پاکستان کا نام روشن کرنے والی زارانعیم کس معروف پاکستانی ایمپائرکی بھتیجی ہیں؟ جانئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) اے سی سی اے کےامتحان میں دنیا بھرمیں سب سے زیادہ نمبرحاصل کرنے والی زارا نعیم ڈارعالمی سطح پرپاکستان کا نام روشن کرنے والے ایمپائراورسابق پاکستانی فرسٹ کلاس کرکٹرعلیم ڈارکی بھتیجی ہیں۔نجی ٹی وی یہ اعزازحاصل کرنے کےبعد زارا کوملکی میڈیا میں بھرپورکوریج دی گئی اورمختلف مارننگ شوزمیں مدعو کیا گیا، زارا کے

انکل علیم ڈارنے بھی پاکستان کا نام روشن کرنے پرانہیں یوٹیوب پرمبارکباد دی۔واضح رہے کہ پاکستانی طالبہ زارا نعیم کو دسمبر2020میں ہونے والے اے سی سی اے(ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکائونٹنٹس) کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر لینے پر گلوبل پرائز ونر قرار دیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے اسکانز اسکول آف اکانٹینسی کی طالبہ زارا نعیم نے اے سی سی اے کے تمام طلبہ میں فنانشنل رپورٹنگ کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔ خیال رہے کہ اکانٹینسی کے شعبے میں اے سی سی اے کی تعلیم کو عالمی معیار تصور کیا جاتا ہے اور دنیا کے 179ممالک میں اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ ملک کا نام روشن کرنے پر حکومت پاکستان کی جانب سے بھی زارا نعیم کی کامیابی کو سراہا گیا ہے اور انہیں مبارکباد دی گئی ہے۔حکومت پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر اکائونٹ سے کی گئی ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ‘پاکستان کو فخر ہے کہ زارا نعیم کو اے سی سی اے میں سب سے زیادہ نمبر لینے پر گلوبل پرائز ونر قرار دیا گیا ہے ۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے بھی ٹوئٹ میں کہا کہ دنیا بھر میں اے سی سی اے امتحان میں ٹاپ کرکے زارا نعیم ڈار قوم کا فخر بن گئی ہیں۔ زارا نعیم نے اپنی کامیابی کی وجہ اپنے والد کو قرار دیا ہے جو ہمیشہ خاندان کی تمام لڑکیوں کو اپنے خوابوں کو پورا کرنے اور مصنوعی رکاوٹوں کو توڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے والد نے ماسٹرز تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور وہ ماضی میں فوج میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ملک کا نام روشن کریں۔زارا نعیم نے کہا کہ میرے والد میرے لیے رول ماڈل ہیں، میںنے انہیں فوج میں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے دیکھا جس سے متاثر ہوکر میں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کی ۔ اے سی سی اے کا انتخاب کرنے پر زارا نعیم نے کہا کہ یہ میرا فطری انتخاب تھا، اکثر فوجی خاندان چند سالوں بعد دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں تو میں ہمیشہ سے جانتی تھی کہ مجھے ایک ایسی تعلیم کی ضرورت ہے کہ عالمی سطح پر کہیں بھی جایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مفروضے کو ختم کرنا چاہتی تھیں کہ فنانس اور اکائونٹینسی مردوں کے لیے ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *