سعودی عرب میں شدید سردی کی لہر درجہ حرارت کہاں تک گرنے کا امکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو پیشگی خبردار کردیا

ریاض (این این آئی )سعودی عرب میں محکمہ موسمیات کے ماہرین نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مملکت میں درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی واقع ہوگی، یہاں تک کہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت صفر ڈگری تک گر سکتا ہے۔ادھرسعودی عرب میں قومی مرکز برائے

موسمیات نے بتایا ہے کہ قریات میں دوسرے روز کم ترین درجہ حرارت ایک درجے سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی القصیم یونیورسٹی میں محکمہ جغرافیہ و موسمیات کے پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ المسند نے کہا کہ توقع ہے کہ درجہ حرارت آہستہ آہستہ منگل تک کم ہونا شروع ہوگا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ کے ذریعے مزید کہا کہ جمعرات کے روز شمالی اور شمال وسطی علاقوں میں یخ بستہ شمالی ہوائوں کے نتیجے میں درجہ حرارت صبح کے وقت صفر درجے سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے سے سعودی عرب میں موسم میں بہتری آنا شروع ہوگی۔دوسری جانب سعودی عرب کے عسیر ریجن میں بللسمر کے علاقے میں پچاس برس بعد زبردست برفباری کی اطلاعات ہیں۔ مملکت کا یہ علاقہ جنوب مغرب میں واقع ہے۔ برفباری نے مقامی شہریوں اور غیر ملکی تارکین وطن نے خوشی اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق برفباری سے کھیتوں اور زرعی فارموں

کے مناظر دلکش ہوگئے۔ بللسمر کے باسیوں نے برفبای کے مناظر کی تصاویر اور وڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔ موسمیات کے ماہرین اور بزرگوں کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔بللسمر کا علاقہ سطح سمندر سے 3 ہزار میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں درجہ حرارت میں

کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہاں 50 برس میں پہلی بار یہ منظر دیکھنے کو ملا ۔ الاسمری نے کہا کہ بللسمر شہر میں تقریبا ایک ہفتے سے روزانہ بارش ہورہی ہے۔ اکثر یہاں کا مطلع ابر آلود رہتا ہے۔بللسمر اور عسیر کے بیشتر علاقوں کا موسم ان دنوں تیزی سے رنگ بدلتا رہتا ہے۔

یہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد پر پہنچنے کی وجہ سے برفباری بھی ہوئی۔موسمیات کے قومی مرکز نے امکان ظاہر کیا کہ عسیر ریجن میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے والی ہے۔ یہاں مزید برفباری ہوگی۔فلکیات کی عرب تنظیم کے رکن ڈاکٹر خالد الزعاق نے بتایا کہ موسم سرما کا دوسرا حصہ شروع ہوگیا۔ اس دوران سخت سردی پڑے گی۔ یہ موسم 26 دن جاری رہے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.