استنبول کی قدیم گلیوں میں

بلات استنبول کا قدیم محلہ ہے‘ میںجمعرات 28 جنوری کی شام بلات میں داخل ہوا تو تاریخ کے ماتھے پر اترتے ہوئے سورج کی لالی اپنا رنگ دکھا رہی تھی‘ ہزار سال پرانی گلیوں میں وقت دہائیاں دیتا ہوا گھسٹ رہا تھا اور سامنے سڑک کی دوسری طرف باسفورس بہہ رہا تھا‘ میں اپنے گروپ کو کورڈ مارکیٹ (گرینڈ بازار) میں چھوڑ کر بلات نکل آیا تھا‘ بلات بھی دنیا کے دامن میں ایک عجیب جگہ ہے‘ تین آسمانی مذاہب کے انتہائی کٹڑ لوگ ساتھ ساتھ رہتے ہیں‘ ایک طرف گریک آرتھوڈاکس کی گلیاں ہیں۔

یہ محلہ یونانی آرتھوڈاکس کے لیے مکہ کی حیثیت رکھتا ہے‘ ان کا مقدس ترین چرچ پیٹری آرکیٹ بلات میں ہے‘ 30 لاکھ لوگ گریک آرتھوڈاکس اسے اپنا قبلہ سمجھتے ہیں‘ دوسری طرف آرمینی عیسائی رہتے ہیں‘ یہ بھی شدت پسند ہیں اور یہ دوسرے عیسائیوں کے مقابلے میں سخت عقائد کے حامل ہیں‘ تیسری طرف یہودی آباد ہیں‘ بلات کے یہودی ہسپانیہ سے تعلق رکھتے تھے‘ 1492ءمیں سقوط غرناطہ ہوا تو عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو بھی سپین سے نکال دیا‘ اس مشکل وقت میں دو مسلمان ریاستوں نے ان کے لیے دروازے کھول دیے تھے‘ مراکش اور خلافت عثمانیہ ‘ آدھے یہودی طریفہ کی بندر گاہ عبور کر کے مراکو میں آباد ہو گئے اور آدھے بحری جہازوں میں بیٹھ کر استنبول آ گئے‘ اس وقت خلافت عثمانیہ پر سلطان بایزید دوم کی حکومت تھی‘ سلطان نے انہیں بلات کے علاقے میں آباد کر دیا‘ آج بھی اس محلے میں ان کے مکانات اور سینا گوگ موجود ہیں‘ ترکش یہودیوں کی اکثریت اسرائیل نقل مکانی کر چکی ہے لیکن اس کے باوجودپندرہ ہزار یہودی آج بھی ترکی میں موجود ہیں اور چوتھی طرف آفندی مسلمان بھی کثیر تعداد میں بلات میں رہتے ہیں‘ یہ لوگ اسماعیل آغا کے پیرو کار ہیں‘کٹڑ مسلمان ہیں اور اپنے حلیے کی وجہ سے پورے ترکی میں مشہور ہیں‘ آفندی محلے کے تمام مرد باریش اور خواتین برقعوں میں ہوتی ہیں اور یہ لوگ نماز کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں‘ آپ کو نماز کے وقت کوئی مرد گلی یا گھر میں دکھائی نہیں دیتا۔

تمام ریستوران اور دکانیں بھی بند ہو جاتی ہیں چناں چہ یہ علاقہ ہر لحاظ سے منفرد ہے‘ آپ جب اس کی تنگ‘ قدیم اور ڈھلوانی گلیوں سے ہو کر باسفورس کے کنارے پہنچتے ہیں توآپ کو چنار کے درختوں کے نیچے سفید رنگ کا ایک چرچ دکھائی دیتا ہے‘ یہ چرچ بلغارین ہے اور یہ فرش سے لے کر چھت تک لوہے کا بنا ہے‘ بلغاریہ کے عیسائیوں نے یہ چرچ ویانا میں بنوایا تھا اور یہ اسے بحری جہاز پر لاد کر بلات لائے تھے‘ یہ استنبول میں لوہے کی پہلی عمارت تھی‘ چرچ آپ کو اس وقت تک آہنی محسوس نہیں ہوتا جب تک آپ اسے چھو کر نہیں دیکھ لیتے جب کہ یہ دور سے عام عمارت دکھائی دیتا ہے۔

میری بلات میں پہلی منزل گریک آرتھوڈاکس چرچ تھا‘ گریک آرتھوڈاکس یہودیوں کی طرح صبح‘ عصر اور مغرب دن میں تین بار عبادت کرتے ہیں‘ چرچ بھی صرف ان تین اوقات میں کھلتا ہے‘ میں عصر کے وقت پہنچا تو دعا چل رہی تھی‘ دو پادری سیاہ گاﺅن میں لاﺅڈ اسپیکر پر بائبل پڑھ رہے تھے‘ دائیں جانب سرخ گاﺅن اور سیاہ ٹوپ میں ملبوس پادری ہاتھ میں لوہے کا عصا تھام کر کھڑا تھا‘ سامنے آبنوسی لکڑی کا دروازہ تھا جس پر سونا چڑھا تھا۔

اس میں سے دو نوجوان پادری طلائی لباس میں کبھی اندر جاتے تھے اور کبھی باہر آتے تھے‘ ان کا اندر جانا اور باہر آنا دعا کا حصہ تھا‘ بائبل کی تلاوت کرنے والے پادری جب خاموش ہو جاتے تھے تو یہ نوجوان پادری باہر آ کر لقمہ دیتے تھے اور واپس چلے جاتے تھے اور ان کے بعد دونوں پادری دوبارہ تلاوت شروع کر دیتے تھے‘ ہال میں درجن بھر لوگ عقیدت سے سرجھکا کر بیٹھے تھے‘ ماحول میں سوگواری‘ صندل کی مہک اور پگھلتی ہوئی موم بتیوں کی مہک تھی۔

میں تھوڑی دیر بیٹھ کر مقدس ستون کی طرف چلا گیا‘ یہ سیاہ رنگ کے ستون کا ڈیڑھ فٹ کا ٹکڑا ہے‘ عیسائی روایات کے مطابق رومی سپاہیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو مصلوب کرنے سے پہلے کوڑے مارے تھے‘ اس سزا کے وقت انہیں سیاہ رنگ کے ایک سنگی ستون کے ساتھ باندھا گیا تھا‘ حضرت عیسیٰ ؑ تکلیف میں ستون کو تھام لیتے تھے‘ ستون حضرت عیسیٰ ؑ کے لہو سے تر ہوگیا تھا‘ عیسائی بعد ازاں اس ستون کو توڑ کرلے گئے تھے‘ اس کا ایک حصہ روم‘ دوسرا فلسطین اور تیسرا استنبول کے پیٹری آرکیٹ میں نصب ہے۔

عیسائی پوری دنیا سے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں‘ اسے چھوتے اور چومتے ہیں‘ عیسائی اسے پلر آف فلیج لیشن  کہتے ہیں‘ میں ستون کے سامنے پہنچا تو اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا‘ وہ سیاہ پتھر کا لمبوترا ٹکڑا تھا‘ عقیدت مندوں نے اسے چوم چوم کر گھسا دیا تھا‘ میں نے اسے ہاتھ لگایا اور چرچ سے باہر نکل کر مرکزی دروازے کے سامنے کھڑا ہو گیا‘ سیکورٹی گارڈز مجھے غصے سے گھورنے لگے لیکن میں ان کی پروا کیے بغیر دروازے کے سامنے کھڑا رہا۔یہ دروازہ مسلمانوں اور گریک آرتھوڈاکس کے درمیان باب نفرت کہلاتا ہے‘ 1821ءمیں عثمانی خلیفہ سلطان محمود دوم نے یونانی آرتھوڈاکس پوپ گریگوری پنجم کو اس دروازے پر باندھ کر پھانسی دے دی تھی۔

پوپ گریگوری کی لاش تین دن دروازے کے ساتھ لٹکی رہی تھی‘ آرتھوڈاکس نے اس دن کے بعد یہ دروازہ نہیں کھولا‘ دروازے کو بند ہوئے دو سو سال ہو چکے ہیں اور یہ عیسائیوں کو اس خوف ناک واقعے کی یاد دلاتا ہے‘ ایک روایت کے مطابق یونانی عیسائیوں نے پوپ گریگوری کی پھانسی کے دن عہد کیا تھا یہ اس دن تک یہ دروازہ نہیں کھولیں گے جب تک کہ یہ مسلمانوں کی کسی اعلیٰ ترین شخصیت کو یہاں پھانسی نہیں دے دیتے‘ یہ لوگ جب چرچ کی بیرونی سیڑھیاں چڑھتے ہیں توان کی نظر سب سے پہلے اس دروازے پر پڑتی ہے اور یہ اسے دیکھتے دیکھتے چرچ میں داخل ہوتے ہیں‘ میں چند سکینڈز وہاں رکا اور پھر باہر نکل گیا۔

میری اگلی منزل گریک آرتھوڈاکس کی دوسری مقدس ترین عبادت گاہ پانایا ایازما  تھی‘ عیسائی اس کے پانی کو آب زم زم کی طرح مقدس سمجھتے ہیں‘ اس چرچ میں حضرت مریم ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا لباس ہوتا تھا‘ یہ لباس 14سو سال تک اس عمارت میں رہے اور عیسائیوں کا عقیدہ تھا یہ جب تک استنبول میں موجود ہیں دنیا کا کوئی شخص اس شہر کو فتح نہیں کر سکتا‘ یہ ہر حملے سے پہلے دونوں لباس سفید گھوڑے پر رکھ کر اسے شہر کی فصیل سے گزارتے تھے۔

سلطان محمد کے حملے سے قبل چرچ میں آگ لگ گئی اور دونوں مقدس لباس جل گئے‘ سلطان محمد نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا اور یہ شہر واقعی فتح ہو گیا‘ میں چرچ پہنچا لیکن گیٹ پر تالا پڑا تھا‘ میں اندر نہ جا سکا‘ میری اگلی منزل مریم آنا چرچ تھا‘ یہ بھی استنبول کا قدیم ترین چرچ ہے‘ سلطان محمد فاتح نے 1453ءمیں استنبول کی فتح کے بعد شہر کے دو کلیساﺅں کے علاوہ تمام چرچز کو مساجد میں تبدیل کر دیا تھا‘ ایک چرچ انا ایرانی تھا اور دوسرا مریم آنا تھا۔

یہ انا ایرانی اور آیا ایرانی بھی کہلاتا ہے اور یہ آیا صوفیہ کے پہلو میں عثمانی خلیفہ کے محل توپ کاپی کے اندر واقع ہے‘ روایت کے مطابق اس چرچ میں کوئی عیسائی خاتون دفن ہے‘ سلطان محمد نے استنبول کا محاصرہ کیا تو یہ ان کے خواب میں آئی اور ان سے کہا‘ آپ اگر وعدہ کریں آپ میرا چرچ بند نہیں کریں گے تو میں یہ شہر آپ کے حوالے کردوں گی‘ سلطان محمد نے خواب میں وعدہ کر لیا‘ یہ استنبول کی فتح کے بعد جب آیا صوفیہ پہنچے تو دیوار کے ساتھ واقعی یہ چرچ موجود تھا چناں چہ سلطان نے اپنا وعدہ پورا کیالہٰذا یہ چرچ آج تک موجود ہے اور یہ مسجد آیا صوفیہ کی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہے۔

دوسرا چرچ مریم آنا بلات میں ہے‘ یہ چرچ شہر کی فصیل کے مرکزی دروازے کے ساتھ تھا‘ سلطان فتح دیوار توڑ کر اندر داخل ہوئے تو انہوں نے پادری کو بلا کر کہا تم اگر ہمیں شہر کی چابیاں دے دو تو میں وعدہ کرتا ہوں ہم تمہارے چرچ کو نقصان نہیں پہنچائیں گے‘ پادری مان گیا یوں چرچ کو امان مل گئی‘ یہ بھی آج تک سلامت ہے‘ میں وہاں پہنچا لیکن پتا چلا آج کل اس کی چابیاں عرب عیسائیوں کے پاس ہیں اور انہوںنے مجھے اندر نہیں جانے دیا۔

عیسائی مذہب میں ترکی بہت اہم ملک ہے‘حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد زیادہ تر عیسائی فلسطین سے ترکی شفٹ ہو گئے تھے‘ انجیل مقدس بھی ترکی کے شہر غازی عین تب میں لکھی گئی تھی‘ حضرت عیسیٰ ؑ کا وہ رومال جس پر آپؑ کے چہرے کا نقش تھا وہ بھی شانلی عرفہ میں تھا‘ یہ رومال آج کل برطانیہ میں ہے‘ عیسائیوں کی پہلی مملکت بھی ترکی میں قائم ہوئی تھی‘ اس کا نام ابگر  تھا اور یہ شانلی عرفہ کے مضافات میں تھی‘ یہ آزرون  بھی کہلاتی تھی۔حضرت مریم ؑ بھی حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد ترکی تشریف لے آئی تھیں۔

ازمیر کے مضافات میں ایفیسس  شہر میں آپ کا گھر بھی تھا‘ یہ گھر آج تک موجود ہے‘ آرمینیا دنیا کا پہلا عیسائی ملک تھا اور یہ بھی ترکی کا حصہ ہوتا تھا چناں چہ یہ ملک عیسائیوں کے لیے بہت مقدس ہے لیکن آپ اللہ کا کرم دیکھیے‘ استنبول شہر میں اس وقت ساڑھے تین ہزار مسجدیں ہیں اور یہ ان کی وجہ سے مسجدوں کا شہر کہلاتا ہے‘ اذان کے وقت جب پورے شہر میں اللہ اکبر کی آواز گونجتی ہے تو بے اختیار وہ آیت یاد آتی ہے” (ترجمہ) حق آ گیا اور باطل مٹ گیا‘ بے شک باطل تو مٹنے ہی والا ہے“ اور میں جب مریم آنا کے سامنے کھڑا تھا تو جامع تختہ کے مینار سے اللہ اکبر‘ اللہ اکبر کی آواز آنے لگی۔

یہ مسجد سلطان محمد فاتح نے استنبول کی فتح کے بعد بلات میں بنوائی تھی اوریہ آج بھی کلیساﺅں کے درمیان اللہ کی حقانیت کی عظیم دلیل ہے‘ میرے منہ سے بھی بے اختیار اللہ اکبر نکلا اور میں جامع تختہ کی طرف چل پڑا۔
نوٹ: ہم خیالوں کا اگلا ٹور مارچ کے پہلے ہفتے ترکی جائے گا‘ آپ 0331-3334562اور 0331-5637981پر رابطہ کر کے اس ٹور کا حصہ بن سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.