15 ماہ میں قرضوں میں حیرت انگیز اضافہ، پاکستان سب سے زیادہ عالمی بینک کا مقروض

اسلام آباد(این این آئی)وزارت خزانہ نے پاکستان پر قرضوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے جس میں 15 ماہ کے قرضوں کی تفصیلات دی گئی ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق جون 2019 سے ستمبر 2020 تک اندرونی سمیت قرض میں 2660ارب کا اضافہ ہوا، اندرونی قرض بڑھ کر23ہزار392ارب روپے تک جا پہنچا،15 ماہ میں بیرونی قرضہ 6 ارب ڈالر بڑھا۔رپورٹ کے مطابق غیر ملکی قرض بڑھ کر79ارب90 کروڑ ڈالرتک جا پہنچا، موجودہ حکومت نے سابق حکومتوں کے569ارب اسٹیٹ بینک کوواپس کیے، پاکستان سب سے زیادہ عالمی بینک کا مقروض ہے۔قرضوں کے حوالے سے رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ

عالمی بینک کے قرضے 16 ارب 18 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضے 12 ارب 74 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے، پیرس کلب کا قرضہ 10 ارب 92 کروڑ ڈالر تک ریکارڈ ہوا ہے۔دوسری جانب چیئرمین ریونیو ایڈوائزر ایسوسی ایشن عامر قدیر کا کہنا ہے کہ ملک چلانے کیلئے8 ہزار ارب کی ضرورت ہے اور انہیں پورا کرنے کیلئے ہمیں ملکی مفادات کوپس پشت ڈالتے ہوئے سخت شراط پر قرضے لینے پڑتے ہیں، جو پیشہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا چاہیے سود کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے،ٹیکس جمع کرنے والے ادارے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں اورٹیکس دہندگان کوعزت دینے کی روایت ڈالیں۔ان خیالات کااظہار انہوں ”عوام ٹیکسیشن کے نظام سے متنفرکیوں؟“کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مامون نثار،نعیم خان، افتخار شبیر، عائشہ قاضی، افتخارچوہدری، عامر عمر شاہد، آصف رانا سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور روشن مستقبل ٹیکس آمدن کے حصول سے وابستہ ہے،ٹیکس آمدن بڑھا کر غیر ملکی قرضوں سے نجات ممکن ہے لیکن حکومت بوجھ ڈالنے کی بجائے اعتدال پسندی کا رویہ اپنائے۔ انکم ٹیکس، سیلزٹیکس، ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹیز کے ریٹس کم کرکے ٹیکس بیس کو بڑھایا جا سکتا ہے، ودہولڈنگ ٹیکسز پر انحصار کرنے کی بجائے حکومت اور ٹیکس مشینری کو براہ راست ٹیکسزکی طرف آنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں 85 فیصد ٹیکسیشن ودہولڈنگ کے ذریعے کی جاری ہے جس کی وجہ سے پچاس فیصد ٹیکس چوری کی نظر ہوجاتا ہے،یہ حکومتی خزانے میں پہنچ پاتاہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے ودہولڈنگ ایجنٹس کو کریڈٹ دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس دینے والوں کو ریلیف اور عزت دی جائے تو یہی لوگ خوشی سے ٹیکس حکومتی خزانے میں جمع کرائیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *