آٹا بحران ایک بار پھر سنگین صورت اختیارکرگیا

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک/آئن لائن )خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران سنگین صورت اختیارکرگیا۔صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت تمام شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ جبکہ چینی کے بعد مرغی کی قیمت میں بھی چالیس روپے فی کلو اضافہ ہوچکا ہے دوسری جانب مارکیٹ میں گندم کی سپلائی بھی کم ہوگئی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے

دوران چینی سمیت دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔امت کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے پشاور اور ڈی آئی خان کی بڑی سبزی منڈیوں کی کمیٹیاں تحلیل کر دی ہیں۔ کیونکہ یہ کمیٹیاں قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام رہیں۔ سرکاری اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر وہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی جانب سے دس فروری کو تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کے خلاف آل پاکستان ایمپلائز ایسوسی ایشن نے دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ پورے ملک سے سرکاری ملازمین سے اسلام آباد پہنچنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتو ں نے بھی اس دھرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب و ٹیلیٹی اسٹورز پر چینی دستیاب نہیں ، اوپن مارکیٹ میں چینی کی 85روپے فی کلو ہوگئی ،جبکہ آٹے کا معیار ٹھیک نہ ہونے کیساتھ ستر فیصد تک اشیائے خورونوش بھی دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کی اکثریت عام مارکیٹ سے مہنگے داموں اشیائے خوردونوش خریدنے پر مجبور ہو گئی ۔ ضلعی انتظامیہ منصوعی مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام ،فیصل آباد آٹے کے چار طرح کے ریٹ چکیوں پر آٹا 45سے 65روپے فی کلو۔ آن لائن کے مطابق شہر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر گزشتہ کئی روز سے 68 روپے کلو والی چینی دستیاب نہیں تاہم 805 روپے کے حساب سے دستیاب 20 کلو کے سرخ آٹے کا معیار بھی ٹھیک نہیں جبکہ رہی سہی کسر اشیائے خورونوش کی نایابی اور عام مارکیٹ کے برابر قیمتوں نے پوری کر دی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی اکثریت یوٹیلیٹی اسٹورز پر سستی اشیائے خوردونوش کی تلاش میں خوار ہو رہی ہے۔ جبکہ اوپن میں مارکیٹ میں چینی 85روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے، آٹے ریٹ بھی شہر بھر مختلف ہیں جن چکیوں سرکاری گندم ملی رہے وہ آٹا 45روپے جن کو گند م نہیں ملی رہے

وہ آٹا 60سے 65روپے کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں ضلعی انتظامیہ منصوعی مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کو 6 ارب روپے کا خصوصی پیکج دیا لیکن گھی، چینی اور دالوں کی قیمتوں میں اضافے سے مسائل آنے پر اشیائے خورونوش کی دستیابی مشکل ہو گئی ہے تاہم شہریوں کو سستا آٹا اور بنیادی اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے خورونوش کی 70 فیصد تک عدم دستیابی سے سیل کا مقررہ ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے انتظامیہ نے 80 سے زائد چھوٹے یوٹیلیٹی اسٹورز بند کر دئیے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *