پی آئی اے طیارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں ڈیڑھ گھنٹے فضا میں مسلسل چکر لگاتا رہا ریاض ائیرپورٹ پر طیارے کو لینڈنگ کی اجازت کیوں نہ مل سکی؟ حیران کن انکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)پاکستان قومی ائیر لائن کا طیارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں ڈیڑھ گھنٹے سے زائد فضاء میں چکر لگانے کے بعد لینڈنگ کی نہ ملنے کا انکشاف ۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی نے بتایا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے کو سعودی عرب میں لینڈنگ کی اجازت نہ دی گئی جس کے وجہ سے وہ وہاں پر ڈیڑ ھ گھنٹے تک فضاء میں چکر لگا تا رہا ۔

اس حوالے سے ترجمان پی آئی اے نے بتایا ہے کہ پی آئی اے کا خالی طیارہ اسلام آباد سے ریاض کیلئے روانہ ہوا تھا لیکن ریاض ائیر پورٹ پر ائیر فیلڈ بند ہونے کی وجہ سے طیارے کا لینڈنگ کی اجازت نہ مل سکی ہے ۔ مزید بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے غیر ملکی تمام پروازوں پر پابندی عائد ہونے کی وجہ خالی طیارہ پاکستانیوں کو واپس وطن لانے کیلئے سعودی عرب پہنچا تھا لیکن اس لینڈنگ کیلئے طویل انتظار کروایا گیا اس دوران طیارہ فضاء میں ڈیڑھ گھنٹے تک مسلسل چکر لگاتا رہا ، کلیئرنس ملنے کے بعد طیارے کوریاض ائیر پورٹ پر لینڈنگ کی اجازت ملی ۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے 20 ممالک سے مسافروں کے داخلے پر پابندی عائد کردی جس میں پاکستان بھی شامل ہے تاہم اس پابندی سے سفارت کاروں، سعودی شہریوں اور کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں معاونت کرنے کے لیے ڈاکٹروں اور ان کے اہلِ خانہ کو استثنٰی حاصل ہے۔سرکاری خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ عارضی پابندی بدھ کے روز صبح 9 بجے سے نافذ العمل ہوگئی۔علاوہ ازیں اس پابندی کا اطلاق پڑوسی ممالک مصر اور متحدہ عرب امارات سے لے کر خطے میں لبنان اور ترکی تک ہوگا۔ یورپ میں جن ممالک سے مسافروں کی آمد پر پابندی ہوگی ان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، پرتگال، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ان کے علاوہ امریکا، ارجنٹینا، برازیل، پاکستان، بھارت، انڈونیشیا،جاپان اور جنوبی افریقہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔سعودی عرب کے سفارت خانے نے اس سلسلے میں وزارت خارجہ کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے جس کی ایک نقل ڈان کے پاس دستیاب ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ان میں دیگر ممالک سے آنے والے وہ افراد بھی شامل ہیں جو سعودی عرب میں داخلے کی خواہش سے پہلے کے 14 روز کے دوران مذکورہ بالا ممالک سے گزرے ہوں تاہم مملکت سعودی وزارت صحت کے متعین کردہ حفاظتی اقدامات کے تحت ان ممالک سے

بلا تعطل سپلائی چین اور شپنگ کی نقل و حرکت یقینی بنائے گی۔خط میں کہا گیا کہ اگر سعودی شہری، سفارتکار اور طبی ماہرین اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مذکورہ بالا ممالک سے آرہے ہوں یا 14 روز کے دوران یہاں سے گزرے ہوں تو انہیں آنے کی اجازت البتہ انہیں سعودی وزارت صحت کے ایس او پیز اور حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ہوگا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے مسافروں کی آمد پر 3 فروری کی صبح 9 بجے سے دوبارہ پابندی عائد کردی ہے

جس کے بعد کوئی مسافر پاکستان سے سعودی عرب سفر نہیں کرسکتا۔اس پابندی سے قبل پی آئی اے کی پروازیں سیالکوٹ سے دمام، ملتان سے مدینہ اور اسلام آباد سے ریاض کے لیے معمول کے مطابق اڑان بھر رہی تھیں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ پی آئی اے سعودی عرب سے مسافروں کو واپس پاکستان لانے کے لیے پروازیں جاری رکھے گی تاہم جن مسافروں نے پاکستان سے سعودی عرب جانے کے لیے نشستیں بک کروائیں تھیں انہیں سعودی پابندی سے مطلع کردیا گیا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.