وزیراعظم کی کم لاگت گھروں کیلئے مزید 10 سے 15 ارب مختص کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم نے چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی ہے کہ قبضہ مافیا کی سرپرستی یا ان کیساتھ ملی بھگت کرنیوالے افسران ،اہلکاروں کیخلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہائوسنگ، تعمیرات و ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس کو تعمیراتی شعبے کے فروغ اور

خصوصا غیر قانونی ہاسنگ سوسائٹیوں اور عوام ،خصوصا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ہونے والے فراڈ کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں اخوت کے ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے وزیراعظم کو بتایا کہ غریب ترین افراد کو ان ذاتی گھروں کی تعمیر میں مدد دینے کے حوالے سے اخوت کے ذریعے حکومت کی جانب سے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ ان پانچ ارب میں سے اب تک 3.35ارب روپے برے کار لائے جا چکے ہیں جن کے نتیجے میں 7572گھر تعمیر ہو چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک تقسیم شدہ رقوم کی ریکوری کا تناسب سو فیصد رہا ہے۔ یہ رقم مزید افراد کو فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنا گھر بنانے کا خواب پورا کر سکیں۔وزیر اعظم نے اخوت ماڈل کی کامیابی کو سراہا۔تین مرلے کے چھ ہزار مکینوں نے رہائش حاصل کر لی ہے، قسطوں کے پینتیس کروڑ خزانے میں جمع بھی کروا دیے گئے ہیں ، وزیراعظم نے کہا ہے کہ مزید لوگوں کو قرضے دیں گے، وزیراعظم عمران خان نے کم قیمت گھروں کے لئے مزید دس سے پندرہ ارب مختص کرنے کی ہدایت کر دی ہے، وزیراعظم کو بتایا گیا کہ آئندہ ماہ پندرہ سو گھر غریب افراد کے حوالے کر دیے جائیںگے۔ آئی جی پنجاب نے غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف ایکشن کے حوالے سے

اجلاس کو بتایا کہ سال 2009سے 2021تک 906ریفرنس زیر التوا تھے۔ حکومت کی ہدایات کے مطابق ان تمام ریفرنسوں کو جائزہ لے کر اب تک 895مقدمات کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ قبضہ مافیا کے خلاف کاروائیوں کے حوالے سے آئی جی پنجاب نے بتایا کہ اب تک 41جائیدادیں واگذار کرائی جا چکی ہیں۔ چیئرمین نیا پاکستان ہاسنگ

و ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ غیر قانونی ہاسنگ سوسائٹیز، پلاٹس کو ایک سے زیادہ بار بیچے جانے، زرعی زمینوں، پارکس اور حکومتی زمینیوں پر غیر قانونی ڈویلپمنٹ و دیگر بدعنوانیوں کی روک تھام کے حوالے سے قلیل اور وسط مدت لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا ہے۔ قلیل مدتی اقدامات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام

منظور شدہ منصوبوں کے حوالے سے ریگولیٹنگ اتھارٹیز کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ منصوبوں کے منظور شدہ نقشہ جات اور تمام تر ضروری تفصیلات کی آن لائن فراہمی کو یقینی بنائیں۔ صوبائی سطح پر تمام افقی اور عمودی منصوبوں کے حوالے سے سنٹرل ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے گا اور اس حوالے سے بھرپور آگاہی مہم شروع کی

جائے گی تاکہ عوام کو غیر منظور شدہ اور غیر قانونی منصوبوں کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی منصوبوں پر مزید کام روکنے کے حوالے سے بھی حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ غیر قانونی منصوبوں سے متعلقہ تمام تشہیری

مواد کو فوری طور پر ہٹایا جائے، اس کے ساتھ ساتھ ان ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے ان اہلکاروں کے خلاف بھی قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی جو غیر قانونی منصوبوں میں ملوث تھے۔ پی ٹی اے اور پیمرا کے تعاون سے غیر قانونی ہاسنگ منصوبوں کی تشہیر کی روک تھام یقینی بنائی جائے گی۔ وزیرِ اعظم نے چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی

کہ تمام اضلاع کی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنرز کو غیر قانونی قبضوں اور قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کے حوالے سے خصوصی طور پر ہدایت جاری کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا کی سرپرستی یا ان کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے۔ اجلا س میں سروے جنرل آف پاکستان

کی جانب سے کیڈاسٹری (رجسٹر مال)کو ڈیجیٹل کرنے کے حوالے سے پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے ریور راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ وزیرِ اعظم کو منصوبے میں اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس

ماہ09تاریخ کو منصوبے کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ منصوبے میں شجر کاری اور فارسٹ کور کے حوالے سے سنگاپور کی ایک کمپنی کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کیا جائے گا۔ اجلاس کو والٹن ائیرپورٹ لاہور کو سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں تبدیل کرنے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ ماہ کے وسط تک اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *