خوشبو جیسا انسان

یہ چار سال پرانی بات ہے مجھے فون آیا اور دوسری طرف وہی گھمبیر آواز تھی ”کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو“ میں نے قہقہہ لگایا اور عرض کیا‘ آشنا خواتین کے ہوتے ہیں اور یہ عموماً چار پانچ بچے چھوڑ کر ان کے ساتھ فرار ہو جاتی ہیں“ دوسری طرف بلندو بانگ قہقہہ گونجا‘ قہقہہ تھما تو میں نے عرض کیا ”میرے خیال میں دو آپشن ہو سکتے ہیں‘ اول آپ نے غلطی سے ڈائل کر دیا‘ دوسرا آپ تجدید تعلقات چاہتے ہیں‘ آپ کی طرف سے ناراضگی ختم ہو چکی ہے“۔

دوسری بار قہقہہ لگایا اور بولے ”میں ہسپتال میں ہوں‘ میری کیموتھراپی چل رہی ہے‘ آپ خواب میں آئے اور ہم بڑی دیر تک گپ شپ

کرتے رہے‘ میں نے صبح اٹھ کر سوچا ناراضگیوں کا کیا فائدہ‘ ہم نے آخر مر ہی جانا ہے چناں چہ مولانا میں آپ کو پہلی فرصت میں فون کر رہا ہوں‘ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں‘ آپ جتنا جلد ہو سکے مجھے مل لیں“ میں دہل گیا اور میں فوراً ان کی طرف روانہ ہو گیا‘ ہسپتال میں وی آئی پی وارڈ میں پہنچا تو وہ کمرے سے غائب تھے‘ میں نے پریشانی میں نرس سے پوچھا‘ اس نے وارڈ کے پچھلے دروازے کی طرف اشارہ کر دیا‘ میں اس دروازے سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا موصوف تھڑے پر بیٹھ کر سگریٹ پھونک رہے ہیں اور ہسپتال کے مالیوں‘ ڈرائیوروں اور سویپروں کو لطیفے سنا رہے ہیں‘ میں نے انہیں حیرت سے دیکھا اور پوچھا‘ کیا آپ واقعی کیموتھراپی کرا رہے ہیں‘ انہوں نے فوراً زبان نکال کر دکھا دی‘ ان کی زبان روشنائی کی طرح نیلی تھی‘ میں بھی ان کے ساتھ تھڑے پر بیٹھ گیا‘ ہم شام تک وہاں بیٹھے رہے‘ وہ اپنے والد اور دادا کے بارے میں بتاتے رہے‘ اپنے ناکام عشقوں کی داستان سناتے رہے اور میر داغ سے لے کر فیض تک اساتذہ کا کلام سناتے رہے‘ میں نے اٹھتے ہوئے ان سے پوچھا ”کیموتھراپی کے دوران سگریٹ نوشی مضر نہیں ہوتی“ انہوں نے جواب دیا ”جب مرنا ہی ہے تو حسرتیں تو پوری کر لیں“۔
یہ ہمارے مشاہد اللہ خان تھے‘ مرحوم مشاہد اللہ‘ میری ان سے پہلی ملاقات 2007ءمیں لندن میں ہوئی تھی‘ پاکستان مسلم لیگ ن نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی تھی‘ میں میڈیا کے وفد میں شامل تھا‘یہ کانفرنس میں عطاءالحق قاسمی کے ”سگریٹ فیلو“ تھے‘ دونوں ہر آدھ گھنٹے بعد ایک دوسرے کی طرف دیکھتے تھے اور چپ چاپ باہر نکل جاتے تھے اور فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر سگریٹ نوشی فرماتے تھے جب کہ میں ہال میں بور تقریریں سن رہا تھا‘ مشاہد صاحب اچانک میرے پاس آئے اور کان پر جھک کر سرگوشی کی ”آپ کو قاسمی صاحب باہر بلا رہے ہیں“ میں ان کے ساتھ باہر آ گیا۔

قاسمی صاحب نے بڑے پیار سے پوچھا ”جاوید تم دنیا میں سب سے زیادہ کس سے پیار کرتے ہو“ میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”آپ سے“ قاسمی صاحب نے زور سے قہقہہ لگایا اور پھر کہا ”چل فیر تینوں میری قسم‘ تو سچ سچ دس توں زندگی وچ کدی سگریٹ پیتااے (تمہیں میری قسم‘ تم سچ سچ بتاﺅ کیا تم نے زندگی میں کبھی سگریٹ پیا) میں نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا‘ قاسمی صاحب نے مشاہد صاحب کی طرف دیکھا اور پنجابی میں کہا ”میں ٹھیک کہہ رہا تھا ناں یہ اصلی کنوارہ ہے‘ ابھی اس کی نتھ نہیں اتری“ ۔

میں نے ہنس کر عرض کیا ”سر سگریٹ کا کنوارے پن کے ساتھ کیا تعلق ہے‘ آپ حکم کریں میں نے کرنا کیا ہے؟ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر قاسمی صاحب بولے ”ہمارے سگریٹ ختم ہو گئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں ہمیں کوئی ایسا شخص سگریٹ لا کر دے جو سگریٹ نہ پیتا ہو“ میرا قہقہہ نکل گیا“ میں نے پوچھا ”یہ واہیات سی شرط نہیں؟“ قاسمی صاحب نے ہنس کر جواب دیا ” سیدھی بات ہے ہم اگلی ڈبی کسی تیسرے شخص کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے“ میں نے اپنی ڈائری مشاہد صاحب کو پکڑائی اور سگریٹ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا‘ یہ ایک مشکل کام تھا۔

لندن میں سگریٹ ہر جگہ نہیں ملتے‘ مجھے پیدل آکسفورڈ سٹریٹ جانا پڑا اور پھر چار کلو میٹر کا چکر لگا کر واپس آیا ‘ مجھے اس وقت پتا چلا لندن میں سگریٹ تلاش کرنے کے لیے واقعی انسان کا کنوارہ اور فٹ ہونا ضروری ہے‘ میں ہوٹل پہنچا تو میں نے دیکھا وہ دونوں فٹ پاتھ پر گملوں کے کنارے بیٹھ کر سگریٹ پی رہے ہیں‘ میں نے انہیں سگریٹ پکڑائی اور پوچھا ”آپ کو یہ رسد کہاں سے مل گئی“ قاسمی صاحب نے پورا منہ کھول کر قہقہہ لگایا اور کہا” ہمارے پاس آدھی ڈبی موجود تھی‘ ہم نے تمہیں اگلے محاذ کے بارود کے بندوبست کے لیے بھیجا تھا“اس کے ساتھ ہی مشاہد اللہ نے ایک خوف ناک شیطانی قہقہہ لگایا۔

یہ میری ان کے ساتھ پہلی ملاقات تھی‘ یہ شروع میں شرمائے شرمائے رہتے تھے‘ ان کے ساتھ ریاض نام کے ایک صاحب تھے‘ یہ ان کے دیرینہ دوست تھے اور لندن میں دیسی کھانوں کا کوئی ریستوران چلاتے تھے‘ مشاہد صاحب ہمیں دو تین مرتبہ ان کے ریستوران پر لے کر گئے‘ ان صاحب نے بڑے فخر سے بتایا‘ میں میاں صاحب کے آفس میں تین سال سے کھانا بھیج رہا ہوں‘ مشاہد صاحب ہلکے سے مسکرائے اور میز کے نیچے سے انہیں ٹھڈا مارا‘ میں نے یہ ٹھڈا دیکھ لیا اور ہنس کر کہا ”جانے دیں جو کھلاتا ہے وہ بتاتا بھی ہے“ ۔

مشاہد صاحب کے ساتھ اس کے بعد دوستی کا تعلق بن گیا‘ میں نے زندگی میں ان سے زیادہ کسی شخص میں اتنا شعری ذوق نہیں دیکھا‘ انہیں بلامبالغہ ہزاروں شعر زبانی یاد تھے اور یہ موقع محل کے مطابق شعر سناتے چلے جاتے تھے‘ یہ 2009ءمیں سینیٹر منتخب ہو گئے‘ سینیٹ میں ان کی تقریریں یادگار ہوتی تھیں‘ مشاہد صاحب اس زمانے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف تھے چناں چہ پیپلزپارٹی کے لوگ ان کی شعری توپ کا ہدف ہوتے تھے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی 2013ءمیں حکومت آ گئی اور یہ موسمیاتی تبدیلی کے وزیربن گئے۔ 2015ءمیں انہوں نے بی بی سی کو انٹرویو دیا اور اس انٹرویو میں انہوں نے الزام لگایا پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی کے ڈی جی جنرل ظہیر الاسلام عباسی تھے اور وزیراعظم نے جنرل راحیل شریف کو جنرل عباسی کی ایک فون کال سنائی تھی‘ یہ انٹرویو بم کی طرح پھٹا‘ وزیراعظم پر دباﺅ آیا‘ مشاہد اللہ خان اس وقت کسی کانفرنس کے سلسلے میں مالدیپ گئے ہوئے تھے۔

یہ واش روم میں تھے‘ انہیں واش روم میں فون پکڑایا گیا اور اس فون پر انہیں واپس آنے اور مستعفی ہونے کا حکم دے دیا گیا‘ یہ واپس آئے اور وزارت سے مستعفی ہو گئے‘ میں نے کالم میں واش روم اور ٹیلی فون کا واقعہ لکھ دیا‘ یہ مجھ سے خفا ہو گئے‘ ان کا کہنا تھا یہ واقعہ سو فیصد جھوٹ ہے‘ یہ مجھ سے سورس معلوم کرنا چاہتے تھے‘ میں ڈٹ گیا اور یوں یہ ناراض ہو گئے‘ یہ ناراضگی اس دن ختم ہوئی جس دن یہ کیموتھراپی کے لیے ہسپتال تھے اور صبح انہوں نے مجھے فون کیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ ن میں مشاہد اللہ خان اور پرویز رشید صرف دو ایسے لوگ ہیں جن کی میاں نواز شریف سے وفاداری کی قسم کھائی جا سکتی ہے‘ یہ دونوں نواز شریف کو ہر چیز سے زیادہ مقدم رکھتے ہیں لیکن میاں صاحب نے دھرنوں کے بعد دونوں کی قربانی دے دی‘ مشاہد اللہ خان سے15 اگست 2015ءکو استعفیٰ لے لیا گیا اور پرویز رشید کو ڈان لیکس کی بلی چڑھا دیا گیا جب کہ ن لیگ کا ہر شخص جانتا تھا ڈان لیکس میں پرویز رشید کا رتی برابر ہاتھ نہیں تھا اور مشاہد اللہ خان کا بی بی سی کو انٹرویو بھی پارٹی پالیسی تھی۔

پارٹی یہ انکشاف کرنا چاہتی تھی لیکن پارٹی کا کوئی عہدیدار یہ گھنٹی اپنے گلے میں باندھنے کے لیے تیار نہیں تھا‘ مشاہد اللہ سے پہلے ن لیگ کے ایک سینئر وفاقی وزیر نے ایک ٹاک شو میں بڑی تفصیل سے یہ سارا واقعہ بیان کیا تھا‘ وہ شو ریکارڈڈ تھا‘ وفاقی وزیر نے ریکارڈنگ کے بعد یہ حصہ بڑی مشکل سے کٹوایا تھا‘ انٹرویو کا وہ حصہ اگر چل جاتا تو مشاہداللہ کی جگہ کوئی اور ہوتا لیکن وہ صاحب بچ گئے اور مشاہداللہ بلی چڑھ گئے‘ میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں میاں نواز شریف کو مشاہداللہ خان اور پرویز رشید کا استعفیٰ نہیں لینا چاہیے تھا۔

وزیراعظم جانتے تھے یہ دونوں بے گناہ ہیں لہٰذا انہیں ان کے لیے ڈٹ جانا چاہیے تھا لیکن شاید سیاست اسی کو کہتے ہیں۔مشاہداللہ خان کی صحت آنے والے دنوں میں تیزی سے گرتی رہی مگر ان کے لہجے کا طنطنہ اور لفظوں کی شوخی بڑھتی چلی گئی‘ یہ جب بھی سینیٹ کے فلور پر تقریر کرتے تھے تو دنیا سنتی تھی اورزمانہ سردھنتا تھا‘ ہم ان سے جب بھی ملتے تھے یا ان کی آواز سنتے تھے تواس سے ہرگز یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا ہم کینسر کے کسی مریض سے مل رہے ہیں۔

یہ کینسر کے علاج بلکہ سرجری کے بعد بھی سگریٹ پیتے تھے اور لطیفے سناتے تھے‘ یہ جب شوخی میں آتے تھے تو یہ زنانہ مردانہ خصلتوں کو اکٹھا کر کے ایک عجیب سی گالی دیتے تھے اور سننے والے پیٹ پکڑ کر بیٹھ جاتے تھے‘ مشاہد صاحب ایک پیسے کے رودار نہیں تھے‘ مڈل کلاس میں پیدا ہوئے تھے اور مڈل کلاس ہی میں مرے تھے‘ یہ آخر میں شدید علیل تھے‘ سینیٹ کے ٹکٹوں کی باری آئی تو میاں نواز شریف نے 30سال کے ساتھی اور سینئر ترین مسلم لیگی راجہ ظفر الحق کو چھوڑ کر بسترمرگ پر پڑے مشاہداللہ خان کو ٹکٹ دیا‘ یہ پارٹی قیادت کی طرف سے اس شخص کی وفاداری اور بے لوث محبت کا اعتراف تھا۔

اللہ کی اس دنیا میں ہر زندہ مردہ شے نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘ ہم مٹی کی پیداوار ہیں اور ہم نے بالآخر اپنی پیدائش کا مقصد پورا کر کے اپنی مٹی کا رزق بن جانا ہے لیکن مشاہداللہ خان جیسے لوگ جانے کے لیے نہیں آتے‘ یہ ہمیشہ رہنے کے لیے آتے ہیں‘ یہ لوگ عادت کی طرح ہوتے ہیں‘ یہ لوگ چلے جاتے ہیں لیکن یہ اپنی عادتیں چھوڑ جاتے ہیں اور یہ عادتیں آنے والے لوگوں کے مزاج میں زندہ رہتی ہیں‘ مشاہد اللہ خان خوشبو تھے بلکہ رکیے یہ خوشبو کی عادت تھے او ر یہ عادت ہمیشہ زندہ رہے گی‘یہ کبھی نہیں مرے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *