پی ٹی آئی کے عطاء اللہ اور عالم گیر خان کے نوید قمر کو دھکے ،گالیاں دیں، تلخ جملوں کا تبادلہ، ایوان مچھلی منڈی بن گیا

سلام آباد (آن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں 26 آئینی ترمیم پر بحث کے دوران جب وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت کے خلاف گفتگو کی تو پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نوید قمر اور ن لیگ کی مریم اورنگزیب ڈپٹی اسپیکر کے پاس پہنچ گئے اور ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ کس طرح سے اجلاس چلایا جارہا ہے

اور سپیکر کے مائیک کو نیچے کیا تو پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی عطاء اللہ اور عالم گیر خان نے جا کر نوید قمر کو دھکے مارے اور گالیاں دیں تو آغاز رفیع اللہ نے آکر ان کو پیچھے کیا اور پھر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہوگیا تو ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس دس منٹ کے لئے ملتوی کر دیا جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن کی طرف سے راجہ پرویز اشرف نے بحث میں حصہ لیا تو وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کورم کی نشاندھی کر دی یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی وفاقی وزیر نے کورم کی نشاندھی اور اپوزیشن نے کورم کو پورا کیا۔ جمعرات کے روز پھر تین مرتبہ کورم کی نشاندھی کی گئی دو مرتبہ اپوزیشن کی طرف سے جبکہ ایک مرتبہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کی قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں منعقد ہوا 26ویں آئینی ترامیم پر گفتگو کرتے ہوئیوفاقی وزیر برائے خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 26آئینی ترمیم پر بحث بہت اہم ہے اگر اپوزیشن اس بات کی یقین دھانی کرا دے کہ جب حکومتی اراکین بولیں تو اپوزیشن سنے گی ہم نے بہت برادشت کر لیا اب مزید برداشت نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ عوام اپوزیشن کے چہروں کو دیکھ رہی ہے یہ کیوں نہیں چاہتے کہ ترمیم نہ ہو سکے اور خریدو فروخت کا سلسلہ جاری ہے اور جو

لوگ آزاد کھڑے ہو جاتے تھے اور خرید وفروخت کر کے ایوان میں آجاتے تھے ان کا راستہ روکنے کے لیے ترمیم لائی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس پارلیمانی کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں سینیٹ میں ایسے لوگ آئیں جو آئین اور قانون کا دفاع کریں یہ غلط سیاست کرنا چاہتے ہیں ہم اس سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں

پہلے جب سینیٹ انتخابات میں جن لوگوں نے اپنی قیمت لگوانی تو پی ٹی آئی نے ان کے خلاف ایکشن لیا انہوں نے کہا کہ کیا سیاسی مصلحت اپوزیشن پر ہاوی ہوگئی ہے ہم نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات چاہتے ہیں کیا آپ چارٹر آف ڈیموکریسی کو بھول گئے ہیں ہمیں کہا گیا کہ آئین میں ترمیم کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں ہے ہم عدالت میں گئے ہیں امید ہے کہ اچھا فیصلہ کرے گی ہمیں پتہ تھا کہ ہمارے پاس دو تھائی اکثریت نہیں ہے لیکن ہم چاہتے

ہیں کہ عوام دیکھ لے کہ یہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ہم نے اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ دیا ہے آج پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ اپوزیشن کیا کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے 2018 کے الیکشن میں عمران خان پر اعتماد کیا ہے اور ہم عوام کے سامنے سرخرو ہیں ہم پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں ہم چاہتے تھے

کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملے لیکن آپ دیکھ لیں کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں اب عوام فیصلہ کرے گی کہ کرپٹ کون ہے اور قانون سازی میں رکاوٹ کون ڈال رہے ہیں پتہ نہیں اپوزیشن کے موقف میں راتوں رات کیسے تبدیلی آگئی کہاں گئی وہ لانگ مارچ اور استعفے کہاں ہیں یہ اپوزیشن جمہوریت کو ڈی ریل کرنے اور قتل

کرنے پر تلی ہے عوام ان کاساتھ نہیں دے گی ان کے جلسوں میں عوام نہیں آئی ان کی سیاست کا مینار پاکستان کے نیچے جنازہ نکل گیا ہے اور سینٹ الیکشن میں سودے بازی ہو رہی ہے ایک دوسرے سے سینٹ الیکشن کے لئے خریدوفروخت کر رہے ہیں لیکن عوام دیکھ رہی ہے کہ ہم شفافیت چاہتے ہیں یہ ترمیم پاس ہو نہ ہو لیکن ہمارا

اصولی موقف سامنے آگیا ہے ہم۔نے کہا ہے کہ ادب سے چلو ادب سے چلیں گے ہم اپوزیشن کو اس بل پر سیاست نہیں کرنے دیں گے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں اپوزیشن کے رہنما آئے یہ طے ہوا تھا کہ دو اپوزیشن کے لوگ تقریر کریں گے اور ایک حکومت سے تقریر کرے گا لیکن ان کو لندن

سے اور جاتی عمرہ سے ڈانٹ پڑی تو یہ تبدیلی آگئی اور یہ احتجاج کر رہے ہیں اپوزیشن والے بہت اہم کاغدات کو پھاڑ کر پھینک رہے ہیں ان میں سے کچھ لوگ سرگودھا میں ٹرک چلاتے تھے اور اسمبلی میں آگئے ہیں اور ان کو پتہ نہیں ہے کہ اسمبلی کیسے چلتی ہے انہوں نے کہا کہ ان اپوزیشن والوں سے بات کرنے کا کوئی فائدا نہیں ہے اس

ترمیم سے اوپن بیلیٹنگ ہو گی تو سب کو پتہ ہو گا کہ کس کو ووٹ دیا گیا ہے ہم یہ خریدوفروخت کو ختم کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ سینیٹ الیکشن میں خریدوفرخت ہوتی رہے ان کی ڈوریں کہیں اور سے ہلتی ہیں ہمارے 20 ایم پی ایز نے ووٹ فروخت کیے اور عمران خان نے ان کے خلاف کارروائی کی لیکن پیپلز

پارٹی اور ن لیگ کے لوگوں نے سینٹ الیکشن میں ووٹ دوسری طرف ڈالے لیکن انہوں نے ان کے خلاف کیا ایکشن لیا ان کی لیڈرشپ سمجھوتہ کرنے والی لیڈر شپ ہے ہم نے اپنا کیس عوام کے سامنے رکھ دیا ہے ہم نے وعدے کے مطابق سینٹ الیکشن سے خرید وفروخت ختم کر رہے ہیں نواز شریف نے ایم این اے خرید کر یہ سلسلہ

شروع کیا پیپلز پارٹی کے لوگ بے نظیر کے معاہدے چارٹر آف ڈیموکریسی کی خلاف ورزی کر رہی ہے یہ چھانگا مانگا کی سیاست کرنے والے ہیں اسامہ بن لادن سے بھی دس بلین ڈالر لے کر بھی کھا گئے جو بے نظیر بھٹو پر عدم اعتماد کے لئے تھے ان کو اپنے اکاؤنٹ کا بھی پتہ نہیں ہے قومی اسمبلی کے اجلاس میں 26 آئینی ترمیم پر

بحث کے دوران جب وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت کے خلاف گفتگو کی تو پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نوید قمر اور ن لیگ کی مریم اورنگزیب ڈپٹی اسپیکر کے پاس پہنچ گئے اور ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ کس طرح سے اجلاس چلایا جارہا ہے اور سپیکر کے مائیک کو نیچے کیا تو پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی

عطاء اللہ اور عالمگیر خان نے نوید قمر کو دھکے دے اور گالیاں دیں تو آغا رفیع اللہ نے جا کر ان کو دھکے دیئے او پیچھے کیا تو پھر اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا تو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اجلاس کو دس مِنٹ کے لیے ملتوی کر دیا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو وفاقی وزیراسد عمر نے کہا کہ

جمہوریت میں معاشرے کی عزت ہوتی ہے لیکن جب ایم پی اے اور ایم این اے کی منڈی لگی ہو اور وہ اپنا ضمیر فروخت کر رہے ہوں تو کیسی جمہوریت ہوتی ہے مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی پر خریداری کا الزام لگاتے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ لوگوں نے خود بتایا ہے کہ یہ ایسا سسٹم ہے جس طرح سے کوٹھے پر ہوتا ہے ایک سادہ سی

تبدیلیاں ہیں اس ترمیم میں کہ جس کی جتنی سیٹیں ہیں وہ ان کو ملیں ،سینٹ میں پہلے ان لوگوں کو زلت اٹھانا پڑی ہے یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہو جائے ان کو کوئی فکر نہیں لیکن ان کے لیڈروں کو کچھ نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں ایک گارڈ فادر نہیں ادھر تو بہت سے لوگ سرکاری جگہ پر قبضہ کر

رہے ہیں اب معاملات ایسے نہیں رکیں گے کالا پیسہ بنانے والے کٹہرے میں ہوں گے اب ان کی دھاڑیاں بند ہو گئی ہیں قیمت لگنا بند ہو جائے تو یہ کیا کریں گے ان کا طریقہ کار ہے کہ جنرل آصف جنجوعہ کے پاس چلے گئے بی ایم ڈبلیو دینے کی کوشش کی ،ڈان لیکس میں بھی ملک کی فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی،انہوں نے کہا کہ ان

کو آزاد طریقہ کار سے الیکشن لڑنے کی عادت نہیں ہے میاں صاحب لندن میں بیٹھے ہیں لیکن ان کو یہاں چھوڑ دیا ہے پاکستان میں وہ جمہوریت بننے جاری ہے جس میں آئین کی حکمرانی ہو کچھ کر لیں اسپیکر کے اوپر چڑدوڑیں نیا پاکستان بننے جارہاہے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ شائد پارلیمنٹ کی تاریخ میں ایسا واقعہ نہیں

ہوا اپوزیشن کو اہم ایشو پر بات کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا حکومتی اراکین نے نوید قمر کو گالیاں دی ہیں اور ہاتھا پائی کی ہے انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو اپوزیشن کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں حکومت کی طرف سے خطرہ ہے راجہ پرویز اشرف کی تقریر کے دوران وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کورم کی نشاندھی کر

اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے گنتی کروائی تو کورم پورا نکلا راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جب حکومتی ترمیم پر بحث ہو رہی ہے تو وفاقی وزیر کورم۔کی نشاندھی کی ہے یہ ایک تاریخ بن رہی ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے پاس دو تھائی اکثریت نہیں ہے لیکن جب ہم نے ترمیم کرنی تھی تو پارلیمانی کمیٹی بنائی تو چیئرمین رضا

ربانی بنے ہم بھی ترمیم کرنا چاہتے تھے عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں عمران خان سے کہنا چاہتا ہوں جو اپنے نمبر بنانا چاہتے ہیں یہ وہی لوگ جنہوں نے پیپلز پارٹی ن لیگ ،ق لیگ کو خراب کیا ہے ان کی باتوں میں نہ آئیں ہم تو تیر کے نشان سے الیکشن لڑ رہے ہیں تم نے بجلی کی قیمت بڑھائی ہے ہم تو سستی بجلی

دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس ایوان کو اچھے طریقے سے نہیں چلایا جارہا اس حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں میں تو راجہ رینٹل ہوں لیکن آپ کیا ہیں آپ تو قوال کے ہمنوا ہیں انہوں نے کہا کہ ترمیم کے لیے ایسا ماحول بننا ہے کہ ترمیم ہو سکے آپ نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے کل 5فروری ہے لیکن کشمیر پر کوئی بات نہیں ہوئی لیکن

حکومت ماحول ایسا بناتی ہے کہ کوئی بہتر نہ ہو سکے ان کی تربیت کی ضرورت ہے ان کو پارلیمنٹ کے تقدس کا پتہ نہیں ہے اب عوام ان کے گلے پڑنے والی ہے جو کہتا تھا کہ بجلی کی قیمت بڑھتی ہے تو وزیراعظم چور ہے آج پھر عمران خان وزیراعظم چور یے یہ سارے وزیر اعظم کو گالیاں نکلوانے والے لوگ ہیں جس کی خود عزت نہیں

وہ دوسروں کو کیا عزت نہیں دے سکتے انہوں نے کہا یہ ترمیم صرف ڈرامہ کرنے کیلئے بنائی گئی ہے اگر یہ عوام کے حق میں ہے تو ضرور ترمیم ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں پی ٹی آئی کے لوگوں نے ایڈوانس میں پیسے پکڑ لیئے ہیں اب پی ڈی ایم اسلام آباد آئیں گے تو آپ

نظر نہیں آئیں گے عمران خان کو اپنے بندوں پر بھروسہ نہیں ہے تو ہم کیا کر سکتے انہوں نے کہا کہ جھوٹے لوگوں پاکستان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے آج اپوزیشن اپنے کورم پورا کر کے بیٹھی ہے یہ ترمیم بد نیتی پر مبنی ہے شوشہ ہے یہ عوام کے ساتھ دھوکا ہے صرف ٹائم ضائع کر رہے ہیں بابر عوان کو پورے پروسیجر کا پتہ ہے

پارلیمانی کمیٹی بنائیں اس کا چیئرمین بنائیں حکومت کو پتہ نہیں کہ وہ حکومت میں ہیں وزیر خارجہ کی تقریروں سے تمام دوست ملک ناراض ہیں شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ بہت اہم ترمیم ہے جو کمیٹی سے پاس ہو کر آیا ہے اسی دوران اپوزیشن کی طرف سے کورم کی نشاندھی کی گئی اور کورم پورا نہ نکلا تو ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.