ہم ان سلیکٹڈ حکمرانوں کا جنازہ پڑھ کے ہی چھوڑیں گے کیونکہ مولوی جنازہ پڑھ کے ہی چھوڑتا ہے

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے آج بھی 2018 کے الیکشن مسترد کرنے کے مؤقف پر قائم ہیں،اپنی مرضی کے نتائج مرتب کر کے قوم پر ڈفلی والے کو مسلط کردیا گیا،خواب دکھایا تھا ریاست مدینہ کا،عوام جو اٹھی تو کوفہ کی ریاست تھی، یہود و ہنود عمران خان

کو سہارا دے رہے ہیں، مولویوں کو 10 ہزار روپیہ وظیفہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے،کوئی غیرتمند عالم یہودیوں اور ہندوؤں کا پیسہ قبول نہیں کرے گا، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 6 سال سے تاخیر کا شکار ہے،دوسرے فیصلوں میں فوری انصاف کا تقاضا کیا جاتا ہے،ملک معاشی بحران کا شکار،ناکام خارجہ پالیسی کیساتھ پاکستان کو کیسے آگے لے کر چلیں گے،چین،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات بھی ہم پر اعتماد نہیں کرتے،حکمرانوں کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا، جنازہ پڑھ کر ہی چھوڑیں گے،مدارس کے طلباء عاقل بھی ہیں بالغ بھی، احتجاج قانونی حق ہے، وزیر اخلہ وہ وقت بھول گئے جب زمانہ طالب علمی میں اپوزیشن کے جلسوں میں ڈانس کیا کرتے تھے۔ الیکشن کمیشن کے باہر پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے ہونیوالے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے اگست 2018ء کو اسی جگہ مظاہرہ کرکے 2018ء کے الیکشن کو متفقہ طور پر مسترد کیا تھا اور آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت منتخب ہے اور نہ ہی اسے ملک پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی الیکشن کمیشن بے بس ہے جو منصفانہ انتخابات نہیں کراسکی اور طاقتور اداروں نے

انتخابات پر قبضہ کرلیا، انہوں نے نتائج مرتب کیے اور قوم پر ایک ڈفلی بجانے والے کو مسلط کردیا۔ انہوں نے کہا کہ نااہل افراد پر مشتمل حکومت بنائی گئی اور اس کے پیچھے طاقتور ادارے کھڑے ہیں جو اصل حکمران ہیں، یہ ہی ان کا مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ نا اہل حکمران اس لئے حکمران بنایا گیا کہ یہ احمق سامنے رہے اور حکومت

ہم کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اداروں نے پاکستان کو یہاں تک پہنچایا ہے پھر کہتے ہیں اداروں کے بارے میں بات نہ کریں۔انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواب دکھایا تھا ریاست مدینہ کا،عوام جو اٹھی تو کوفہ کی ریاست تھی۔انہوں نے وزیراعظم کا نام لئے بغیر دعویٰ کیا کہ یہ یہودی ایجنٹ ہے اور اسے وہاں سے مدد

حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیل اور بھارت کے فنڈز سے انتخابات لڑے ہیں اور اسی پر اپنی پارٹی تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہود و ہنود عمران خان کو سہارا دے رہے ہیں،حقائق سے منہ پھیریں دائیں بائیں نکے دے ابا نظر آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ پیسہ ہے کہ جس کے بارے میں 2013 کے الیکشن کے بعد بتایا گیا کہ اتنا پیسہ

ہے کہ گلی کوچے تک پہنچے گا، ایک ایک مسجد تک جائے گا، ایک ایک مولوی کے پاس جائے گا اور مولانا فضل الرحمن تم تنہا رہ جاؤ گے اور کوئی مولوی بھی ساتھ کھڑا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مولویوں کو 10 ہزار روپیہ وظیفہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے،خیبرپختونخوا میں حکومت کو ایک مولوی ایسا نہیں ملا جس نے 10

ہزار روپے وظیفہ قبول کرنے کی حامی بھری ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک مولوی نے پیسہ ان کے منہ پر مارا اور اب پھر اعلان کیا گیا کہ مولوی کو پیسہ دیں گے۔انہوں کہا کہ یں اعلان کرتا ہوں کہ ہم تمہارا پیسہ تمہارے منہ پر مارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی غیرتمند عالم یہودیوں اور ہندوؤں کا پیسہ قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ

فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 6 سال سے تاخیر کا شکار ہے جبکہ دوسرے فیصلوں میں فوری انصاف کا تقاضا کرتے ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ایک طرف ملک معاشی بحران کا شکار ہے تو دوسری طرف دوست ممالک ملک کی خارجہ پالیسی سے خفا ہیں کہ چین اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات بھی ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔انہوں نے

کہا کہ پڑوسی ممالک افغانستان،ایران اور بھارت کے کیمپ میں چلے گئے ہیں اس خارجہ پالیسی کے ساتھ پاکستان کو کیسے آگے لے کر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مودی کی ایماء پر کشمیر کا سودا کیا ہے اس لئے 5 فروری کو کشمیر فروشی کے خلاف مظاہرہ ہوگا اور اس بنیاد پر ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔انہوں

نے کہا کہ ہمیں 5 فروری کو ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر مظاہرے کرنے ہیں اور راولپنڈی لیاقت باغ میں بہت بڑا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریگا اورحکمرانوں کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ اب 5 فروری کو ملیں گے جب تک ان کا جنازہ نہیں نکلتا۔ انہوں نے کہا کہ

مولوی جنازہ پڑھ کر ہی چھوڑتا ہے ہم ان سلیکٹڈ حکمرانوں کا جنازہ پڑھ کر ہی چھوڑیں گے۔انہوں نے وزیر داخلہ شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کے طلبہ عاقل بھی ہیں اور بالغ بھی،اس لئے احتجاج کرنا ان کا بھی قانونی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دینی مدارس کے طلباء کو جلسہ سے روکتے ہیں شیخ رشید وہ وقت بھول

گئے جب زمانہ طالب علمی میں اپوزیشن کے جلسوں میں ڈانس کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دینی مدارس سے کیوں ڈرتے ہیں، ایک طرف کہتے ہیں کہ دینی مدارس قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں، جب وہ پاکستان کی مثبت سیاست میں جانا چاہتے ہیں، تو آپ کہتے ہیں کہ وہاں بھی نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ 5فروری کو دینی مدارس کے طلباء بھی شریک ہونگے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.