عمران خان تو استعفے کے لئے بھی پیسے مانگ رہے ہیں، اس کام کے لئے ہمیں عمران خان کے بڑوں کے فون آتے ہیں،مریم نواز کی تہلکہ خیز باتیں

مظفرآباد ( آن لائن )پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ کی حمایت کیلئے عمران خان کے بڑوں کے فون آرہے ہیں ،ہماری سینیٹ کی سیٹیں جاتی ہیں تو جائیں، حکومت کے ساتھ بیٹھ کر کوئی کام نہیں کرنا،جہاں سقوط کشمیر کا ذکر آئے گا وہاں عمران خان مجرم بن کر کھڑا ہوگا، آپس میں

سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن قومی مفاد میں پاکستانی قوم متحد ہے،قومی مفادات کا تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے،پاکستان کا بچہ بچہ مسئلہ کشمیرپریک جان ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے زیر اہتمام مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے کہا کہ انہیں نواز شریف کا پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے عوام سے محبت کا اظہار کیا ہے کشمیری بھی آج یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں گو عمران گو، میں نے سنا ہے کہ کوٹلی میں عمران خان آرہا ہے اور ایک سرکاری کاغذ پر لکھی ہوئی تاکید آزاد کشمیر پولیس کو بھیجی گئی ہے کہ مخالف جماعت کا کوئی رکن عمران خان کے جلسے میں نہیں آسکے۔انہوں نے کہا کہ ہدایت کی گئی ہے کہ اگلی 23 قطاروں میں صرف پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بٹھائے جائیں کیوں کہ جعلی وزیراعظم کو ڈر لگتا ہے کہ لوگ اس کا گریبان پکڑیں گے عمران خان سے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ تم آزاد کشمیر میں کشمیریوں کے لیے کیا پیغام لائے ہو، تم کشمیریوں کو 15 اگست 2019′ کا وہ دن یاد کرانے آئے ہو جب تم کشمیر کو مودی کی جھولی میں دے آئے تھے۔ کیا آج کشمیریوں کو یہ پیغام دینے آئے کہ کشمیریوں مجھے معاف کرنا میں تمہارا مقدمہ ہار آیا ہوں، کیا منہ لے کر آئے ہو، کیا بتاؤگے کہ

میں کشمیر کا سودا کر کے آیا ہوں؟انہوں نے مزید کہا کہ تم میڈیا کنٹرول کرلو، اداروں کو کنٹرول کرلو لیکن جہاں جہاں سقوط کشمیر کا ذکر آئے گا وہاں عمران خان مجرم بن کر کھڑا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے عوام، ان کی قربانیوں، ان کے شہدا، ان کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بتانا

چاہتی ہوں جب آپ کو چوٹ لگتی ہے تو ہمارے دل زخمی ہوتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے پیاروں کو اسطرح کھو دینا کوئی معمولی بات نہیں قدرتی موت آجائے تو وہ زخم کبھی نہیں بھولتے لیکن اپنی آنکھو کے سامنے بھارتی درندگی سے اپنے پیاروں کو شہید ہوتے دیکھنا بہت دل گردے کا کام ہے اس کے لیے بہت بڑا جگر چاہیے میں

بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ تم جتنے چاہے نوجوانوں کو پابند سلاسل کردو، نوجوانوں کو بدسلوکی کا نشانہ بناؤ، بزرگوں کو نامعلوم مقام پر قید رکھو، اپنی ہی سرزمین پر کشمیروں سے دشمنوں والا سلوک رکھو لیکن یاد رکھو ایک دن کشمیر بنے گا پاکستان۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم مسئلہ کشمیر پر ایک ہے، میں دل سے یہ یقین

دلاتی ہوں کہ پاکستان کا بچہ یکجان ہے، سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں اور ہیں لیکن جہاں ملک کے قومی مفادات کی بات آتی ہے چاہے وہ ہماری جوہری پروگرام ہو یا مسئلہ کشمیر ہو پاکستانی قوم ایک دل اور ایک جان کی طرح کشمیریوں کے ساتھ متحد ہیں۔تاہم چند تلخ حقائق ایسے ہیں جن کا جواب عمران خان کو اور اس کو لانے والوں کو

دینا پڑے گا، ہم آج اس جعلی حکمران سے سوال پوچھیں گے کیوں کہ قومی مفادات کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت وقت سے یہ سول پوچھتے ہیں کہ کیوں تم نے سازش کے ذریعے عوام کو ایک منتخب حکومت سے محروم رکھا، کیوں کہ تم نے پاکستان کو خارجی اور داخلی محاذ پر کمزور کیا۔انہوں نے

سوال کیا کیوں تمہاری حکومت میں بھارت کو سقوط کشمیر کا حوصلہ ملا، جواب دو عمران خان جواب دو، پاکستان میں 10، 10 سال آمروں کو حکومت رہی ہے، انہیں سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں وہ پاکستان کے مفادات کا سودا کرتے ہیں لیکن کسی ڈکٹیٹر کے بھی دورِ حکومت میں بھارت کو کشمیر اپنے نام کرنے کی جرات نہیں ہوئی یہ سیاہی بھی

پاکستان تحریک انصاف کے منہ پر ملی گئی ہے۔مریم نواز نے مزید کہا کہ قوم یہ سوال کرتی ہے کہ کیوں 18 ماہ گزرجانے کے باوجود تم اور تمہاری جعلی حکومت کشمیر کے چلے جانے کے باوجود بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی ہے، جب کشمیر مودی کی جھولی میں دے دیا تو ان کے پاس اس کا علاج 2 منٹ کی خاموشی تھی ہماری

خارجہ پالیسی کیا ہے؟ 2 منٹ کی خاموشی، اس پر تمہیں خاموش نہیں بیٹھنا تھا بلکہ کشمیریوں کے حق میں دنیا کی رائے ہموار کرنی تھی، آج کشمیری مریم نواز کے ساتھ یہ سوال کرتے ہیں کہ تم کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے میں ناکام کیوں ہوئے؟ عمران خان کیا ہے تمہاری خارجہ پالیسی، تم تو بڑے شادیانے بجارہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ

نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کیا ہے تو سقوط کشمیر کے بعد کیا تم نے ٹرمپ سے پوچھا کہ تمہاری ثالثی کہاں گئی، عمران خان تم نے امریکا سے واپسی پر کہا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں ہمیں اچھی طرح یاد ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ بھارتی انتخابات کے وقت کس نے نریندر مودی کے جیتنے کی دعائیں

مانگی تھیں، کس نے کہا تھا کہ مودی جیت گیا تو مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا؟ عمران خان یہ تمہارے جیسے تابعدار کا روگ نہیں ہے اس کے لیے پاکستان نے ایک ہی بیٹا پیدا کیا ہے جس کا نام نواز شریف ہے۔مریم نواز نے کہا کہ کشمیری عوام یہ سوال یہ کرتی ہے کہ تمہاری خارجہ پالیسی وہ کردار ادا نہیں کرسکی جو ہماری حکومت کا

فرض تھا، کیوں تم ملک گیر احتجاج کی قیادت نہیں کرسکے جس کے لیے دشمن کو اور پوری دنیا کو ہمیں کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم بآور کروانے تھے اور عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر کے حق میں تم ایک بھی قرار داد منظور نہیں کرواسکے پاکستانی اور کشمیری عوام یہ سوال کرتی ہے کہ کیوں پورا سری نگر مودی کے

حوالے کرکے اسلام آباد کی ایک سڑک کا نام سری نگر ہائی وے رکھ دیا اور جب یہ سب ہورہا تھا تو بجائے یہ کہ تم دنیا میں کشمیریوں کیلیے آواز اٹھاتے تم نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف غداری کے پرچے کاٹے۔نائب صدر ن لیگ نے کہا کہ عمران خان سے جب اپوزیشن کنٹرول نہیں ہوتی تو وہ اپنے بڑوں کو فون کرکے کہتا ہے کہ

