بجلی کا بھاری بل دیکھ کر غریب شہری کو فالج ہو گیا

اسلام آباد(آن لائن)آئیسکو حکام نے وفاقی دارالحکومت کے غریب خاندان کو ایک ماہ کا بل ایک لاکھ 2ہزار روپے بھیج دیا ہے جس کے نتیجے میں خاندان کا سربراہ بل لیتے ہی ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے۔میٹر نمبر 1140304309 ہے اور یہ فرانس کالونی کے رہائشی پطرس مسیح نوید کو بھاری بھرکم بل بھیجا گیا ہے جس

کا گھر ایک کمرہ پر مشتمل ہے اور صرف ایک بلب استعمال کرتا ہے۔بل کی تفصیلات میں اس صارف کو پہلے ہمیشہ ہر ماہ ایک ہزار یا دو ہزار کے درمیان بل بھیجتے رہے لیکن دسمبر میں اس صارف کو یکدم ایک لاکھ دو ہزار کا بل بھیج دیا ہے جس کو دیکھتے ہی صارف کو فالج کا حملہ ہوا اور صارف ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے آئیسکو حکام نے بتایا کہ صارف کو یہ بل 2017 کے بقایات سے ڈالا گیا ہے جس کے کوئی ثبوت نہیں ہیں اور اگر2017 میں لاکھوں روپے بل تھا تو چار سال تک یہ صارف کو بجلی کی سپلائی کیسے جارہی رکھی گئی تھی؟ وفاقی دارالحکومت کے کچی آبادی کے مکین پطرس مسیح نے وزیراعظم عمران خان سے استدعا کی ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور زیادہ بل بھیجنے والے کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور حکام کو یہ ہدایت کی ہے کہ ایک ہزار کا بل وصول کرکے بجلی کی سپلائی برقرار رکھی جائے۔دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن نائب صدریوتھ ونگ لاہورچودھری شاہدعلی خان نے کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ مجبور و بے کس لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان خود تو بجلی کے بل نذرآتش کرتے رہے اور اب ہر ماہ دو سے تین بار بجلی گیس پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کے نرخوں میں اضافہ

کرکے خود مہنگائی کو جواز فراہم کرتے ہیں جو ان کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے،چودھری شاہدعلی خان نے کہا کہ ملک میں ہوشربا مہنگائی کی اصل وجہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیاں اور اہلیت کی کمی ہے جس کی وجہ سے عالمی مالیاتی ادارے عوام دشمن معاشی پالیسیاں مرتب کرکے لوگوں کے مسائل میں بھاری

اضافے کا موجب بن رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت تین برس میں قوم کو کسی طرح کا بھی ریلیف دینے میں ناکام ہے لنگر خانوں اور مرغیاں پالنے سے غربت نہیں غریب ہی ختم ہو سکتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ نئے پاکستان اور تبدیلی کے نام پر خود اقتدار کے مزے کرنے والے کرپٹ اور نااہل حکمران ملک کو روزبروز کمزور کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *