بچوں کی صحت پر بھی سمجھوتہ، سرکاری سکولوں کے پانی کے فلٹرز لگانے کے فنڈز میں بھی خوردبرد کا تہلکہ خیز انکشاف

کراچی(آن لائن)سرکاری اسکولوں کے بچوں کیلئے پینے کے پانی کے فلٹرز لگانے کے فنڈز بھی خرد بردکے انکشاف کے بعدمحکمہ ایجوکیشن ورکس کراچی کے تمام اضلاع میں ایک ارب 20 کروڑ کے ٹینڈرز منسوخ اور تحقیقات کرانے کا مطالبہ سامنے آگیا جبکہ وزیرتعلیم سعید غنی سمیت اعلی حکام سے بوگس ٹینڈر منسوخ کرنے کی

درخواست بھی کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایجوکیشن ورکس کے ٹھیکیداروں کے وفد نے کراچی کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن (سندھ) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے عہدیداروں سے ملاقات میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ ایجوکیشن ورکس کے تمام اضلاع میں ہونے والے ٹینڈرز میں بدعنوانیوں کے ذریعے کاموں کو محکمہ جاتی طور سے فروخت کیا جارہا ہے جس میں تین ایگزیکٹیو انجینئرز دیگر تمام اضلاع میں بھی ملوث ہیں۔30دسمبر2020 کو ایک ہی روز میں تمام اضلاع میں ایک ارب 20 کروڑ مالیت کے یہ ٹینڈرزطلب کئے گئے اور اس روز جو ہنگامہ ہوا سب کے سامنے ہے اب ان ٹینڈرز کو بوگس طریقے سے تیار کرکے سندھ پبلک پرکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائڈ پرانکی بی آر اپ لوڈ کرتے ہی ان کے کرتوت کھلنے لگے۔ان میں پاکستان انجینئرنگ کونسل میں غیر رجسٹرڈ فرم کو بھی ٹھیکہ ایوارڈ کردیا گیا جو کمپنی اس کی اہل ہی نہ تھی۔تحریری شکایات آتے ہی یجوکیشن ورکس ضلع سینٹرل میں افسران نے اپنے کرتوت چھپانے شروع کردئیے اور فوری طور سے سندھ پبلک پرکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائڈ اپ لوڈ کردہ بی آر (BER) کو کینسل کردیا جو کہ سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائڈ پرریکارڈ ہیں۔کنٹریکٹرز کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ محکمہ

کرپشن کا گڑ بنا ہوا ہے منصوبوں کو کئی کئی سال طول دے کر ریوایز کیا جاتا ہے کیڈٹ کالج اور انجینئرنگ کالج گڈاپ ان کی کھلی مثال ہیں جس کے لئے اینٹی کرپشن نے ان کالجز کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔اس کے علاوہ جسٹس حانی مسلم کی ہدایت پر بچوں کے لئے پینے کے پانی کے فلٹرز لگانے کے فنڈز کو بھی ہڑپ کر لیا گیا۔ایسوسی

ایشن کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمن نے اعلی حکام سے اتنی بڑی کرپشن پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر تعلیم کو ان غیر معمولی معاملات میں فوری مداخلت کرتے ہوئے کاروائی کرتے ہوئے ایجوکیشن ورکس کراچی کے تمام اضلاع میں ہونے والے ایک ارب بیس کروڈ کے کاموں تمام ٹینڈرز کو منسوخ کرکے شفاف

صحت مند مقابلے کا مطالبہ کیا ہے دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اسکولوں کے بچوں کے لیے پینے کے پانی کے فلٹرز لگانے کے فنڈز کو ہڑپ کرلیا گیا جس پر تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔کراچی کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن(سندھ) نے اس موقع پر مطالبہ کیا ہے کہ ایجوکیشن ورکس کراچی کے ان بدعنوانیوں میں ملوث افسران کی اصل آمدن سے

زیادہ کے اخراجات ہیں ان افسران کے غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ جمع کیا جائے یہ افسران پر آسائش زندگی گزار رہے ہیں اور کنڑیکٹرز کو بد نام کرتے ہیں انکے چند پلے ہوئے دو چار برائے نام کنٹریکٹرز ہیں جو کالے کرتوتوں کے لئے انہیں استعمال کرتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے گورنر سندھ، وزیراعلی سندھ اور وزیر تعلیم سیان اہم معاملات پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ایسوسی ایشن و متاثرہ کنٹریکٹرز نے اس سلسلے میں تمام متعلقہ ادارں کو خطوط بھی ارسال کردئیے اور قانونی مشورے کے لئے اپنے وکلاء سے رابطہ کرلیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.