براڈ شیٹ معاملہ ،نیب نے تحقیقات کے لیے پاکستانی پیسے کی گنگا بہا ئی تو بہتی گنگا سے غیر ملکی فرم نے بھی ہاتھ دھو لئے

اسلام آباد ( آن لائن /این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے تحقیقات کے لیے پاکستانی پیسے کی گنگا بہائی تو اس بہتی گنگا سے میٹرکس نامی ایک غیر ملکی فرم نے بھی ہاتھ دھوئے۔نیب نے برطانیہ میں نواز شریف کے علاوہ شریف خاندن کے 8 افراد کے خلاف کرپشن کے ثبوت تلاش کرنے کے لیے براڈشیٹ کو ٹھیکہ دیا اور براڈشیٹ نے نواز شریف کی جاسوسی کا ٹھیکہ میٹرکس نامی

ادارے کو دے دیا۔ اس دوران میٹرکس سے وابستہ افراد نے اسلام آباد آ کر نیب حکام کو پریزینٹیشن بھی دی، میٹرکس کے ایم ڈی رابرٹ بائرن نے تحقیقات کی تصدیق کی لیکن اس پر مزید تبصر ے سے انکار کر دیا۔میٹرکس کے ایم ڈی رابرٹ بائرن نے کہا کہ نیب کا رویہ دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ میٹرکس کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا۔دوسری جانب نیب کے سابق چیئرمین نیب جنرل امجد کے مطابق براڈشیٹ غیر ملکی اثاثوں کے ثبوت ڈھونڈنے میں ناکام رہی ۔ قبل ازیں قومی احتساب بیورو (نیب ) نے براڈ شیٹ کو جرمانے کی ادائیگی میں جلدی بازی کرکے قومی خزانے کو 69 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق نیب نے براڈ شیٹ کو جرمانہ ادا کرنے میں جلدی کر دی اور 43 لاکھ ڈالرز یعنی 69 کروڑ روپے کا وِد ہولڈنگ ٹیکس کاٹے بغیر براڈ شیٹ کو 28.7 ملین ڈالرز ادا کردیئے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قومی خزانے کو 69 کروڑ کا چونا لگا نے پر نیب کو نوٹس جاری کردیا۔نوٹس کے مطابق جرمانے کی رقم ادا کرنے سے پہلے 15 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کاٹنا ضروری تھا لیکن نیب نے جرمانہ ادا کرنے میں جلدی کر دی۔انکم ٹیکس ایکٹ کے مطابق اب نیب ایف بی آر کو 43 لاکھ ڈالرز ٹیکس جمع کرائے گا۔واضح رہیک ہ سابق صدر پرویز مشرف نے نواز شریف، آصف علی زرداری، بینظیر بھٹو اور دیگر کی پراپرٹیز کا پتہ چلانے کیلئے 1999 میں اثاثہ جات ریکوری سے متعلق برطانوی فرم براڈ شیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں تاہم نیب کی جانب سے یہ معاہدہ 2003 میں ختم کردیا گیا تھا جس کے خلاف فرم نے ثالثی عدالت میں نیب کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس پر عدالت نے اگست 2016 میں نیب کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اسے جرمانہ اداکرنے کا حکم دیا تھا۔حالیہ دنوں میں براڈ شیٹ کیس کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.