رات بھر غائب رہنے والے 20پریذائیڈنگ افسران صبح پیش ہوئے تو غائب رہنے کی کیا وجہ بتائی؟دلچسپ انکشاف

اسلام آباد ( آن لائن) شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کب تک عوام کی امانت میں خیانت اور نا انصافی ہوتی رہے گی ،الیکشن چرانے کی بھونڈی کوشش کی گئی، 20 پریذائیڈنگ آفیسرز نتائج سمیت لاپتہ ہوئے، ،اوپر سے نیچے تک تمام سرکاری مشینری اور افسران بے بس ہیں ،الیکشن ختم ہونے کے 13 گھنٹوں بعد لوگ سامنے آتے ہیں ،ریٹرننگ آفیسرز نے تاخیر سے پہنچنے کے انوکھے بہانے پیش کئے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے ضمنی الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کی

ڈسکہ میں فائرنگ پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ انہوں نے کہا این اے 75 میں اضافی وقت مانگنے کے باوجود نہیں دیا گیا، انہوں نے کہا ریٹرننگ آفیسر کوئی بات سننے کو تیار نہ تھے، شدید دباؤ کا شکار تھے، 20 پولنگ سٹیشنز کا رزلٹ نہیں آیا، پریذائیڈنگ افسر بھی ریکارڈ سمیت غائب ہوگئے۔ شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ صوبائی سیٹوں پر ن لیگ جیت گئی ہے اور ڈسکہ میں کامیاب حاصل کرلی تھی تاہم رات کی تاریکی میں عملہ کے غائب کر کے نتائج کو تبدیل کر دیاگیا،ڈسکہ میں پی ٹی آئی کے مشیر ،معاون خصوصی اور وزرا اسلحہ کے ساتھ پورا دن گھومتے رہے کوئی پوچھنے والا نہیں ،ہم نے ریٹرنگ آفسر سے اضافی ٹائم مانگا لیکن نہیں دیا گیا ،ریٹرنگ افسر شدید دباو میں تھے ،20 پولنگ اسٹیشنوں کا رزلٹ نہیں آیا جو تقریبا 20 کلومیٹر دور تھے آر او آفس سے 70 کلومیٹر دور پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ پہنچ آیا ، ان کا کہنا تھا کہ عینی شاہدین کے مطابق 20 پولنگ اسٹیشنوں پر سویلین لوگ آئے اور پرائیوٹ گاڑیوں میں عملے کو لے گئے ،ان پرائیویٹ لوگوں کا تعلق زمینی مخلوق سے نہیں ہے،رات تین بجے کے بعد آئینی پنجاب بھی غائب ہوگئے ، انتظامیہ اور چیف سیکریٹری پنجاب بھی لاپتہ ہو گئے،یہ ملک میں ہو کیا رہا ہے۔ اوپر سے نیچے تک ساری انتظامی مشینری مفلوج ہے،چیف سیکریٹری بے بس ہے، آئینی بے بس ہے، انتظامیہ بے بس ہے،الیکشن کا عملہ پولنگ ختم ہونے کے تیرہ گھنٹے بعد آر او کے پاس پہنچا،ہم کب ووٹ کو عزت دیں گے، آج پورا پاکستان کہہ رہا ہے کہ ووٹ کو عزت دو۔یہ مقدمہ ہم پاکستان کے عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں ،جب تک ووٹ چوری ہو گا، آر او اغواء ہوں گے ملک نہیں چل سکتا۔ناانصافی کے نظام نہیں چلتا،جنرل الیکشن سے کچھ نہیں سیکھاگیا اور اب ضمنی الیکشن میں بھی ہم دھاندلی کر رہے ہیں،بھونڈے طریقے سے الیکشن چوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی،ریٹرننگ آفیسر کوئی بات سننے کو تیار نہ تھے، شدید دباؤ کا شکار تھے، شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ ہم نے پولنگ کیلئے اضافی وقت مانگا تھا، لیکن کوئی اضافی وقت نہیں دیا گیا،پریذائیڈنگ افسران نے بہانے پیش کئے ،لوگ بتاتے ہیں سویلین کپڑوں میں لوگ پریذائیڈنگ افسران کو لے گئے، کسی نے کہا عینک گم ہوگئی تھی، کسی نے کہا نیند آگئی تھی،جب یقین ہو ملک میں قانون نہیں تو ایسے کام کئے جاتے ہیں،پوری انتظامی مشنری بے بس کھڑی ہے، جب تک الیکشن چوری ہوتا رہے گا ملک نہیں چل سکتا، حلقے کے 361 پولنگ اسٹیشن ہیں، 341 کا رزلٹ آگیا،شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ چونکہ سینیٹ الیکشن کیلیے قومی اسمبلی کی سیٹیں درکار ہوں گی اس لیے یہ سب کام کروایا جا رہا ہے ،رات کو آئی جی پولس، چیف سیکرٹری پنجاب بھی الیکشن کمیشن عملے کے ساتھ غائب ہوئے ،اوپر سے نیچھے تک تمام سرکاری مشینری اور افسران بے بس ہیں ،الیکشن ختم ہونے کے 13 گھنٹوں بعد لوگ سامنے آتے ہیں ،سوال یہ ہے کہ کب تک ہم عوام کی امانت میں خیانت کرتے رہیں گے یہ ناانصافی کب تک ہوتی رہے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *