14ہزار تنخواہ ہے، اس میں بل ادا کریں یا بچوں کیلئے روٹی لائیں، بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ، شہری پھٹ پڑے،

کراچی(این این آئی)بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافے پر شہری حکومت کے خلاف پھٹ پڑے۔ حکومت سے بجلی کی قیمت میں اضافے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔شہریوں نے کہاکہ دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہوگیاہے، بجلی کی قیمت بڑھنے سے پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے سبب پہلے ہی کاروبار نہ ہونے کے برابر ہیں، بل ادا کریں یا بچوں کاپیٹ بھریں۔شہریوں نے

موقف اختیار کیا کہ موجود حکومت غریب کو ریلیف دینے کی بجائے غریب کو مار رہی ہے، ایک ماہ میں دو بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، اس پر مستزاد ہر ماہ بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بجلی، گیس ،پیٹرول ہر چیز مہنگی ہوچکی ہے، غریب آدمی کرے تو کیا کرے۔ دن بھر مزدوری کرتے ہیں، رات کو ایک وقت کی روٹی بھی پوری نہیں ہوتی، مزدور کی 14ہزار تنخواہ ہے، اس میں بل ادا کریں یا بچوں کے لیے روٹی لائیں۔واضح رہے کہ وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت بجلی سے متعلق لازمی ادائیگی 227 ارب روپے کی بارودی سرنگ ہمارے لئے چھوڑ کر گئی اور اب بجلی کی قیمت ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ بڑھانے جارہے ہیں۔اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر اور معاون خصوصی تابشگوہر کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)نے بجلی کی مد میں لازمی ادائیگی کا قرضہ ہمارے لیے چھوڑا جو 227 ارب روپے تھا۔عمر ایوب نے بتایا کہ بجلی استعمال کی جائے یا نہ کی جائے بجلی کے کارخانوں کو 2023 تک ایک ہزار 455 ارب روپے ادائیگی کرنی پڑے گی، یہ وہ بارودی سرنگ ہے جو مسلم لیگ (ن)نے قصدا، بدنیتی کے ساتھ ایسے معاہدے کیے۔اس دوران وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے وضاحت دی کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے جو معاہدے کیے اس کے نتیجے میں لازمی ادائیگی کی رقم کو پورا کرنے کے لیے 9 روپے فی یونٹ اضافہ کرنا تھا، سابقہ حکومت کے انہی فیصلوں کی وجہ سے گردشی قرضوں میں اضافہ ہورہا ہے۔عمر ایوب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صرف توانائی کے شعبے سے عوام کے تحفظ کے لیے گزشتہ سال 473 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ

مسلم لیگ (ن)نے غلط کارخانے لگائے جس میں درآمدی فیول استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک سال کے اعداد و شمار لیں تو 2 روپے 18 پیسے اضافہ ہونا چاہیے تھا جبکہ ہم نے بجلی کے فی یونٹ میں ایک روپے 95 پیسے کا اضافہ کرنے جارہے ہیں۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسدعمر نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں 208 ارب روپے کے ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے۔اس ضمن میں انہوں نے مزید کہا کہ دسمبر 2020 میں دسمبر 2019 کی نسبت بر آمدات میں اضافہ ہوا جو گزشتہ 12 سال میں کسی ایک ماہ میں اتنا اضافہ دیکھنے میںآیا۔اسد عمر نے کہا کہ نومبر میں مجموعی طور پر بڑی صنعتوں میں دہائیوں کے بعد 15 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی، ان کا کہنا تھا کہ بڑی 15 میں سے 10 صنعتوں میں

تیزی نظر آئی۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے پاکستان ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت پہلے 6 ماہ میں 208 ارب روپے کی ترقیاتی کام کروائے گئے جو پی ایس ڈیپی کے سالانہ بجٹ کا 32 فیصد بنتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایکسپورٹس میں ساڑھے اٹھارہ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وفاق کے تحت جاری ترقیاتی پروگرام کی نگرانی کا نظام انتہائی فعال اور مثر ہے۔اسد عمر نے کہا کہ

کرنٹ اکانٹ خسارہ سرپلس نظر آرہا ہے اور ایسا ایک دہائی کے بعد دیکھنے میں نظر آیاہے۔وفاقی وزیر نے یاد دہانی کرائی کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے تین ماہ پہلے ماہانہ خسارہ اوسطا 2 ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اعلان کیے گئے انڈسٹریل ٹیرف کے نتیجے میں مثبت اعشاریے سامنے آرہے ہیں، بجلی کے استعمال میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ پچھلی حکومت سب سے بڑا چیلنج بجلی کا نظام ہمارے لیے چھوڑ کر گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.