بھارتی فوج میں اختلافات شدت اختیار کر گئے 2 جنرلزلڑ پڑے،بھارتی میڈیا نے بھانڈا پھوڑ دیا

نئی د ہلی (آ ن لائن ) پاکستان پر حملے کرنے اور گْھس کر مارنے کی گیدڑ بھبھکیاں دینے والی بھارتی فوج کے آپسی اختلافات ہی شدت اختیار کر گئے۔ بھارتی میڈیا نے ا پنی ہی فوج کا بھانڈ ا پھوڑ دیا ۔ بھارتی جنرلز آپس میں ہی لڑ پڑے۔ کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اور لیفٹیننٹ جنرل نے

ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔لیفٹیننٹ جنرل کلیر آرمرڈ کور آفیسر جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ریپسوال انجینئر ہے۔ دونوں جنرلز کا تعلق مشہور فوجی خاندانوں سے ہے۔انکوائری عدالت جنوب مغربی کمانڈ کے کام اور ان دونوں سینئر افسران کے مابین پائے جانے والے اختلافات کا اس کمانڈ پر پڑنے والے اثر کا جائزہ لے گی۔ اختلافات شدت اختیار کرنے اور لڑائی بڑھنے پر انڈین سینٹرل آرمی کمانڈ نے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ تحقیقات سینٹرل آرمی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آئی ایس چمن کریں گے۔ دونوں جنرلز نے اختلافات میں شدت آنے پر شکایات سے بھرپور خطوط بھارتی آرمی چیف کو لکھے تھے۔ دونوں جنرلز میں راجھستان اور پنجاب کی سرحدی سکیورٹی پر اختلاف پایا جاتا تھا۔ واضح رہے کہ بھارت مضحکہ خیز اور بھونڈے دعوے کرنے میں سب سے آگے ہے ، اور اگر بات پاکستان یا پاکستان کی خفیہ ایجنسی پر الزامات عائد کرنے کی ہو تو بھارت کسی منطق کے بغیر ہی بیان بازی شروع کر

دیتا ہے اور یہی حال بھارتی میڈیا کا بھی ہے جو اپنی حکومت کی ایما پر ایسی ایسی رپورٹس بناتا ہے جس سے نہ صرف بھارت کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوتی ہے بلکہ بھارتی میڈیا کی عالمی سطح پر کریڈیبلیٹی بھی متاثر ہوتی ہے۔بھارتی میڈیا نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی پر

جان بوجھ کر بھارتی فوج میں کمزور جوانوں کو بھرتی کروانے کا ایک بھونڈا الزام عائد کیا تھا ،یہی نہیں بھارت میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کا الزام پاکستان پر عائد کیا جاتا ہے۔ ایک طرف جہاں بھارتی افواج ، حکومت اور میڈیا پاکستان پر الزام تراشی میں مصروف رہتا ہے وہیں بھارت

کی اپنی فوج میں موجود اختلافات کی لہر میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، سینئیر افسران کی لڑائی میں جونئیرز افسران کی شامت آتی ہے اور بھارتی فوج میں شامل سپاہیوں اور دیگر چھوٹے افسران کا مورال ڈاؤن ہو جاتا ہے ، اس حوالے سے بھارت فوجیوں کی کئی ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں جن میں بھارتی جوانوں میں بھارتی فوج میں پائے جانے والے اختلافات اور چھوٹے رینک کے افسران سے روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کی شکایات کی تھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *