ہم ساتھ مل کرحملہ بھی کریں گے اور جیتیں گے بھی ،سب چاہتے ہیں ’’وسیم اکرم پلس‘‘ کو فارغ کر دیا جائے،بلاول بھٹو اور حمزہ شہباز کا اہم معاملات پر اتفاق

لاہور(آن لائن ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز نے حکومت کے خلاف احتجاج اور پارلیمانی پیش قدمی سے متعلق تمام فیصلے پلیٹ فارم سے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر

بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سید یوسف رضا گیلانی، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور اور حسن مرتضی موجود تھے جب کہ مسلم لیگ (ن) کی جاب سے سردار ایاز صادق، سعد رفیق، رانا ثنااللہ، عطااللہ تارڑ اور اویس لغاری بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو مشترکہ امیدوار بنانے، حکومت کے خلاف تحریک، پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی اور لانگ مارچ سمیت مختلف معاملات زیر بحث آئے ہیں۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے مشترکہ بات کرتے ہوئے حمزہ شباز نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سے کئی معاملات پربات چیت ہوئی ہے،ہم آگے بڑھیں گے اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اہم فیصلے کریں گے۔حمزہ شہباز نے کہا کہ نوازشریف اور شہباز شریف کیخلاف ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی، 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑنوکریوں کا نعرہ لگایا گیا، کہاں ہے وہ سب؟۔حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کے ساتھ دوران ملاقات تمام ایشوز پر گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی منزل لانگ مارچ یا عدم اعتماد نہیں ہے۔حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ملک کاآج یہ حال ہے کہ ہزاروں لوگوں کو کینسر کی مفت ادویات بند ہو چکی ہیں۔ اٹھائیس سال بعد گندم گنے کی پیداوار کم ترین سطح پر ہے۔ان کا کہنا تھا

کہ مہنگائی اور معیشت کا حال بہت برا ہے۔ حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ میں محترمہ بینظیر بھٹو کی بہت ہی قدر کرتا ہوں، وہ بہادر عورت تھیں۔ ہم نے بہت کچھ میثاق جمہوریت سے سیکھا۔اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت ایک خوف میں مبتلاہے، پنجاب کے قائد حزب اختلاف کو 2 سال جیل میں رکھنا پڑا تاکہ مانگے تانگے

کی حکومت چل سکے، ہم نے ثابت کردیا کہ عوام اورپارلیمنٹ ہمارے ساتھ ہے ، وزیراعظم نے پاکستان کے عوام کے ساتھ مذاق کیا، وزیراعظم نے اندر کے خوف سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم نے جتنے ووٹ حاصل کیے اتنے تو پارلیمنٹ میں لوگ نہیں تھے۔۔ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اعتماد کا ووٹ وزیراعظم

کے اندر کا خوف تھا، صدر نے مان لیا کہ عمران خان اکثریت کھو چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعتماد کے ووٹ کے معاملے پر ممبران کی گنتی کے بارے میں تحقیقات ہونی چاہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ماضی کے سینیٹ کے الیکشن سے کافی کچھ سیکھ چکے ہیں، ہماری کوشش ہے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں پی ڈی ایم کی

جیت ہو۔ پی ڈی ایم نے سینیٹ میں حکومت کو تاریخی شکست دی ہے، چوہدری صاحبان ہماریاتحادی رہے ہیں چیئرمین سینیٹ کے لیے ان کے گھر جاکر ووٹ مانگوں گا، پی ڈی ایم میں تمام فیصلے مشاورت سے ہوں گے، پی ڈی ایم کو فیصلہ کرنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کب اور کہاں لانی ہے۔ اسلام آباد میں کیا کرنا ہے،اس کا اعلان

مولانافضل الرحمان کریں گے، ہم ساتھ مل کرحملہ بھی کریں گیاور جیتیں گے بھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سب چاہتے ہیں پنجاب کو ایسا وزیراعلیٰ ملے جو مثالی ہو، سب چاہتے ہیں ‘’وسیم اکرم پلس’’ کو فارغ کر دیا جائے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن سے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ عدم اعتماد کا ووٹ کب لینا ہے؟ یہ

فیصلہ ہم کریں گے۔ ہم نے عوام اور پارلیمان کیساتھ مل کر کٹھ پتلی کا مقابلہ کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں ہمیں بڑی کامیابی ملی، اب کوشش ہے چیئرمین سینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم کی جیت ہو۔ پی ڈی ایم پلیٹ فارم سے اتفاق رائے سے فیصلے کیے جائیں گے ۔ دریں اثناء ذرائع کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پار ٹی بلاول بھٹو

زرداری نے ملاقات کے دورا ن استقامت سے جیل کاٹنے پر لیگی رہنما حمزہ شہباز کی تعریف کی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ملاقات کے دوران حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پنجاب میں عدم اعتماد سے متعلق پی ڈی ایم کا فیصلہ قبول کریں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.