کنٹریکٹ ایجوکیٹرز کیلئے خوشخبری سپریم کورٹ نے حکومت کی اپیل پر تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

لاہور(این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے کنٹریکٹ اساتذہ کو تقرری کی تاریخ سے مراعات دینے کے خلاف چیف سیکرٹری پنجاب کی اپیل خارج کردی ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا ۔ٹربیونل کا اساتذہ کو تقرری

کی تاریخ سے مراعات دینے کا فیصلہ برقراررکھتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ حکومت کیا اساتذہ کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہی ہے،حکومت چاہتی ہے کہ کیا اساتذہ کو ملک سے باہر نکال دیں،اساتذہ معاشرے کا قابل احترام طبقہ ہے۔اساتذہ کو تقرری کی تاریخ سے مراعات دی جائیں۔صدر ٹیچرز ایسوسی ایشن پنجاب سمیت دیگر عدالت میں پیش ہوئے ۔پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ ٹربیونل نے اساتذہ کو تقرری کی تاریخ سے مراعات دینے کا حکم دیا تھا،اساتذہ مراعات لینے کاقانونی استحقاق نہیں رکھتے ،ٹربیونل کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے ، استدعا ہے کہ کالعدم قرار دیا جائے۔دوسری جانب ملک بھر کے سرکاری ملازمین، پنشنرز، صنعتی کارکنوں اور محنت کش طبقہ کی ساٹھ سے زائد تنظیموں پر مشتمل اتحاد ‘ آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک’ نے وزیراعظم کی قائم کردہ مذاکراتی کمیٹی کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر 17 فروری کو پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے بھرپور احتجاجی

پڑائو کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور حکومت پر واضح کردیا ہے کہ 17فروری ملک بھر کے ملازمین، پنشنرز اور مزدوروں کے حقوق کے حصول کا دن ہوگا۔ اس امر کا اظہار آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک کے رہبر حاجی محمد اسلم خان نے رہبر کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے

بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بہت وقت دیا گیا لیکن حکومت گذشتہ سال 14اکتوبر کے ڈی چوک کے دھرنے میں وفاقی وزراء کے ساتھ طے پانے والے نکات پر مذاکرات کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں اور’ تقسیم کرو اور وقت گزارو’ کی پالیسی پر

عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار اور محنت کش طبقے کو ان کے جائز حقوق دینے کے بجائے آئی ایم ایف کی غلامی کررہی ہے واپڈا، اوجی ڈی سی ایل، سوئی ناردرن گیس، سول ایوی ایشن اتھارٹی، پی آئی اے، ریلوے، اسٹیل ملز، سرکاری ہسپتالوں بشمول پمز،

ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن جیسے اہم اداروں کی نجکاری ملک کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دینے کے مترادف ہے حکومت کا مزید کوئی لالی پاپ قبول نہیں کریں گے اگر حکومت نے 17 فروری سے قبل ہمارے مطالبات

تسلیم نہ کئے تو پھر 17فروری کوملک بھر کے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور محنت کشوں کا رخ اسلام آباد کی جانب ہوگاحاجی اسلم خان نے کہا کہ آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک ملک کے تمام محنت کش طبقہ کی مشترکہ تحریک ہے جو اپنے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈز کی

مکمل منظوری تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ انھوں نے کہا موجودہ حکومت محنت کش طبقے کے لیے بدترین حکمران ثابت ہوئی ہے۔ عمران خان مسند اقدار پر بیٹھ کر عوام سے کئے گئے تمام وعدے بھول گئے ہیں۔ حکومت کو 17 فروری تک کا وقت دیتے ہیں اس سے قبل مطالبات

منظور نہ کیے گئے تو لاکھوں ملازمین پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے پرامن احتجاجی پڑاؤ ڈال دیں گے۔ انہوں نے مطالبات ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت قومی اداروں کی نجکاری کا عمل فوری طور پر روک دے اور تمام نکالے گئے ملازمین بحال کرے، تمام ڈیلی ویجز

اور کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کا اعلان کرے، تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ یکم جنوری 2021 سے کرے، پنشنرز کی مراعات میں اضافہ کرے اور اپ گریڈیشن سے محروم تمام کیڈرز کی فوری اپ گریڈیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کرے، تمام

اداروں کے ملازمین کے لئے یکساں ٹائم سکیل پروموشن کا نظام رائج کرے اور تنخواہوں و مراعات میں تفریق کا خاتمہ کرے، ایم ٹی آئی کا کالا قانون واپس کرے اور سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری بند کی جائے، مزدور وں کی کم از کم اجرت 30 ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کے ساتھ مفاہمانہ جذبے کے ساتھ 3ماہ تک مذاکرات کا سلسلہ جارکھا اور 14 اکتوبر سے چار ماہ کا وقت دیا لیکن کسی ایک مطالبہ پر بھی اب تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ حکومت ملازمین کو تقسیم کرنے سمیت بیوروکریسی کے ذریعے مختلف حربے استعمال کررہی ہے لیکن ان کے یہ حربے کسی کام نہیں آئیں گے، سرکاری ملازمین، پنشنرز اور لیبر ورکرز اب جاگ چکے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول کیلئے متحد ہیں۔ اگر ان کے جائز مطالبات حل نہ کیے گئے تو اس ملک کا محنت کش طبقہ اپنے حق کیلئے انقلاب برپا کردیگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.