خواجہ سعدرفیق کے بعد ایک اور ن لیگی رہنما کے خلاف نیب نے تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آئن لائن )خواجہ سعد رفیق کے بعدن لیگی سینئر رہنما رانا مشہود اور دیگر کیخلاف بھی نیب نے تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ، انویسٹی گیشن رپورٹ چیئرمین نیب جاوید اقبال کو بھجوا دی گئی ۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ لیگی رہنما رانامشہودکیخلاف بےضابطگی کےثبوت سامنے نہیں آسکے ہیں ، عدم شواہد کی بنیاد پر تحقیقات بند کرنے کا

فیصلہ کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے خلاف لوکو موٹیو انکوائری بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس حوالے سے تفصیلات میں نیب ذرائع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ڈی جی نیب لاہور کی جانب سے تفتیشی ٹیم کی انکوائری بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے ، جس کی رپورٹ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو بھجوا دی گئی ہے ، چیئرمین نیب انکوائری بند کرنے کی حتمی منظوری دیں گے۔واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد سمیت دیگر پر ان کے دور وزارت میں ریلوے کے لیے مہنگے داموں لوکو موٹیو خریدنے کے الزامات تھے۔ دوسری جانب خواجہ سعد رفیق کے خلاف احتساب عدالت نے پیراگون ہائوسنگ سٹی ریفرنس میں مزید دو گواہوں اسلم گجر اور محمد سلیم کو طلب کرلیا ،دوران سماعت خواجہ سعد رفیق کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی بعد ازاں امجد پرویز نے نیب پراسیکیوٹر سے معذرت کی، احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے پیراگون ہائوسنگ سٹی ریفرنس کی سماعت شروع کی تو خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق عدالت میں پیش ہوئے جبکہ خواجہ برادران کے وکیل اشتر اوصاف اور امجد پرویز ایڈووکیٹ نے گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایل ڈی اے اقصی جبیں پر جرح کی۔نیب کی گواہ اقصی جبیں نے کہا کہ میں 2014 سے ایل ڈی اے میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کررہی ہوں، ایل ڈی اے میں بطور سی ایم بی میں کام کررہی ہوں، خواجہ سعد رفیق کے وکیل کے سوال پر نیب گواہ نے بتایا کہ نیب کے تفتیشی افسر کو پیراگون سوسائٹی کا جو ریکارڈ دیا گیا وہ تصدیق شدہ ہے اور اس میں خواجہ سعد رفیق کا نام نہیں جب کہ نیب کے تفتیشی افسر کا لیٹر ریکارڈ کے ساتھ لف کیا ہے۔عدالت نے لیٹر کی کاپی خواجہ برادران کے وکلا کو فراہم کرنے کا حکم دیا جبکہ وکیل کے استفسار پر گواہ نے بیان دیا کہ نیب لاہور نے 2017 کو لیٹر ایل ڈی اے کو لکھا جس میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹی کا ریکارڈ مانگا تھا۔

نیب حکام کو باقاعدہ ریکارڈ فراہم کیا گیا مگر نیب کے تفتیشی کو نہیں دیا گیا۔گواہ نے بیان دیا کہ غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹی میں پیراگون ہائوسنگ سوسائٹی کا نام نہیں تھا۔دوران سماعت خواجہ سعد رفیق کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی بعد ازاں امجد پرویز نے نیب پراسیکیوٹر سے معذرت کی، خواجہ سلمان رفیق کے وکیل اشتر اوصاف نے گواہ اقصی جبیں پر جرح کی جس پر گواہ نے بتایا کہ نیب یا عدالت کو جو ریکارڈ دیا اور میرے پاس موجود پیراگون سوسائٹی کے ریکارڈ میں خواجہ سلمان رفیق کا نام نہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *