”میرا جسم، میری مرضی“ عورت مارچ میں شریک خواتین نے آزادی کے نعرے لگا دیے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک+ آن لائن) عالمی یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ کیا گیا، اس عورت مارچ میں میرا جسم میری مرضی کی خواتین بھی شریک ہوئیں، خواتین نے اپنے لباس پر میرا جسم میری مرضی لکھوا رکھا تھا، کئی خواتین نے لفظ آزادی لکھے ہوئے کتبے اٹھا رکھے تھے،یہ خواتین اپنی آزادی اور میرا جسم میری مرضی کی

بات کر رہی تھیں جبکہ اس کے برعکس تحفظ ناموس رسالت محاذ شعبہ خواتین کے زیر اہتمام عالمی یوم خواتین کے موقع پر پریس کلب تا اسمبلی ہال لاہور پیغام شرم و حیاء مارچ منعقد ہوا جس میں دینی مدارس کی معلمات، طالبات اور زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی، مارچ کی شرکاء خواتین نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے پردگی، عریانی اور اخلاقی بے راہ روی کی بھرپور مذمت کی، مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مسز صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشنبندی نے کہا کہ ہم مسلمان خواتین ہیں اور حیاء ہماری پہچان اور زیور ہے، مسلم معاشرے سے حیاء کو ختم کرنے والی خواتین مسلم معاشرہ کے شفاف چہرے پر سیاہ دھبہ ہیں، مسز مفتی حسیب قادری نے کہا کہ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بیوی، بیٹی، بہن جو حقوق اور مقام دیا ہے دنیا کا کوئی دوسرا مذہب اور معاشرہ نہیں دے سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کا عملی نفاذ کیا جائے، مسز نعیم جاوید نوری نے کہا کہ ہر سطح پر خواتین اور بچیوں کے تعلیمی ادارے علیحدہ کئے جائیں، تعلیمی اداروں یا ملازمت کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے، مسزمفتی عمران حنفی نے کہا کہ پاکستانی خواتین غیر ملکی قوتوں کی آلہ کار این جی اوز کے ورغلانے اور بہکانے میں نہ آئیں

بلکہ ہماری دینی اور مشرقی تشخص اور روایات کے ساتھ مضبوطی سے جڑی رہیں مسزممتاز ربانی نے کہا وفاقی اور صوبائی حکومتیں قتل غیرت اور کاروکاری جیسی ظالمانہ رسومات کے خلاف قانون سازی کو اور موثر بنائیں، نیز قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔مسز مشتاق فیضی اورمسز محمدعلی نقشبندی نے کہا کہ ہمارے ٹی وی

چینلز، سوشل میڈیا، اخبارات و رسائل پاکستانی کلچر کو فروغ دیں اور اس میں نسل نو کی تربیت کی جائے، ٹی وی ڈراموں اور سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک اور اس جیسی دوسری ایپلی کیشن کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی، عریانی اور بداخلاقی کا فوری سدباب کیا جائے۔ مطلقہ، بیوہ خواتین اور یتیم بچیاں جن کی کفالت کا کوئی ذاتی انتظام نہ ہو ریاست اور معاشرہ ان کی کفالت کا مناسب اہتمام کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.