دفتر اٹارنی جنرل براڈشیٹ کو جلد ادائیگی کا مطالبہ کرتا رہا انصار عباسی کے تہلکہ خیز انکشافات ، نیا پنڈوراباکس کھل گیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دفتر اٹارنی جنرل مارک اپ اور دیگر اخراجات سے بچنے کے لئے براڈشیٹ کو انعام کی رقم ادا کرنے کے لئے 2018 سے نیب پر دبائو ڈال رہا ہے لیکن بیورو راضی نہیں ہوا جس کی وجہ سے 21 ملین ڈالر کے اصل ایوارڈ کے مقابلے میں 29 ملین امریکی ڈالر ادا ہوئے۔

روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق سابق اٹارنی جنرل انور منصور کے قریبی ایک قابل اعتماد ذریعہ نے بتایا کہ اس موضوع پر منعقدہ سرکاری اجلاسوں میں 2018 میں ثالثی ٹریبونل کی جانب سے ایوارڈ کے اعلان کے فوری بعد لاگت اور مارک اپ سے بچنے کے لئے منصور نے نیب کو انعام کی رقم ادا کرنے کی تجویز دی تھی۔ تاہم ذرائع نے کہا کہ نیب کا خیال تھا کہ اگر اپیل کے آپشن سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو یہ آڈٹ اعتراضات کا باعث بنے گا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ منصور نے خبردار کیا تھا کہ اس کا امکان نہیں ہے کہ اپیل کے مرحلے پر نیب کو کچھ بھی مل جائے لہذا بہتر ہے کہ آڈٹ اعتراض کو فراموش کریں اور پاکستان کو زیادہ قیمت ادا کرنے سے بچائیں کیونکہ تاخیر سے مارک اپ اور لاگت دونوں میں اضافہ ہوگا۔ حتی کہ انور منصور کی رخصتی کے بعد اور خالد جاوید خان کی بطور اٹارنی جنرل پاکستان تعینات ہونے کے بعد اضافی مارک اپ اور دیگر اخراجات سے بچنے کے لئے اے جی آفس تاخیر سے

گریز کرتے ہوئے دباو ڈالتا رہا۔ تاہم رابطہ کرنے پر نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ اٹارنی جنرل آفس ہے جو بین الاقوامی ثالثی کے معاملات بشمول براڈشیٹ کیس کے لئے قانونی مشاورت کا اہتمام کرتا رہا ہے۔ ان ذرائع نے کہا کہ اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کے بجائے نیب پر الزام منتقل کرنا ناجائز ہے۔

اس معاملے پر بیورو کے باضابطہ جواب کے لئے نیب کے ترجمان سے بھی رابطہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ عہدیداروں کے پاس اٹھائیں گے تاکہ وہ اخبار کے لئے جواب حاصل کرسکیں۔ اس معاملے پر نیب کی رائے کا ابھی تک انتظار ہے اور اسے بھیجنے کے

بعد شائع کیا جائے گا۔ دریں اثنا ذرائع کا کہناتھا کہ 2019 میں وزیر اعظم نے وزیر قانون ، اٹارنی جنرل اور وزیر اعظم کے موجودہ مشیر برائے داخلہ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اسی کمیٹی نے براڈشیٹ کے مالک سے عدالت سے باہر تصفیے کے لئے بات چیت کرنے کا

فیصلہ کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے شہزاد اکبر اور دیگر عہدیداروں نے 2019 میں کاوی موسوی سے ملاقات کی تھی۔ تاہم یہ رابطے بغیر کسی مثبت نتیجے کے ختم ہوگئے۔ اس کے بجائے دیر سے موسوی نے 29 ملین ڈالرز ادا کئے جانے کے بعد نہ صرف شہزاد اکبر کے خلاف

بات کی بلکہ ایک پاکستانی سینئر عہدیدار پر براڈشیٹ سے “کٹوتی” کا مطالبہ کرنے کے الزامات بھی لگائے۔ موسوی نے دعوی کیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے 2019 میں پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کے مبینہ 1 ارب ڈالرز کی بازیابی کیلئے براڈشیٹ کی خدمات حاصل کرنے

کیلئے ان سے رابطہ کیا تھا۔ موسوی نے زور دے کر کہا کہ شریف نے سنگاپور کے ایک بینک میں ایک ارب ڈالرز چھپا رکھے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی حکومت کو اس بات پر یقین نہیں کہ موسوی کا دعوی سچ ہے۔ اگرچہ براڈشیٹ کے مالک نے اس پر اصرار کیا کہ انہوں نے “کٹوتیوں” کے مطالبہ کے بعد حکومت سے ایک نئے معاہدے پر بات چیت ختم کردی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.