چوروں کی نماز جنازہ پر پابندی عائد

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں قبائلی جرگے نے چوروں کی نماز جنازہ پر پابندی لگا دی فیصلہ کیا گیا ہے کہ قتل ہونے والے چوروں کا انتقام بھی نہیں لیا جائے گا ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں گزشتہ کچھ عرصے سے چوروں نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ اس سسلے میں مقامی عمائدین نے متعدد مرتبہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی

توجہ بھی دلائی مگر وارداتیں کم ہونے کے بجائے تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔نجی ٹی سماء کے مطابق آئے رات کی چوری ڈکیتی سے تنگ آکر مقامی قبیلہ سپاہ نے اتوار کو اسپین قبر کے مقام پر گرینڈ جرگہ منعقد کیا جس میں قبیلہ سپاہ کے تینوں ذیلی شاخوں کے مشران نے شرکت کی۔جرگے میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ چور کو دیکھتے ہی گولی ماری جائے گی جبکہ اس کے خاندان والے اس قتل کا بدلہ نہیں لیں گے۔ چور کی نمازہ جنازہ پر مکمل پابندی ہوگی اور کوئی بھی چور کی نمازہ جنازہ میں شرکت نہیں کرے گا۔اس موقع پر جرگے نے قبیلے کے چیدہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو ان فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گی اور اس سلسلے میں پولیس، ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرے گی۔کمیٹی کے ارکان میں ذیلی شاخ ورمزخیل سے ولت خان، تراب علی، افتخار آفریدی، ملک دین خیل، سید گل، جہانگیر، سید غنی اور آصف شامل ہیں۔ غیبی خیل قبیلے سے درستہ جان، سلطان اکبر، یار اکبر، گل خان اور حاجی فضل کریم جبکہ سوران خیل کی نمائندگی وارث خان، مہک شاہ، شیر محمد اور عمر خان کریں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.