پاکستان میں گاڑیاں سستی ہونے کا امکان

لاہور(این این آئی)انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور وزارت صنعت و پیداوار نے اگلے پانچ سالوں کے لیے نئی آٹوموٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پلان پر کام کرنا شروع کر دیا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی اجلاس میں یہ بات زیر غور آئی کہ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ حکومت آئندہ اے آئی ڈی ای پی میں پورے آٹو سیکٹر کے لیے

کسٹمز ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی) اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)پر کمی لاسکتی ہے۔لیکن اس کے بدلے میں حکومت یہ توقع رکھتی ہے کہ (او ای ایم ایس)اصل ساز و سامان تیار کرنے والی کار ساز کمپنیوں کے ذریعے قیمتوں میں کمی کی جائے گی جبکہ لوکلائزیشن میں اضافہ اور برآمدات میں اضافے کے لیے ٹھوس کوشش کی جائے گی۔مسودے کے مطابق مقامی گاڑی تیار کرنے والی کمپنیوں کو لوکلائزیشن میں اضافے کے لیے مقامی سطح پر آٹو پارٹس تیار کرنے والوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنا چاہیے تاکہ قیمت میں کمی، استحکام اور روزگار پیدا ہو۔ہنڈائی، کییا، چنگن اور یونائیٹڈ موٹرز جیسی چند نئی کمپنیوں کو گرین فیلڈ کا درجہ مل گیا ہے جس کی مدد سے وہ سی کے ڈی کی درآمد پر کم ڈیوٹی ادا کرسکتے ہیں۔ گرین فیلڈ درجے کی حامل کمپنیوں کو مقامی پارٹس (جو پاکستان میں بننے کے باوجود باہر سے منگوائے جاتے ہیں)پر ڈیوٹی 25 فیصد جبکہ غیر مقامی پارٹس (جو پاکستان میں نہیں بنتے) پر 10 فیصد دینا ہوگی۔ایک کمپنی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پرانی اور نئی گاڑیوں کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد فرق آئے گا لیکن کام کرنے والی پرانی کمپنیاں اس فرق کو 15 فیصد تک بھی لاسکتی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.