پٹرول اور ڈیزل پر کمپنی اورڈیلرزمارجن میں فی لٹر مزید اضافہ متوقع، عوام پر مزید بوجھ پڑنے کا امکان

لاہور(این این آئی)پٹرول پرکمپنی مارجن 45 پیسے اورڈیلرزمارجن میں 58 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیزل پرکمپنی مارجن 45 پیسے اورڈیلرزمارجن میں 50 پیسے اضافہ متوقع ہے۔اضافے کے بعد پٹرول پر کمپنی مارجن 2.81 سے بڑھ کر 3.26 اور ڈیلرز مارجن 3.70 سے بڑھ کر 4.28 روپے ہو جائے گا۔ڈیزل

پرکمپنی مارجن 2.81 سے بڑھ کر 3.26 اور ڈیلرز مارجن 3.12 سے بڑھ کر3.62 روپے ہو جائے گا۔دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب عوام کو مزید ایک اور جھٹکا لگ گیا،ایل پی جی کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا۔ایل پی جی کی قیمت میں 10روپے فی کلو اضافہ کی گیا ہے اورماہ فروری 2021 کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیاگیا۔تفصیلات کے مطابق ایل پی جی10روپے فی کلو،گھریلو سلنڈ122روپے اور کمرشل سلنڈرکی قیمت471روپے اضافہ کے بعدماہ فروری کیلئے نئی قیمتیں جاری کر دی۔ سرکاری پیداواری قیمت میں 8,870روپے میٹرک ٹن اضافہ ہو گیا۔اب ایل پی جی148روپے فی کلوکی جگہ158روپے فی کلو، گھریلو سلنڈر1741روپے کی جگہ1863روپے اور کمرشل سلنڈر6,697 روپے کی جگہ7,168روپے ملک بھر میں دستیاب ہو گی۔عالمی مارکیٹ میں CP 536 ڈالرسے بڑھ کرڈالر574اورپیداواری قیمت86,414کی جگہ95,283روپے تک پہنچ گئی۔ اس سال تقریباً735,460لوکل پروڈکشن اورتقریباً473,900میٹرک ٹن ایل پی جی براستہ سمندر اور 660,000 براستہ لینڈ روٹ امپورٹ ہوئی۔ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھرنے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے پر اپنے

ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں قدرتی گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا،اس وقت 90 لاکھ کیوبک فٹ کا شاٹ فال موجود ہے،ناقص پالیسی اور ٹیکسس کی بھرمار نے ایل پی جی صنعت پر منفی اثرات رونما کیے ہیں،ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز چھ ارب سے زائد ٹیکس دیتے ہیں۔ایل پی جی پر لگے بے جا ٹیکسیس کا خاتمہ

کیا جائے۔ ایل پی جی واحدسستا فیول ہے جو کہ قدرتی گیس کی کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ براستہ لینڈ روٹ درآمد کی جانے والی ایل پی جی پر ٹیکسس لگانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اگر ایل پی جی پر مزید ٹیکسس کی بھرمار کی گئی تو یہ غریب عوام کی پہنچ سے بہت دور ہو جائے گی اور ایل پی جی

کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کریں گی۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں سستی اور وافر مقدار میں ایل پی جی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایل پی جی پر لگے ٹیکس مکمل طور پر ختم کیے جائیں، ملک بھر میں غیر معیاری سلنڈر سرے عام فروخت ہو رہا ہے، غیر معیاری سلنڈر سے روز 2 سے 3 معصوم جانوں کا ضیاع ہورہا ہے،ابھی

تک حکومت نے اس پر قابو نہیں پایا،ہم حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ ان کارخانوں کو مکمل طور پر بند کیا جائے اورملک بھر میں غیر معیاری سلنڈر کی خریدوفرخت کو روکا جائے، ہم حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں،آٹو گیس کی پالیسی میں نرمی کی جائے،اور اس کو مکمل طور پر لیگل کیا جائے،کیونکہ ایل پی جی پٹرول اور ڈیزل کے مقابلے میں 50% سے 60% سستا اور ماحول دوست اندھن ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.