ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مفتی حافظ ثنا اللہ مدنی وفات پا گئے

لاہو ر(این این آئی) ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مفتی حافظ ثنا اللہ مدنی وفات پا گئے۔ شیخ الحدیث مفتی حافظ ثنا اللہ مدنی کی عمر 80 برس تھی، مولانا مدنی حافظ عبداللہ محدث روپڑی کے ابتدائی شاگرد تھے۔ مولانا مختلف عوارض میں مبتلا تھے۔سینیٹر علامہ ساجد میر، سینیٹر حافظ عبدالکریم، حافظ ابتسام الہی ظہیر، چوہدری کاشف نواز رندھاوا ودیگر نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ مولانا کی وفات سے دینی حلقے ایک جید عالم دین سے محروم ہو گئے۔مولانا مدنی کی نماز جنازہ جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے

پارک میں عصر کے بعد ادا کر دی گئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے آخری فرزند ممتاز عالم دین اور قائد مجلس احرار اسلام پاکستان مولانا سید عطاء المہیمن شاہ بخاری بھی 77 سال کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے جن کی نماز جنازہ بھی آج دن کو ادا کر دی گئی ہے، انہوں نے اپنی ساری زندگی عقیدہ ختم نبوتؐ، تحفظ ناموسِ صحابہؓ اور اسلام کی سربلندی کے لئے وقف رکھی۔ سید عطاء المہیمن شاہ بخاری جرأت مندی اور بہادری میں اپنی مثال تھے، سید عطاء المہیمن شاہ بخاری اسلاف کی نشانی سمجھے جاتے تھے اور ان کے دنیا بھر میں لاکھوں چاہنے والے ہیں، سید عطاء المہیمن شاہ بخاری نے اپنی 77 سالہ زندگی اتنی سادگی میں بسر کی کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ایسی زندگی گزارنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔مجلس احرار اسلام پاکستان کے امیر مرکزیہ ابن امیر شریعت سید عطاء المہیمن بخاری طویل علالت کے بعدانتقال فرما گئے ہیں۔مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے تمام احرار رہنماؤں اور کارکنوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت پیر جی سید عطاء المہیمن بخاری نے پوری زندگی دین متین کی خدمت اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کیا اور پوری زندگی زہد اور تقویٰ میں گزاری انہوں نے کہا کہ حضرت پیر جی امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے آخری فرزند تھے۔ حضرت کا دنیا سے چلا جانا امت مسلمہ کے لیے سانحہ عظیم ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.