’’شبلی صاحب پاکستان میں کرپشن بڑھ رہی ہے؟‘‘ وزیراعظم کرپٹ نہیں ان کا اثر رفتہ رفتہ وزیروں پر آئے گا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر کہا ہے کہ کرپشن میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ۔ ایسا نہیں ہے کہ عمران خان وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے تو ادھر کرپشن ختم ہو جائے گی ۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو میںایک سوال کے جواب میں شبلی فراز کا کہنا تھا کہ تبدیلی کوئی موقع نہیں ایک عمل کا نام ہے ،

وزیراعظم عمران خان کرپٹ نہیں، ان کا اثر رفتہ رفتہ ہی وزیروں پر آئے گا۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کرپشن سے متعلق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سال 18-2017 کا ڈیٹا حاصل کیا، جب یہ اردو ترجمہ کروائیں گے تو پتا چل جائیگا،(ن )لیگ اور قبضہ مافیا ایک ہی ہیں، قبضہ مافیا کو نہیں چھوڑیں گے، عظمت سعید نیب میں زرداری کے خلاف انکوائری کر رہے تھے تب ن لیگ خوش تھی،جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید ہی براڈ شیٹ کی انکوائری کریں گے،مولانا فضل الرحمان باہر سے فنڈنگ لیتے رہے، مولانا کو جواب دہ ہونا پڑے گا، کوئی قانون سے بالا تر نہیں ،کوئی قوم طویل مدتی منصوبے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی ، ہمارے ہاں بدقسمتی سے ملک میں 5 سال کے انتخابات کی وجہ سے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ہوئی۔ جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں میں سینیٹ انتخابات سے متعلق بھی مشاورت کی گئی، اجلاس میں وزیراعظم کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، براڈشیٹ اور محکمہ اوقاف کی زمینوں پر قبضوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ ، عمران خان نے کہا کہ قبضہ مافیا کو نہیں چھوڑیں گے،ان کے قبضوں سے متعلق مزید چیزیں بھی سامنے آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن باہر سے فنڈنگ لیتے رہے، مولانا کو جواب دہ ہونا پڑے گا، کوئی قانون سے بالا تر نہیں ،ان لوگوں نے ہمارے خلاف کیس کیا مگر خود پھنس گئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں فتح حاصل کریں گے، چاہتے ہیں سینیٹ انتخابات شفاف ہوں، شفافیت یقینی بنائیں گے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں شہزاد اکبر نے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں پر بریفنگ دی اور بتایا کہ خرم دستگیر سے 1 ارب روپے سے زائد کا قبضہ واگزار کروایا ہے۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، براڈ شیٹ، قبضہ مافیا سمیت اہم معاملات پر بریفنگ دی گئی، ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومتی ترجمانوں نے

رائے دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے والا کام کررہی ہیں،وہ ایسی باتیں بتا رہی ہیں جن کا ہمیں علم ہی نہیں تھا۔معاون خصوصی شہباز گل نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پر ترجمانوں کو بریفنگ دی ، وزیراعظم نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 2017، 18 کا ڈیٹا حاصل کیا، جب یہ اردو ترجمہ کروائیں گے انہیں پتہ چل جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید ہی براڈشیٹ کی تحقیقات کریں گے،

وہ معزز اور اچھی شہرت والے جج ہیں، نیب میں جب وہ زرداری کے خلاف انکوائری کر رہے تھے تب نون لیگ خوش تھی۔ذرائع کے مطابق فرخ حبیب نے حکومتی ترجمانوں کو ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے پر اجلاس کو بریفنگ دی۔وزیر اعظم نے کہاکہ سیاست عبادت ہے، ظالموں اور چوروں کے ساتھ کھڑنے ہونے کا نام نہیں، سینٹ انتخابات میں بھی شفافیت یقینی بنائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے ڈاکیومنٹری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے ایک بہت بڑا المیہ ہوا کہ جمہوریت کے

اندر ہر 5 سال بعد جو انتخابات ہوتے تھے، ان انتخابات کی وجہ سے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ڈیم طویل مدتی منصوبہ بندی سے بنتے ہیں اور جو بھی ملک ترقی کرتا ہے ،طویل مدتی منصوبہ بندی سے کرتا ہے، چین کو آج ہم دیکھ رہے ہیں دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور سپر پاور بننے جارہا ہے تو ان کی ترقی کا ماڈل طویل مدتی ہے۔انہوںنے کہاکہ جب ہم چین میں گئے تو انہوں نے بتایا کہ اگلے 10 سال اور 20 میں کیا کرنے جا رہے ہیں، کوئی بھی قوم آگے نہیں

بڑھ سکتی جب تک وہ طویل منصوبہ بندی نہ ہو اور آگے کا نہ سوچیں۔عمران خان نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں 5 سال کی مدت ہوتی ہے، کوشش ہوتی ہے 5 سال کے درمیان جو بھی چیز مکمل ہوجائے تاکہ عوام کو دکھائیں اور پھر اربوں روپے اشتہاروں پر خرچ کریں اور پھر اس کے اوپر الیکشن لڑیں۔انہوں نے کہا کہ اس ہینڈی کیپ نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا، اس نے سب سے بڑا نقصان یہ پہنچایا کہ ہمارے پاس سستی ہائیڈرو بجلی دستیاب تھی، پانی کے ذخائر بھی بن جانے تھے، زراعت کو بھی فائدہ ہونا تھا،

بجائے اس کا سوچنے کے ہم نے مختصر مدت میں وہ فیصلے کیے جس کی وجہ سے آج ہم جو بجلی بناتے ہیں وہ سارے برصغیر میں سب سے مہنگی بجلی ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ جس طرح ہم نے معاہدے کیے کہ چاہے ہم بجلی خریدیں یا نہ خریدیں معاہدے ایسے ہیں کہ 2013 میں بجلی پیدا کرنے والوں کو ہم نے 180 ارب روپے کی ماہانہ ادا کرنا تھا، ہمارے حکومت آئی تو وہ 500 ارب پر پہنچا۔بجلی کی پیداوار پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ‘2023 میں 1500 ارب روپے بجلی کی کیپسٹی کی مد میں

خرچ کریں گے چاہے ہم استعمال کریں یا نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ اس کا بھی ایک مسئلہ ہے کہ سردیوں اور گرمیوں میں بجلی کے استعمال میں بہت فرق ہے، گرمیوں میں اگر 24 ہزار میگاواٹ کے قریب استعمال ہوتی ہے تو سردیوں میں گر کر 8 یا 9 ہزار پر آجاتی ہے اس کا مطلب یہ ہے سردیوں میں ہم بجلی نہیں استعمال کر رہے پیسے پھر بھی ہم نے دینے ہیں اور اس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوگئی ہے۔ہم نے کئی معاہدے کیے ہیں جس میں دنیا کے مقابلے میں بڑی مہنگی بجلی حاصل کی، یہ سب اس لیے ہوا کہ مختصر مدتی منصوبہ تھی، اس میں کرپشن بھی تھی اور مختصر مدتی سوچ بھی تھی کہ اگلے الیکشن کا سوچیں اور اس کی بنیاد پر ہم الیکشن جیت کر آگے چلیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *