی کرنا

پڑا،سارا دن لیگی امیدوار مختلف پولنگ اسٹیشنز کے باہر احتجاج کرتی رہیں،میری موکلہ کیجانب سے متعلقہ فورم سے رجوع نا کرنے کی وجہ غیر معمولی حالات تھے،انکے ساتھ کوئی وکیل نہیں تھا جو انکو قانونی مشورہ دے سکے۔ ن لیگ کے وکیل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا انتخابات کے دوران انتظامیہ کی ناکامی کے بعد الیکشن

کمیشن نے رینجرز طلب کرنے کی درخواست کی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں علم ہے ضمنی انتخاب میں خامیاں سامنے آئیں،بیس پریزائیڈنگ افسران کا غائب ہونا انوکھا واقعہ ہے،پولنگ اسٹیشنز پر فائرنگ اور پر تشدد واقعات بھی رونما ہوئے،، ایک سازش کے تحت سب کچھ کیا گیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے

کہا ہم صوبائی حکومت کے بارے میں نہیں کہہ سکتے انھوں نے سازش کی،لیکن یہ واضح ہے کہ الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے مابین رابطوں کا فقدان تھا،بنیادی سوال یہ ہے کہ محدود پولنگ اسٹیشنز پر خلل کے باعث پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ بیس پریزائیڈنگ افسران کو اٹھائے جانے کی جیو فنسنگ رپورٹ الیکشن کمیشن کے پاس موجود ہے،سپریم کورٹ جیو فنسنگ رپورٹ منگوا

سکتی ہے،غائب ہونے والے پریزائیڈنگ افسران خوفزدہ اور پریشان تھے.کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل روسٹرم پہ آگئے اور کہا پنجاب حکومت پر الزامات لگائے گئے،ہم اس کیس میں فریق نہیں ہیں لیکن اگر آپ چاہیں تو ہم جواب دے سکتے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کیا آپ کے پاس جواب دینے کیلئے کچھ ہے۔ اس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ عدالت نے کیس کی سماعت آج جمعرات دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.