تین نئی موبائل کمپنیاں مقامی سطح پر پیداوار کا آغاز کرنے کیلئے تیار، موبائل مزید سستے ہونے کا امکان

اسلام آباد(این این آئی)ود ہولڈنگ ٹیکس میں حالیہ نرمی کے بعد تین نئی موبائل فون کمپنیاں مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاروں کو متعدد منظوریاں درکار ہوں گی کیونکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وزارت صنعت و پیداوار دونوں اس ضمن میں ریگولیٹری ادارے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں ملک میں اسمبلی اور پیداوار کی ترغیب دینے کیلئے مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز پر ڈبلیو ایچ ٹی کو ختم کرنے کا آرڈیننس جاری کیا۔

سرمایہ کاروں نے حکومت کی طرف سے مقامی طور پر اسمبلی کیے گئے موبائل فونز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے کے اقدام کو سراہا ہے کیونکہ گزشتہ دور میں درآمدی موبائل فونز مقامی طور پر بننے والے موبائل فونز سے سستے تھے۔انفینکس اور ٹیکنو موبائل فونز تیار کرنے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو عامر اللہ والا نے کہا کہ ‘اب ٹیکس میں چھوٹ کے بعد تقریباً 100 ڈالر کے مقامی طور پر اسمبل ہونے والے موبائل فون اور ایک امپورٹڈ موبائل کی قیمت میں تقریباً ایک ہزار 900 روپے کا فرق ہے’۔دریں اثنا انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں مینوفیکچرنگ یونٹس کے قیام کے لیے تین نئی کمپنیوں نے درخواست دی ہے۔ملک میں جو تین یونٹ قائم کیے جارہے ہیں ان میں فیصل آباد میں ویوو موبائل، لاہور میں ایئرلنک اور کراچی میں ایڈوانس ٹیلی کام شامل ہیں۔عہدیدار نے بتایا کہ ای ڈی بی ملک میں موبائل سیٹ مینوفیکچرنگ کے لیے پالیسی سیکرٹریٹ تھا۔ پی ٹی اے جو ٹیلی کام سیکٹر ریگولیٹر ہے، نے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ ریگولیشنز 2021 بھی جاری کیا ہے۔پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط میں مینوفیکچرنگ/اسمبلی پلانٹ کے قیام کی ضروریات کو اجاگر کیا گیا ہے جس میں زمین، مالی، سرمایہ کاروں کی قومیت وغیرہ کی تفصیل شامل ہے۔پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط میں مینوفیکچررز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک جامع لوکلائزیشن پلان کو یقینی بنائے جس میں ایک سال میں کمپنی کے تیار کردہ کل ڈیوائسز میں سے کم از کم 2 فیصد تک مقامی طور پر تیار شدہ پیکیجنگ شامل ہو۔لوکلائزیشن کا منصوبہ مینوفیکچررز کو پیداوار / اسمبلی کے دوسرے سال کے آخر تک پورا کرنا ہے۔اس میں کل تیار کردہ آلات میں سے 2 فیصد چارجرز اور 1 فیصد بلو ٹوتھ ہینڈز فری کی مقامی پیداوار کا کہا گیا ہے۔کمپنیاں دوسرے سال کے اختتام تک کل تیار کردہ آلات میں سے کم از کم 10 فیصد مقامی سطح پر تیار کریں گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *