موجودہ جنریشن کا بہترین بلے باز کون، آئی سی سی پول میں بابراعظم نے ویرات کوہلی کو شکست دیدی

اسلام آباد(این این آئی) آئی سی سی پول میں بابراعظم نے ویرات کوہلی کو ہرادیا۔آئی سی سی نے بہترین چار کھلاڑیوں کے نام دیئے تھے ۔ووٹنگ میں کین ولین سن اور جوروٹ بھی شامل تھے ۔بابر اعظم کو 46 فیصد، ویرات کوہلی کو 45 اعشاریہ 9 فیصدووٹ ملے۔ووٹنگ میں دنیا بھر سے 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد نے

حصہ لیا۔کامیابی کے ساتھ ہی بابر اعظم کے نام سے ٹویئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2021 کے دوران تماشائیوں کو اسٹیڈیمز میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔فیصلہ کیا گیا ہے کہ لیگ کے میچز کے دوران اسٹیڈیمز میں 20 فیصد تماشائیوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔ایونٹ 20 فروری سے 22 مارچ تک کراچی اور لاہور میں جاری رہیگا۔فیصلے کے مطابق اب نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کل 7500 جبکہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کل 5500 تماشائی ٹکٹیں حاصل کرکے اسٹیڈیم میں بیٹھ کر لائیو ایکشن سے محظوظ ہوسکیں گے۔اس دوران دونوں ادارے، این سی او سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ، مشترکہ طور پرصورتحال کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں گے جس کے بعد غور کیا جائے گا کہ آیا تین پلے آف میچز اور فائنل کے لیے تماشائیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے یا نہیں۔اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے این سی او سی کو ایک تفصیلی بریفنگ دی تھی،جس میں واضح کیا گیا تھا کہ ایونٹ کے منتظمین اور پی سی بی، میچز کے دوران اسٹینڈز میں بیٹھے تماشائیوں سے حکومت کی جانب سے تیار کردہ کوویڈ 19 پروٹوکولز اور سماجی فاصلے کی ہدایات پر مکمل عمل کروائیں گے۔اب جبکہ این سی او سی نے لیگ کے دوران

تماشائیوں کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دے دی ہے تو پی سی بی اپنی ٹکٹنگ پالیسی کا اعلان جلدکردیا جائے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ وہ این سی او سی کے مشکور ہیں کہ جنہوں نے مداحوں کو اسٹیڈیم میں بیٹھ کر براہ راست میچ دیکھنے کی اجازت دینے پر پی سی بی پر اعتبار کیا، یہ پی سی بی کی بطور ادارہ کوویڈ 19 پروٹوکولز کی پاسداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔چیئرمین پی سی بی نے کہاکہ فینز کرکٹ

بورڈ کا اثاثہ ہیں اور ان کی محدود تعداد میں بھی اسٹیڈیم آمد ایونٹ کو چار چاند لگا دے گی، انہیں معلوم ہے کہ محددتعداد میں داخلے کی وجہ سے ہر فین تو اسٹیڈیم میں نہیں آسکتا مگر ان کی محدود تعداد میں موجودگی بھی ایک مثبت اور درست فیصلہ ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر وہ تماشائیوں کی محدود تعداد میں اسٹینڈز میں آمد کے ساتھ ساتھ لیگ کو کامیابی سے منعقد کروالیتے ہیں تو انہیں رواں سال نیوزی لینڈ، انگلینڈ اورویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز میں بھی تماشائیوں سے متعلق اپنا کیس مضبوط نظر آتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.