600 ہائوسنگ سوسائٹیز غیر قانونی قرار عوام کے کھربوں روپے ڈوب گئے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)ایل ڈی اے نے لاہور میں 600کے قریب  غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کا انکشاف کر دیا،تفصیلات کے مطابق وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہائوسنگ کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں

سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نور الامین مینگل سمیت دیگر افسران نے بریفنگ دی۔ کمیٹی نے صوبہ میں غیر قانونی ہاسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کے لائحہ عمل پر غور کیا۔ راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ بیس سال پرانی غیر قانونی سوسائٹیاں تا حال نہ ریگولرائز ہوئیں اور نہ ہی کسی کے خلاف کارروائی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں لوگوں کی عمر بھر کی جمع پونجی ان سوسائٹیوں میں ڈوب چکی ہے، ہم نے مستقبل میں سوسائٹیوں کی لوٹ مارکا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کرنا ہے۔ وزیر قانون نے آئندہ اجلاس میں پنجاب بھر کی غیر قانونی سوسائٹیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ نور الامین مینگل نے تجویز دی کہ موثر کارروائی کیلئے غیر قانونی سوسائٹیوں کو قوانین پر پورا اترنے والی، نہ اترنے والی اور دیگر سوسائٹیوں کی کیٹیگری میں تقسیم کیا جائے۔ پہلی کیٹیگری والی سوسائٹیوں کو ریگولرائز کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 596 غیر قانونی سوسائٹیوں میں سے 246 گرین ایریا میں بنی

ہیں۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے گرین ایریاز پر ہائوسنگ سوسائٹیوں کیخلاف کیس کی سماعت23 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے ایل ڈی اے میں افسروں کی ڈیپوٹیشن پر مسلسل تقرری پر تحریری وضاحت اورڈی جی اینٹی کرپشن کو گرین ایریاز پر بنائی گئی ہائوسنگ اسکیموں

کی رپورٹ سمیت طلب کر لیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ ہر شہری بلاواسطہ ٹیکس دے رہا ہے، ریاست اتنی ذمہ داری تو ادا کر دے کہ ایک شہری جو ماچس خریدنے پر بھی ٹیکس دیتا ہو کم از کم اسکے مرنے پر قبر تو

ریاست کھود کر دے دے۔ لاہور ہائیکورٹ نے گرین ایریاز پر ہائوسنگ سوسائٹیوں کی تعمیر کیخلاف کیس کی سماعت کی تو ایل ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسروں کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی۔چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے پوچھاکہ یہ جو کلکٹر ہیں ان کی تو

زندگیاں یہاں گزر گئی ہیں، ان کے علاوہ اور کوئی تحصیلدار نہیں تھا؟۔ ایل ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ حکومت نے ان افسروں کو ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا تھا۔چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ ڈیپوٹیشن کا طریقہ کار ہوتا ہے، یہ جو لینڈ ایکوزیشن کلکٹر 2014 سے لگا ہوا ہے

کیا حکومت کا بہت چہیتا ہے؟ ایک کلکٹر 2002 سے اور دوسرا 2009 سے لینڈ ایکوزیشن کلکٹر لگا ہوا ہے، مجھے بتائیں ڈیپوٹیشن کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے؟ عثمان غنی 2002 سے لینڈ ایکوزیشن کلکٹر ڈیپوٹیشن پر تعینات ہے، ایل ڈی اے کا چیئرمین کون ہے؟ وزیر اعلی اور وائس چیئرمین ایل ڈی اے

تحریری وضاحت دیں کہ ڈیپوٹیشن پر مسلسل وہی افراد کیوں تعینات کئے گئے، وزیر اعلی بطور چیئرمین ایل ڈی اے تحریری وضاحت دیں، وائس چیئرمین ایل ڈی اے بھی تحریری وضاحت دیں، تحریری وضاحت کے بعد دیکھوں گا کہ وزیراعلی کو بلا کر وضاحت لینی ہے یا نہیں۔

جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ ہر شہری بلاواسطہ ٹیکس دے رہا ہے، ریاست اتنی ذمہ داری تو ادا کر دے کہ ایک شہری جو ماچس خریدنے پر بھی ٹیکس دیتا ہو کم از کم اسکے مرنے پر قبر تو ریاست کھود کر دے دے، کبھی سوچا ہے کہ گھر میت پڑی ہے اور 25 سے 30 ہزار روپے قبر

کھدائی کی رقم اکٹھی کرنے کیلئے لوگوں کے گھروں میں جا رہا ہو، اگر جگہ تھوڑی ہے تو میں میانوالی اور ڈیرہ غازی خان کے تمام ترقیاتی پراجیکٹس پر کام روک دیتا ہوں، قبرستانوں کیلئے آپ زمین ایکوائر کر لیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا گرین ایریاز پر بنائی گئی سوسائٹیز پر

کام کرنے کا حکم دیا تھا اس کا کیا گیا؟۔سرکاری وکیل نے کہا کہ اینٹی کرپشن نے گرین ایریاز پر بنائی گئی ہائوسنگ اسکیموں کی فہرست تیار کی ہے۔عدالت نے وائس چیئرمین ایل ڈی اے کو تحریری وضاحت دینے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر ڈی جی اینٹی کرپشن کو گرین ایریاز پر بنائی گئی ہائوسنگ اسکیموں کی رپورٹ سمیت طلب کر لیا۔عدالت نے ایل ڈی اے میں افسروں کی ڈیپوٹیشن پر مسلسل تقرری پر تحریری وضاحت طلب کرتے ہوئے سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *