پاکستانی طالبہ نے اے سی سی اے کے امتحان میں اعلیٰ کارکردگی سے ملک کا نام روشن کر دیا

کراچی (این این آئی)پاکستانی طْلَبہ،ایسوسی ایشن آف چارٹرڈسرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے)کے گلوبل پروفیشنل اکاؤنٹنسی کے امتحانات میں، اعلیٰ کارکردگی کے ذریعے ملک کا نام روشن کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔لاہور سے تعلق رکھنے والی اے سی سی اے کی طالبہ مسماۃ زارا نعیم کو،دسمبر، 2020ء میں منعقد

ہونے والے، اے سی سی اے کے فنانشل رپورٹنگ کے امتحانات میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر عالمی انعام یافتہ قرار دیا گیا ہے۔اکاؤنٹنسی کے شعبے میں،اے سی سی اے کی کوالیفکیشن کو عالمی معیار تصور کیا جاتا ہے اور دنیا کے 179ممالک میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اِس کوالیفکیشن سے، دنیا بھر میں، لوگوں کے لیے، انتہائی پر وقار اور تسلی بخش کیرئیر کے مواقع کے لیے دروازے کھلتے ہیں۔ مسماۃ زارا، اپنی اِس کامیابی کا کریڈٹ اپنے والد کو دیتی ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کی لڑکیوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی کہ وہ تمام مصنوعی رکاوٹوں کوعبور کر کے،اپنے خواب پورا کرنے کی کوشش کریں۔پاک فوج میں ایک اہم عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد،مسماۃ زارا کے والد نے خود بھی ماسٹرز ڈگری حاصل کی اوراپنے بیٹی کے بارے میں بھی، ملک کے لیے، اسی طرح کے بڑے کارنامے انجام دینے کے حوالے سے، انتہائی پرجوش تھے۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسماۃ زارا نے کہا:”میرے والد، میرے لیے، حقیقی معنوں میں ایک مثالی شخصیت ہیں۔ میں اْن کو، فوج میں ترقی کرتا ہوئے دیکھ کربڑی ہوئی ہوں اور اِس بات نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے کہ میں بھی اْن کے نقش قدم پر چلوں۔“مسماۃ زارا نے مزید کہا کہ”اْن کے سونے کے تمغے اور پھر ایم بی اے کی ڈگری نے مجھے اِس بات پر

مجبور کیا کہ میں بھی خود کو چیلنج دوں اور،خود کو مطالعے کے لیے مخصوص کر کے، اِس وراثت کو آگے بڑھاؤں۔“ کووِڈ19- کی وجہ سے عالمی سطح پر غیر معمولی انتشار کے باوجود اے سی سی اے اِس قابل رہا کہ دنیا بھر کی مارکیٹوں میں سے زیادہ تر مارکیٹوں میں تقریباً 153,000 امتحانات منعقد کر سکے۔ان امتحانات کے

دوران،سرکاری احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے،طلبہ کی صحت اور تحفظ کے لیے اضافی اقدامات بھی کیے گئے تھے۔مسماۃ زارا نے اے سی سی اے کا انتخاب کیوں کیا، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مسماۃ زارا نے کہا:”اے سی سی اے میرے لیے ایک قدرتی انتخاب تھا۔ فوج سے تعلق رکھنے والے اکثر خاندان چند سالوں بعد ایک جگہ

سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں، لہٰذا مجھے ایسی کوالیفکیشن کی ضرورت تھی جس میں یقینی طور پر لچک پائی جاتی ہو اور عالمی سطح پر نقل پذیری کی گنجائش بھی موجود ہو۔ تقریباً 179 ممالک میں 527,000 سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر نے اور ایسے امتحانات میں حصہ لینے والے طلبہ کے لیے اے سی سی اے بہترین انتخاب

ہے جنہیں مختلف مقامات پر منتقل ہونا پڑتا ہے۔“اکاؤنٹنسی اور فنانس کا پیشہ صرف مردوں کے لیے، اِس مفروضے کا خاتمہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا:”اب ایسا نہیں ہے۔ اے سی سی اے جیسے ادارے خواتین کو بھی رسائی فراہم کر رہے ہیں اور آپ کو حیرت ہوگی کہ اب اے سی سی اے میں طلبہ کی58 فیصدتعداد لڑکیوں پر

مشتمل ہے اور پیشہ ور اکانٹنٹس بننے کی خواہش رکھنے والی خواتین کی یہ تعداد ہمیشہ کہیں زیادہ ہے۔مسماۃ زارا بڑے خواب دیکھتی ہیں اور اے سی سی اے کی رکنیت حاصل ہونے کے بعد خوداپنی کنسلٹنسی فرم قائم کرنے کے لیے پْر عزم ہیں۔انہیں یقین ہے کہ عالمی سطح پر تسلیم کی جانے والی قابلیت اور اے سی سی اے کی جانب سے

ارکان کو پیش کی جانیوالی رکنیت اور تعلقات کے باعث، اْن کی فرم اِس قابل ہو گی کہ بین الاقوامی کلائنٹس حاصل کر سکے۔ دی ایسو سی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس، اْن صلاحیتوں اور قابلیتوں کا انتہائی سخت امتحان لیتی ہے جن کی آج کے اکاؤنٹنٹس کو ضرورت ہے اورساتھ ہی اخلاقیات اور پیشہ ورانہ مزاج میں مستحکم روئیے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔یہ کوالیفکیشن طلبہ کو، بطور قابل اور اخلاقیات پر یقین رکھنے والے فنانس پروفیشنل کے طور پرنہایت مفیدکیرئیر کے لیے تیار کرتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *