”کشمالہ کو کیش مالا ”کہنا چاہئے۔۔۔ وزیر اعظم عمران خان نے کشمالہ طارق کیخلاف قانون کے تحت کارروائی کرنے کی منظوری دیدی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کشمالہ طارق کے خلاف قانون کے تحت ایکشن کی منظوری دے دی ۔تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی برائے اطلاعات پنجاب فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ کشمالہ کو کیش مالا کہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیش مالاکے حوالے سے حکومت نے ترجیحات طے کر لی ہیں۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کشمالہ طارق کو خواجہ آصف کے ساتھ سرکاری دوروں پر ساتھ جانے کی مقدس ذمہ داری دی گئی تھی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ

کروڑوں ڈالر اکائونٹس میں ڈال کر لوگوں کا قتل عام ہو،یہ ن لیگ کی باقیات میں سے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے کشمالہ کے خلاف قانون کے تحت ایکشن کی منظوری دے دی ہے ۔دوسری جانب وفاقی محتسب کشمالہ طار ق کے صاحبزادے اذلان نے اپنے متعلق چلنے والی خبروں پر خاموشی توڑتے ہوئے بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہناتھا کہ یہ پیغام میڈیا اور ان لوگوں کیلئے جو اسلام آباد کی شاہراہ پر حادثے کی صورت میں چار افراد کی موت کاذمہ دار مجھے قرار دے رہے ہیں اور خصوصی طور پر ان کیلئے بھی ہے جو کہ مجھے موت کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں ، مہربانی کریں جا کر پہلے انکوائری کریں اور پھر بات کریں ، میں گاڑی نہیں چلار ہا تھا جس کا ثبوت اسلام پولیس کے ٹول پلازےکی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ٹریفک کیمروں کی ویڈیوز کی صورت میں موجود ہے ، میں اور میری فیملی لاہور سے واپس آرہے تھے اور حادثہ پیش آگیا ، میں گاڑی سے اپنے والدین کو بچانے کیلئے باہر نکلا ، مجھے ایک لمحے کیلئے ایسا لگا کہ میرے والدین اب نہیں رہے ، جب میںنے ان دونوں کو اٹھایا تو وہ خون میں لت پت تھے ، مہربانی فرما کر ہر چیز کا فیصلہ خود مت کریں اور مجھے ذمہ دار نہ ٹھہرائیں ،جوقیمتی زندگی اس حادثے میں چلی گئی انہیں واپس نہیں لایا جا سکتا ہے جس کا مجھے بے حد افسوس ہے ،لیکن یہ حالات بہت ہی دل توڑ دینے والے ہیں ،لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک حادثہ تھا ، یہ اقدام ارادی طورپر نہیں اٹھایا گیا ، مجھے اور ایلیٹ کلچر کو ذمہ دارٹھہرانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ،ہم سب سے پہلے انسان ہیں اور مجھ میں بھی انسانیت موجود ہے ، میری فیملی بھی اس وقت بہت مشکل ترین وقت سے گزر رہی ہےلیکن لوگ ایسا نہیں سوچتے ، وہ سوچتے ہیں طاقت اور پیسہ رکھنے والے لوگ انسا ن نہیں ، میں جائے حادثہپر آخر تک پولیس کے ساتھ موجود تھا تو ایسا کہنا کہ میں وہاں سے بھاگ گیا تھا ، یہ سراسر جھوٹ ہے ۔ اذلان کا اپنے پیغام میں مزید کہناتھا کہ مجھے کسی کے سامنے اپنی صفائیپیش کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی مجھے خدا کے علاوہ کسی کا ڈر ہے لیکن مجھے ان اموات کا ذمہ دارقرار دینا غلط ہے ، پولیس کے پاس واضح ثبوت موجود ہے ، آپ جائیں اور مجھے ذمہ دار قرار دینے سے قبل قانون کے مطابق اس کی تصدیق کر سکتے ہیں، ان لوگوں کیلئے بھی دعا کریں جو اس حادثے میں دنیا سے رخصت ہو گئے ، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *