آپ وزیر رہے ہیں خود کو پروفیسر کہتے ہیں، طریقے سے بات کریں لیگی رہنما احسن قبال اور اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کے درمیان تلخ کلامی

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ حکومت کا براڈ شیٹ سے کوئی ورکنگ ریلیشن نہیں اور نہ ہی ایسٹ ریکوری یونٹ کسی بھی نجی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے،ایسٹ ریکوری یونٹ کے ٹرمز آف ریفرنسز کابینہ ڈویژن کی جانب سے 5 ستمبر 2018 کے نوٹی فائی کیے گئے ہیں جو عوام کے لیے

دستیاب ہیں۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں کے اجلاس کے دوران وقفہ سوال و جواب میں وفاقی وزرا و وزیر اعظم کے معاون خصوصی و مشیر نے اراکین اسمبلی کے سوالات کے جوابات دئیے۔کراچی سے دالبندین کیلئے پی آئی اے کی پرواز کی بحالی کے حوالے سے سوال کے جواب میں غلام سرور خان نے کہا کہ اس پر کام کیا جارہا ہے اور فروری تک اسے بحال کردیا جائے گا۔رکن قومی اسمبلی شجاع فاطمہ نے سوال کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کا حصہ ادارے کئی سالوں سے اپنا کام کر رہے ہیں، جب ادارے اپنا کام کر رہے ہیں تو اس کی کیا ایسا کردار ہے کہ اس پر کروڑوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔اس کے جواب میں وزیر اعظم کے مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے ٹرمز آف ریفرنسز کابینہ ڈویژن کی جانب سے 5 ستمبر 2018 کے نوٹی فائی کیے گئے ہیں جو عوام کے لیے دستیاب ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایسٹ ریکوری یونٹ کا کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ قائم کرنا ہے اور اس رابطے سے نتائج بہتر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رابطے کے مختلف طریقے ہیں، ہماری برطانیہ سے بھی ایسٹ ریکوری کا معاہدہ ہوا، اس کی سربراہی معاون خصوصی برائے احتساب کر رہے ہیں جو اس کی کوئی تنخواہ نہیں لیتے، اس کے علاوہ دیگر اداروں کے سربراہان اس میں کام کررہے ہیں جنہیں پہلے ہی سرکاری تنخواہ مل رہی تھی اور انہیں اس کام کے کوئی مزید پیسے نہیں دئیے جاتے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ اس پر اخراجات بہت کم ہیں اور اس نے اداروں کی ریکوریز میں معاونت فراہم کی ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے سوال کیا کہ براڈ شیٹ سے معلومات حاصل کرنا ایسٹ ریکوری یونٹ کے تحت آتا ہے یا نہیں اور کیا اس طرح کے اور بھی اداروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ اداروں کے درمیان رابطے قائم کرنے کے علاوہ اور کیا کام کرتا ہے۔شہزاد اکبر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ براڈ شیٹ کا معاہدہ حکومت کے ساتھ 2000 میں ہوا اور 2003 میں منسوخ ہوگیا۔

انہوںنے کہاکہ اس کے بعد 2008 میں اس کا حکومت سے دوبارہ رابطہ ہوا جس وقت انہیں 10 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی اور اس کی دوسری کمپنی انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری کو 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ 2009 میں نوٹس ملا کہ براڈ شیٹ کے پیسے غلط کمپنی کو دے دئیے گئے ہیں، پھر اس کمپنی کی آربیٹریشن کا عمل اسٹارٹ ہوا اور 2016 میں اس کا اختتام ہوا اور

حکومت پاکستان پر واجب الادا مقرر کیا گیا، 2018 کے مئی یا جون میں اس کا کوانٹم کا فیصلہ بھی آیا جس کی مد میں ساڑھے 21 ارب روپے کا جرمانہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ 2003 میں معاہدہ منسوخ ہونے کے بعد اس وقت حکومت کا براڈ شیٹ سے کوئی ورکنگ ریلیشن نہیں۔ مشیر احتساب نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کسی بھی نجی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام نہیں کر رہا ہے اور کسی کے ساتھ نیا معاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے آر یو رابطوں کے علاوہ تحقیقات میں معاونت، بین الاقوامی ایجنسیز کے

ساتھ مل کر کام کرنا اور بیرون ملک معاونت مدد دلوانے کا کام کیا ہے۔اجلاس کے دور ان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے ضمنی سوال کرنے کے لیے اسپیکر سے درخواست کی جسے اسپیکر نے مسترد کردیا جس پر لیگی رہنما اور اسپیکر اسمبلی کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ آپ لیڈر ہیں آپ کو مسلم لیگ (ن) نظر نہیں آتی جس پر اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ آپ وزیر رہے ہیں خود کو پروفیسر کہتے ہیں، طریقے سے بات کریں۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی چوہدری فقیر احمد نے

پورنوگرافی سے معاشرے میں بگاڑ کے حوالے سے قانون سازی کا مطالبہ کیا اور سوال کیا کہ سائبر کرائم کے کتنے مقدمے ہوئے اور لوگوں کو سزائیں ہوئی ہیں۔علی محمد خان نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور لوگوں کو بلیک میل کیا جارہا ہے، اس کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے اور پیکا ایکٹ میں وقتاً فوقتاً ترمیم بھی کی جارہی ہے۔مقدمات اور سزاؤں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں نیا سوال دے دیا جائے تو ہم اس کا پورا جواب دے دیں گے

۔مہناز اکبر نے سوال کیا کہ قانون کی بات کی جاتی قانون کے نفاذ کی بات کب کی جائیگی جس پر علی محمد خان نے کہا کہ ہمیں ان ہاتھوں کی طرف پہنچنا ہوگا جو ہمارے بچے اور بچیوں کی عزتوں کی طرف جارہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما افضل کھوکھر نے بات کرنے کا موقع ملنے پر کہا کہ 24 جنوری کو رات کے اندھیرے میں بغیر نوٹس کے حکومت نے میری بہن کا گھر گرایا،یہ کونسا آپریشن تھا، کس قانون کے تحت اور کس کے کہنے پر کیا گیا۔انہوں نے قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق پیش کی

جس میں انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور، اے ڈی سی ریونیو لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے، ڈی جی انسداد بدعنوانی کی استحقاق کا سوال اٹھاتا ہوں اور اس معاملے کو متعلقہ کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش کرتا ہوں۔اس تحریک کی اہلیت کے حوالے سے اسمبلی میں بابر اعوان نے کہا کہ رول 97 میں کہا گیا ہے کہ تحریک استحقاق پیش کرنے کا حق کی شرائط میں کہا گیا کہ معاملہ قومی اسمبلی کی مداخلت کی ضرورت کے مطابق ہو۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ رول 31 میں کہا گیا ہے کہ معاملہ ہر اسمبلی میں تقریر سے

متعلق ہو حتیٰ کہ اسپیکر کی اجازت ہو۔انہوںنے کہاکہ ہر تقریر کا موضوع اسمبلی میں موجود معاملات کے مطابق ہو، کسی بھی رکن کو تقریر کے دوران عدالتوں میں موجود معاملات پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کوئی ایسا قانون نہیں کہ کسی رکن اسمبلی کو سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کی اجازت دیتا ہو۔انہوں نے کہا کہ کہا گیا کہ رات کے اندھیرے میں کسی کا گھر اجاڑا گیا، یہ 45 کینال کی سرکاری زمین تھی جس کی قیمت ڈیڑھ ارب روپے تھی، سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے

اور نجی ملکیت میں زمین کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا ہے۔بابر اعوان نے کہاک ہجب کوئی مسئلہ عدلیہ میں ہو تو اسمبلی اپنا کوئی فیصلہ سنا نہیں سکتی اس وجہ سے یہ مسئلہ یہاں نہیں اٹھایا جاسکتا۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے دو عدالتوں سے رجوع کیا، ہائی کورٹ میں ہم نے بتایا کہ ہم صرف سرکاری زمین کو واگزار کرانا چاہتے ہیں جس پر لاہور ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔انہوں نے

کہا کہ کوئی قانون ایسا نہیں کہ آئینی ادارہ کسی قبضہ گروپ کو تحفظ فراہم کرے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے اسی گروپ سے 80 کینال سے زمین واگزار کرائی جس کی قیمت 3 ارب بنتی ہے، ان سے شیخوپورہ میں ایک ہزار کینال زمین برآمد کرائی جس کی قیمت 7 کروڑ روپے ہے’۔بابر اعوان نے کہاکہ قوم حیران ہوتی ہے ان پر جو قبضہ گروپ کے ساتھ کھڑے ہوکر اداروں کو کہتے ہیں کہ ہم تمہیں دیکھ لیں گے۔ان کی اس بات پر اپوزیشن ممبران نے اسمبلی میں شور شرابہ کیا اور شدید احتجاج کیا۔بابر اعوان نے کہا اسپیکر سے

استدعا کی کہ یہ چوری اور لوٹے ہوئے مال کے خلاف تحریک ہے اسے مسترد کیا جائے۔لیگی رہنماؤں کی ایک بار پھر اسپیکر اسمبلی سے تلخ کلامی ہوئی اور اسپیکر اسمبلی انہیں خاموش کراتے رہے۔بعد ازاں افضل کھوکھر کو رد عمل دینے کا موقع دیا گیا جس پر انہوں نے کہا بابر اعوان صاحب نے میرا نام لیکر مجھ پر الزامات لگائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے قبضہ کیا ہے، مجھے قبضہ گروپ کہا گیا میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ اسے کمیٹی میں لیکر جائیں، ہم اس کے چوتھے اور بونافائیڈ خریدار ہیں۔انہوںنے کہاکہ ماضی میں

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے بھی انکوائری کرائی تھی اس میں بھی ہم سرخرو ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ چند دن قبل 12 لاکھ روپے میں بنی گالہ ریگولرائز ہوسکتا ہے تو ہمارا گھر کس قانون کے تحت گرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ معزز رکن اسمبلی پر انہوں نے جو الزام لگائے انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ قبضے کی زمینوں پر بیٹیوں کے بہنوں کے گھر نہیں بنائے جاتے، ہمیں قبضہ گروپ کہا جاتا ہے عمران خان سے بڑا کوئی قبضہ گروپ نہیں، ہم نے زمان پارک نہیں بنائے، ہم نے اپنی بہنوں کو

سرکاری فنڈز سے سلائی مشینیں نہیں دلوائیں۔افضل کھوکھر نے کہاکہ مجھے قبضہ گروپ کہا گیا، کمیٹی میں بابر اعوان ثبوت لیکر آئیں اور ہم بھی ثبوت لیکر آئیں گے، اگر میں جھوٹا نکلا تو جو سزا دیں گے قبول کروں گا مگر آپ جھوٹے نکلے تو کون اس کا جواب دے گا۔اس پر اسپیکر اسمبلی نے تحریک استحقاق پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔بعد ازاں اسپیکر اسمبلی نے اسمبلی کی کارروائی یکم فروری کو پانچ بجے تک کیلئے ملتوی کردی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.