سینٹ کی ایک سیٹ کا ریٹ 50سے 70کروڑ روپے لگ چکا ، سب سے زیادہ مال کس نے بنایا ؟ حیران کن انکشاف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن /این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹ انتخابات کے سلسلے میں منظر عام پر آنے والے ویڈیو اسکینڈل پر رد عمل میں کہا ہے کہ ویڈیو سے ثابت ہوتا ہے سیاست دان سینیٹ کے لیے ووٹ کی خرید و فروخت کرتے ہیں ۔سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنے ٹوئٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے قوم کی اخلاقیات کو تباہ کیا،

اور ملک کو قرضوں کے دلدل میں دھکیل دیا، کرپشن اور منی لانڈرنگ ہماری سیاسی اشرافیہ کی افسوس ناک کہانی ہے۔انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا سیاست دان پیسہ خرچ کر کے اقتدار حاصل کرتے ہیں، پھر اقتدار میں آ کر اپنی حیثیت سے لوگوں کو خریدتے ہیں، بیوروکریٹ، میڈیا اور فیصلہ سازوں کو خریدا جاتا ہے، اس ساری خرید و فروخت کا مقصد قومی دولت لوٹنا اور غیر ملکی اثاثے بنانا ہے۔ وزیر اعظم نے لکھا کہ پی ڈی ایم کا مقصد اسی کرپٹ سسٹم کو دوام دینا ہے، لیکن ہم ملک کی جڑوں کو کمزور کرنے والی کرپشن اور منی لانڈرنگ کو ختم کر کے دم لیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ انتخابات میں ارکان اسمبلی کو خریدنے سے متعلق تہلکہ خیز ویڈیو سامنے آئی ہے، سال 2018 کے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی ا?ئی ارکان کو بلا کر نوٹوں کے انبار لگا کر خریدا گیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں سینیٹ الیکشن کےکرپٹ نظام کی سپورٹ کررہی ہیں ، سینیٹ کی ایک سیٹ کا ریٹ50 سے 70کروڑ روپے لگ چکا ہے، ووٹوں کی خریدوفروخت میں سب سےزیادہ مال مولانا فضل الرحمان نےبنایا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سیکریٹ ووٹنگ پرحکومت کو اپوزیشن سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں، سینیٹ کی ایک سیٹ کا ریٹ50 سے 70کروڑ روپے لگ چکا ہے، کیسے ممکن ہے پیسہ لگا کر سینیٹر بننے والا پیسہ نہیں بنائے گا۔عمران خان نے کہا کہ لوچستان میں سینیٹ کے1ووٹ کی قیمت50سے 70کروڑ لگ رہی ہے ، آج نہیں کئی دفعہ پہلےبھی مجھے پیسوں کے عوض سیٹ بیچنے کی آفر ہوئی، ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ سینیٹ سیٹ بیچنے کیلئےرابطے کیے گئے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہاہے کہ ابھی سے سینیٹ نشست کے ریٹ لگنا شروع ہوگئے ہیں ،یہ پہلی مرتبہ نہیں، ماضی میں ممبر اپنا ضمیر بیچتے اور پیسہ اکٹھا کرتے تھے،ایوان کی اخلاقی قوت جمہوریت کی اصل طاقت ہے،پہلی بار عمران خان نے حکومت کی پرواہ کیے بغیر 20 ارکان کی رکنیت معطل کی، اپوزیشن کا کہنا حکومت گھبرائی ہوئی ہے یہ ان کی غلط فہمی ہے،سینیٹ انتخابات شفاف سے ہونے پر بعض اراکین قومی اسمبلی کی دیہاڑیاں ختم ہوجائینگی،حکومت نے آئین کے دائرے میں الیکشن میں ضمیر بیچنے کوختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے متعلق سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کریگی ہمیں قبول ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *