وزیراعظم عمران خان نے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد اضافے کی اصولی منظوری دیدی

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی اصولی منظوری دیدی گئی ،گریڈ ایک تا 16 تک کے 3 لاکھ 70 ہزار ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ۔ صوبائی حکومتوں کو تنخواہوں کے معاملات خود دیکھناہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق منگل کو کابینہ اجلاس میں تنخواہوں کے معاملے پر

وزیردفاع پرویز خٹک نے بریفنگ دی۔ اجلاس میں مختلف اداروں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور سربراہان کی خالی آسامیوں کی رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ سرکاری محکموں میں خالی پوسٹوں کی رپورٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے پیش کی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور محکموں میں سی ای او اور سربراہان کی 80 پوسٹیں خالی ہیں ۔وزیراعظم نے سرکاری محکموں کے سربراہان کی پوسٹیں خالی ہونے کا سخت نوٹس لیا ۔ وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں متعلقہ سیکرٹری کی سرزنش کرتے ہوے کہا کہ ایسا ہوا کیوں۔ انہوں نے ، سختی سے حکم دیا کہ ایک ہفتے میں رپورٹ دیں، کہ سربراہاں کی پوسٹیں کیوں خالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار کا تعین کریں ۔وزیراعظم نے کہا کہ خالی ہونے سے بھی پہلے تقرریوں کی چھ ماہ سے پلاننگ کر لی جاتی ہیں۔اسلام آباد میں میٹرو بس سروس منصوبے کے بارے میں بریفنگ اسد عمر کے اجلاس میں حاضر نہ ہونے کے باعث آئندہ اجلاس تک ملتوی کی گئی۔کابینہ نے مطہر نیاز رانا کو چیف سیکرٹری بلوچستان تعینات کرنے کی منظوری بھی دے دی۔کابینہ اجلاس میں آزاد کشمیر۔ فاٹا اور دیگر علاقوں سے سگریٹ سمگلنگ کی رپورٹ پیش کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال قومی خزانے کو 140 ارب روپے سمگلنگ کے باعث نقصان پہنچ رہا ہے۔ کابینہ نے مسرور خان کو چئیرمین اوگرا تعینات کرنے کی منظوری بھی دی ہے ۔کابینہ کو مسرور خان سمیت چئیرمین کے لئیے تین نام دئیے گئے تھے۔ اجلاس میں پیش کی جانیوالی رپورٹ میں کہا گیا سمگل شدہ سگریٹ 20 روپے کا اور ٹیکس دینے والی کمپنیاں 90 روپے میں دیتی ہیں۔ وزیراعظم نے سگریٹ کی سمگلنگ کے معاملے کا بھی نوٹس لیتے ہوے کہا یہ پہلے بھی میرے علم میں آئی تھی، اب معاملہ نظرانداز نہیں کر سکتے،وزیراعظم نے ایف بی آر اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا لگتا ہے اس معاملے میں بھی ایف بی آر کی ملی بھگت ہے، کیا ایران سے تیل کی سمگلنگ میں ایف بی آر نہیں ملی ہوتی تھی ، وزیراعظم نے کہا کسٹم حکام، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر حکومت سے بھی ٹریکنگ سسٹم پر بات کی جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *