پاکستان کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس میں تاریخی بلندی، زبردست اضافہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پی بی ایس کے جاری کردہ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر2020-21ء میں ٹیکسٹائل کی برآمدات 7442.425 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں جبکہ اس کے مقابلے میں جولائی تا دسمبر 2019-20 میں 6904.689 ملین ڈالر کی برآمد ہوئی تھی،ٹیکسٹائل کی اجناس جو مثبت تجارت میں اضافے کا باعث بنیں ان میں نٹ ویئر بھی شامل تھے، جن کی برآمدات گزشتہ سال کے دوران 1586.923 ملین ڈالر رہیں جبکہ رواں سال 1849.605 ملین ڈالر ہوگئیں، 16.55 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔اسی طرح بستروں کی برآمدات میں 16.38 فیصد اضافہ ہوا اور برآمدات بڑھتے ہوئے 1394180 ملین

ڈالر تک پہنچ گئیں۔ رواں سال تولیوں کی برآمدات میں 17.47 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح خیموں، کینوس اور ترپال کی برآمدات میں 57.77 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات 5.54 فیصد اضافے سے برآمدات 1490.370 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔مزید برآں، آرٹ، ریشم اور مصنوعی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 0.17 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں پاکستان کی تجارتی برآمدات میں 4.98 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔دوسری جانب کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف نے برآمدات سے متعلق ریسرچ اینڈ سٹڈی سیکرٹریٹ کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کو کلیدی کردار سونپا جائے، مختلف ممالک کی جانب سے دنیا سے درآمدکی جانے والی مصنوعات،ان کے حجم،مسابقتی قیمتوں اور بدلتے ہوئے رجحانات بارے سٹڈی کر کے سفارشات پیش کرنا اس سیکرٹریٹ کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ اپنے ایک بیان میں چیئر پرسن پرویز حنیف نے کہا کہ چل چلاؤ اورڈھنگ ٹپاؤ پالیسیوں سے سمت کا تعین نہیں ہو سکتا جس کے لئے ہمیں کام کرنا ہوگا۔بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کی مارکیٹوں تک ہماری رسائی نہیں یا وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.