ذرا اپوزیشن کو ایک تھپکی تو لگاؤ، آج کل ن لیگ کو عمران خان کے بڑوں کی طرف سے فون آتے ہیں کہ آپ کی بڑی مہربانی اور آپ کو اللہ کا واسطہ سینیٹ میں شو آف ہینڈز کی قانون سازی کے لیے عمران خان کا ساتھ دیں، اس پر میں نے اور نواز شریف نے جواب دیا کہ ہماری سینیٹ کی سیٹیں جاتی ہیں تو جائیں، اس جعلی حکومت کے ساتھ

بیٹھ کر کوئی کام نہیں کرنا، عمران خان سینیٹ کے الیکشن میں دوسری جماعتوں کے ووٹ توڑنے میں لگے ہوئے تھے، چیرمین سینیٹ الیکشن میں دھاندلی کے بعدآج اپنے ارکان کھسکتے نظرآرہے ہیں توتمہیں شوآف ہینڈ سمجھ آگیا، شو آف ہینڈ بھی ہوگا اور اوپن بیلٹنگ بھی ہوگی مگر اس جعلی حکومت کو گھر بھیجنے کے بعد۔ عمران خان تو

استعفے کیلیے بھی پیسے مانگ رہے ہیں، تمہاری مانگنے کی عادت نہیں گئی، لیکن اب عوام نے پیسے نہیں دینے بلکہ آپ سے استعفی لینا ہے، تمہیں پیسے بھی دینے پڑیں گے اور استعفا بھی دینا پڑے گا، تم نے صادق اور امین نہیں ثاقب اور امین بن کر چینی آٹا اور گیس پر ڈاکا ڈالا، استعفا دواورگھرجاؤ عوام آپ کومعاف نہیں کریں گے۔ا س

موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ناجائز اورنااہل حکومت کو کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے،میں عمران خان کو سیاستدان کہوں تو یہ بھی مجھے برا لگتا ہے۔ ۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں

کشمیر کے عوام کے ساتھ یک جہتی کا دن منایا جارہا ہے اور پی ڈی ایم کی قیادت براہ راست یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کے لیے مظفر آباد میں موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری پاکستان کے ساتھ ہے، اس کا دل اور جذبات پاکستان سے وابستہ ہیں اورجو لوگ کشمیریوں کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں آنے والی تاریخ

انہیں معاف نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کافیصلہ کیا اور آج بھی اس پر قائم ہیں لیکن جب تک پاکستان میں عوام کی نمائندہ حکومت تھی تو کسی مودی کو یہ جرات نہیں ہوسکی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس کو بھارت کا صوبہ بنا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عمران خان اور اس

کی لابی کشمیر کی تقسیم کا سوچ رہی ہے، اسی سوچ کی بنیاد پر آج مودی نے موقع پا کر کہ پاکستان کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آئے گا تو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، جس طرح عمران خان نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ اللہ کرے مودی جیت جائے، وہ کشمیر کامسئلہ حل کر دے گا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ واحد آدمی

تھا جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا تھا، اس کے منشور کا حصہ تھا کہ کشمیر کو تقسیم کردیا جائے اورپھر انہوں نے گلگت بلتستان میں جا کر اس کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی بات کی۔انہوں نے کہا کہ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ آزاد کشمیر ہو یا گلگت بلتستان کا بچہ بچہ پاکستانی

ہے، پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں ان کے جذبات پر کوئی شک نہیں ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر معاملے کی حیثیت کو بھی نظر اندازنہیں کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کہتا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے اور وہ بھارت کا جغرافیائی حصہ ہے تو یہ اقوام متحدہ کی 1949 کی قرار دادوں کی مخالفت ہے، بھارت نے عالمی

سطح پر بین الاقوامی فورم، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے غداری کی ہے، جو غداری انہوں نے کی تھی وہی آج غداری کا مرتکب ہو رہا ہے۔صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ آپ عزت دیں،وسائل دیں، روزگار اورخوش حال زندگی دیں اس پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنا پورے کشمیر کے ساتھ

غداری کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم نے یہاں مظفرآباد میں دو حیثیتوں میں جلسہ کیا ہے، ایک 5 فروری کو یوم یک جہتی کے طور پر اور اس میں احتجاج شامل ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس کشمیر کا سودا کیا گیا ہے اور بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، اس کے خلاف ہم یہاں آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ

کشمیر ایک ایسا ترنوالہ نہیں کہ آپ آسانی سے اس کو نگل سکیں گے، جب تک میں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہا تو بھارت کو جرات نہیں ہوسکی، آج آپ کو پتہ ہے کہ کشمیر کا وزیر اور اس کا چیئرمین کون ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان، مودی اور ٹرمپ کی تکون کی سازش کی بنیاد پر مسئلے کی حیثیت کو تبدیل کیا گیا۔مولانا فضل الرحمٰن

کا کہنا تھا کہ ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ ناجائز اور نااہل حکومت کو کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، ہم ان حکمرانوں کو مسئلے کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک نظریاتی مسئلہ ہے، کشمیری قوم کا مسئلہ ہے، آپ پنجاب کو تقسیم کریں اس بنیاد پر کہ آدھا

پنجاب سکھوں کا ہے اور آدھا پنجاب مسلمانوں کا ہے، آپ بنگال کو تقسیم کر سکتے ہیں کہ آدھا بنگال مسلمانوں کا اور آدھا ہندووں کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تقسیم 1947 کے فارمولے کا حصہ ہے تو آر پار کشمیری مسلمان ہیں، ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے پاکستان سے الحاق کرنا ان کا حق بنتا ہے اور ہم نے اس مسئلے کو حل کرنا

ہے۔ اپنے خطاب میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی کو جواب دینا ہے اور ہرانا ہے تو پاکستان میں سب سے پہلے جمہوریت قائم کرنا ہے تاکہ عوام کا منتخب نمائندہ اس کا جواب دے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے جلسہ گاہ میں تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اورکشمیر کا 3 نسلوں کا ساتھ ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی کے لیے ہم ہزار سال جنگ لڑیں گے اور بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پر نالائق اورنااہل کو مسلط کیا گیا ہے اور سلیکٹڈ حکومت آج پاکستان میں راج کر رہی

ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ماضی میں ہمارے وزرائے اعظم نے تاریخی بیانات دیے جبکہ آج جب کشمیر پر تاریخ کا بدترین حملہ ہوتا ہے تو ہمارے کٹھ پتلی وزیراعظم کا بیان یاد رکھا جائے گا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب کشمیر پر حملہ ہوا، پورے کشمیر کو جیل بنادیا گیا، جہاں 500 دن سے زیادہ لاک ڈاؤن چل رہا ہے وہاں قومی اسمبلی میں

ہمارے وزیراعظم کا بیان اور مودی کو جواب کیا تھا کہ میں کیا کروں۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کا نالائق اورنااہل وزیراعظم نہ صرف پاکستانیوں کی آزادی کو خطرے میں ڈالتا ہے مگر وہ ہر کشمیری کی آزادی کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے، ہم جانتے ہیں کہ اگر مودی کی فاشزم اور غیر جمہوری طریقے کا جواب دینا ہے تو فاشزم یا کسی کٹھ

پتلی سے جواب نہیں دیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مودی کو جواب دیا جاسکتا ہے تو جمہوری پاکستان جواب دے گا، اگر مودی کو بے نقاب کرے گا تو پاکستان کا منتخب نمائندہ کر سکتا ہے، اگر مودی کو ہم نے ہروانا ہے تو سب سے پہلے پاکستان میں جمہوریت قائم کرنا ہے، پاکستان کا جمہوری وزیر اعظم منتخب کرنا ہے۔حکومتی اقدامات پر تنقیدکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس قسم کا کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ نہیں چاہیے، جس نے یہاں کے

عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر کا سفیر بنے گا مگر کشمیر کا سفیر بننے کے بجائے کلبھوشن یادیو کا وکیل بننے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہی شخص جہاں جاتا ہے چاہے اقوام متحدہ جاتا ہے یا کہیں اور جاتا ہے تو کہتا ہے کہ وہی راگ الاپتا ہے کہ میں این آر او نہیں دوں گا، وہ تو کلبھوشن یادیو کو این آر او دینے کی کوشش میں لگا ہوا ہے اور اس کے لیے آرڈیننس نکالا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کو وکیل دینے کے لیے رات کے اندھیرے میں اسمبلی کو بتائے بغیر آرڈیننس نکالتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.