چوری کے الزام میں گرفتار تین خواتین پولیس کے تشدد کا نشانہ بن گئیں  ویڈیو وائرل ہونے پر ملوث اہلکاروں کیخلاف بڑا حکم جار ی کر دیا گیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)سوات کے علاقے سیدو شریف میں پولیس نے چوری کے الزام میں گرفتار 3 خواتین کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔پولیس کے مطابق گرفتار خواتین کا تعلق بنوں سے ہے اور وہ سوات میں مبینہ طور پر چوری کی وارداتوں میں مطلوب تھیں۔ نجی ٹی وی جیو کے مطابق گرفتار خواتین سے 19 تولہ سونا اور ایک لاکھ روپے بھی برآمد کیے گئے۔خواتین کو مقدمے کے اندراج کے بعد

جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔تاہم گرفتاری کے وقت پولیس کی خواتین پر تشدد کرنے اور ان کو گالیاں دینے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سادہ اور وردی میں ملبوس پولیس اہلکار گرفتار خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں تھپڑاور لاتیں بھی مارتے ہیں۔ واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ڈی پی او سوات نے تشدد کرنے والے اہلکاروں کو معطل کرکے انکوائری کا حکم دیا۔دوسری جانب وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے سوات میں پولیس کی طرف سے چوری کے الزام میں گرفتار خواتین پر سر عام تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس کو واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے اس واقعے کو شرمناک، پختون روایات کے منافی اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دریں اثناء وزیر اعلی کی ہدایت کی روشنی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات نے واقعے میں ملوث سیدو تھانے کے ایس ایچ او رفیع اللہ سمیت دیگر اہلکاروں کو معطل کرکے لائن حاضر کردیا۔ معطل ہونے والے دیگر اہلکاروں میں سب انسپکٹر ایاز احمد، سپاہی محمد عالم، سپاہی اسحاق اور سپاہی فضل خالق شامل ہیں۔ ان معطل اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی شروع کردی گئی ہے۔‎

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *