وزیراعظم کوکیسے علم ہواکہ 20 ایم پی ایز نے ووٹ بیچا؟جسٹس عمر عطاءبندیال کے ریمارکس

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ پیپرز کے زریعے کرانے سے متعلق حکومتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل سے پارٹی وفاداری تبدیل کرنے پر قانونی پابندی بارے رائے طلب کر لی ہے۔ ریفرنس پر سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے کی۔ عدالتی ریمارکس میں کہاگیا ہے کہ پارٹی کو ووٹ نہ دینے پر نااہلی نہیں تو

یہ تبدیلی صرف دکھاوا ہو گی۔اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ صدر مملکت جاننا چاہتے ہیں اوپن بیلٹ کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے یا نہیں ؟ پہلے دن سے مجھے اس سوال کا جواب نہیں مل رہا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر نااہلی نہیں ہو سکتی تو پھر مسئلہ کیا ہے ؟ کوئی قانون منتحب رکن کو پارٹی امیدوار کو ووٹ دینے کا پابند نہیں کرتا جبکہ ووٹ فروخت کرنے کے شواہد پر ہی کوئی کارروائی ہو سکتی ہے لیکن اگر اوپن ووٹنگ میں بھی ووٹ فروخت کرنے کے شواہد نہ ہوں تو کچھ نہیں ہو سکتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اوپن بیلٹ کا مقصد سیاستدانوں کو گندا کرنا نہیں ہے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والوں کا احتساب 5 سال بعد ہو ؟. اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عوام کو علم ہونا چاہیے کس نے پارٹی کے خلاف ووٹ دیا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پارٹی کو ووٹ نہ دینے پر نااہلی نہیں تو یہ تبدیلی صرف دکھاوا ہو گی وزیر اعظم کو کیسے علم ہوا تھا کہ 20 اراکین صوبائی اسمبلیوں نے ووٹ بیچا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر اعظم نے کمیٹی بنائی تھی جس کی سفارش پر کارروائی ہوئی لیکن کارروائی پر وزیر اعظم کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بن گیا سزا دینے کے لیے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم ہونی چاہیے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں مقدمہ آئینی تشریح کا ہے ووٹرز تو کہتے ہیں ارکان اسمبلی ہماری خدمت کے لیے ہیں اور عوام اراکین اسمبلی کو اس لیے منتحب نہیں کرتے کہ وہ اپنی خدمت کرتے رہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ پارٹی کو چاہیے عوام کو بتائے کس رکن نے دھوکہ دیا ریفرنس پر عدالتی رائے حتمی فیصلہ نہیں ہو گی اور حکومت کو ہر صورت قانون سازی کرنا ہو گی حکومت نے قانون سازی کرنی ہے تو کرے مسئلہ کیا ہے ؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ فرض کریں ایک چھوٹی جماعت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ہم سینیٹ انتخابات میں فلاں پارٹی کو ووٹ دیں گے،

اس چھوٹی سیاسی جماعت کا رکن صوبائی اسمبلی پارٹی کے خلاف ووٹ دے تو پھر کیا ہوگا، اٹارنی جنرل ایمانداری اور وفاداری کی بات کر رہے ہیں،اراکین اسمبلی کیلئے ایماندار ہونا لازم ہے،اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہے،ووٹر رکن اسمبلی کو یہ کہہ سکتا ہے آپ میری خدمت کیلئے آئے ہیں لیکن اپنے کام کر رہے ہیں، اگر اپوزیشن جماعتیں موجودہ طریقہ کار بدلنا نہیں چاہتے تو یہ

ووٹوں کی خرید و فروخت روکنے کیخلاف نہیں،یہ ہی سوال ہمارے زہن میں بھی ہیں۔ایک موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک رکن صوبائی اسمبلی پر سینیٹ الیکشن میں پارٹی مرضی کے خلاف ووٹ دینے کی قانونی پابندی ہے،رکن صوبائی اسمبلی پر سینیٹ الیکشن میں اپنے سینیٹر کو ووٹ دینے کی پابندی کس قانون میں ہے، سینیٹ انتخابات خفیہ بیلٹ کے زریعے کروانے کے حق میں کیا دلیل ہے، رکن اسمبلی یہ کیوں چاہتا ہے کہ کسی کو معلوم نا ہو کہ اس نے ووٹ کسے دیا اور کیوں دیا،

پیسے لیکر ووٹ لینے والوں کیلئے آرٹیکل 62اور 63موجود ہے،اگر کچھ اراکین ووٹ دینا چاہ رہے ہیں تو پردہ داری کس بات کی ہے،اکثر ٹی وی پروگراموں میں بیٹھے لوگوں نے خود آرٹیکل 226 نہیں پڑھا ہوتا،اصل نقطہ ہے کہ آئین بناتے ہوئے بنانے والوں کے ذہن میں کیا تھا،آئین بنانے والوں کو شائد یہ اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے وقتوں میں ہارس ٹریڈنگ بھی ہو گی۔اٹارنی جنرل نے اس موقع پر

موقف اپنایا کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے نتائج مستقبل میں سامنے آتے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قتل کیس میں پھانسی کی سزا سنائی گئی،آج ذوالفقار علی بھٹو شہید ہیں،جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے،، سچ ہمیشہ رہتا ہے،ہم سپریم کورٹ میں رائے لینے کیلئے آئے ہیں،اگر میں حکومت کو یہ رائے دیتا الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے اوپن بیلٹنگ ہو سکتی ہے،پھر کل

سینیٹ الیکشن کے بعد سپریم کورٹ میں درخواست ا جاتی،درخواست میں موقف اختیار کیا جاتا آئینی ترمیم ضروری ہے،پھر پورے پارلیمنٹ پر سوال اٹھ جاتا،میں بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں،ایک وکیل نے ٹی وی پروگرام میں کہا اٹارنی جنرل صاحب آرٹیکل 226 پڑھ لیں۔پارٹی مرضی کے خلاف ووٹ دینے کی قانونی پابندی بابت وجہ جواب تلاش کر کے دیں گے۔معاملہ کی سماعت بعد ازاں ایک دن کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے۔۔۔۔توصیف

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.