اس صورت میں شریف خاندان کیخلاف جمع کئے گئے شواہد پاکستانی حکومت کو دے سکتے ہیں، براڈ شیٹ کمپنی چیف کے مزید تہلکہ خیز انکشافات

لندن(این این آئی ) براڈ شیٹ کمپنی کے سربراہ کاوے موسوی نے کہاہے کہ پاکستانی سیاسی شخصیات کے بیرونِ ملک اثاثہ جات کا سراغ لگانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے حوالے سے موجودہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ان کی بات چیت جاری ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی

رضاکارانہ طور پرموجودہ حکومت کو برطانیہ میں ایک ارب ڈالر مالیت کے ایک مشکوک بینک اکائونٹ کی نشاندہی کر چکے ہیں تاہم پاکستانی حکومت نے تاحال اس کا کھوج لگانے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی اوریہ اکائونٹ کس کا ہے،یہ پاکستانی حکومت کو پتہ ہے،کاوے موسوی کے مطابق حکومت کے ساتھ معاہدہ ہو جانے کی صورت میں وہ شریف خاندان کے خلاف جمع کیے گئے شواہد پاکستانی حکومت کے حوالے کر سکتے ہیں۔کاوے موسوی نے کہاکہ جنرل (ر)پرویز مشرف خاص طور پر نواز شریف، بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے بیرونِ ملک اثاثہ جات کا سراغ لگا کر مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم پاکستان واپس لانے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن ہم کسی سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے جو کہ اس وقت ظاہر ہو رہا تھا کہ مشرف کرنا چا رہے تھے۔ اس لیے ہم نے واضح کر دیا کہ ہم صرف ان تین شخصیات کے پیچھے نہیں جائیں گے۔ابتدائی بات چیت کے بعد نیب اور پاکستانی حکومت کے ساتھ ان کا معائدہ طے پایا۔ انھیں ان تین شخصیات سمیت 200 اہداف کی ایک فہرست فراہم کی گئی۔معاہدے کے مطابق نیب نے انھیں مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا تھیں جن کی بنیاد پر براڈشیٹ ایل ایل سی کو ان افراد کی طرف سے بیرونِ ملک رکھی گئی مبینہ کرپشن کی رقم کا سراغ لگا کر ثبوت فراہم کرنا تھے اور اسے

پاکستان واپس لانے میں مدد فراہم کرنا تھی۔نیب نے ہم سے کہا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں، آپ پیسہ خرچ کریں، ان افراد کے اثاثہ جات کا سراغ لگائیں اور لوٹی ہوئی رقم واپس دلانے میں ہماری مدد کریں۔ کل رقم کا 20 فیصد حصہ آپ کو معاوضے کے طور پر دیا جائے گا۔کاوے موسوی کے مطابق وہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے پیسے کا

سراغ لگا رہے تھے اور انھوں نے مبینہ طور پر کئی بینک اکائونٹس کے حوالے سے موزوں شواہد حاصل کر لیے تھے جن میں سے کئی اکانٹس کو منجمد بھی کروایا گیا تھا۔تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ جن بینک اکائونٹس کا کھوج انھوں نے نکالا وہ کون سے تھے اور کن ممالک میں موجود بنائے گئے تھے تو موسوی کا کہنا تھا کہ وہ تاحال یہ

معلومات عام کرنے کے مجاز نہیں کیونکہ یہ معاملہ اس وقت برطانیہ کی عدالت کے پاس تھا تاہم اگر کبھی اس حوالے سے دیا گیا عدالتی فیصلہ سامنے منظرِ عام پر آ جاتا ہے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جج نے اس میں کیا لکھا ہے۔ایک مثال میں دے سکتا ہوں کہ ہمیں امریکی شہرنیو جرسی میں اکانٹس ملے، ہمیں لندن، سوئٹرزلینڈ اور

جزیرہ کیمن میں اکائونٹس ملے۔ ہم واضح طور پر دیکھ سکتے تھے کہ یہ اکائونٹس یا تو خود نواز شریف اور یا ان کے معتبر دوستوں کے تھے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کے وہ ان اکائونٹس کو منجمد کروانے کے لیے حرکت میں آتے انھیں دھوکہ دہی سے ہٹا دیا گیا۔کاوے موسوی کے مطابق نیب نے موقف اختیار کیا تھا کہ براڈ شیٹ

مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر پائی تھی۔ براڈشیٹ کے سربراہ کے مطابق حقیقت اس کے برعکس تھی۔حقیقت میں ہم نے نیب کو لاکھوں ڈالرز مالیت کے بینک اکائونٹس کا سراغ لگا کر ثبوت فراہم کیے اور ان سے کہا کہ وہ اس رقم کو واپس لانے کے لیے متعلقہ حکومتوں کو قانونی چارہ جوئی کی درخواست دیں اور درخواست تحریر بھی کر کے

فراہم کی۔انھوں نے دعوی کیا کہ نیب نے نہ صرف اس پر عمل نہیں کیا بلکہ اگلے ہی روز نیب کی طرف سے ہمیں کہا جاتا تھا کہ آپ اس ہدف کا نام فہرست سے نکال دیں۔کاوے موسوی نے پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا ،ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے شیر پا ئوکے ایک لاکھوں ڈالر مالیت کے اکائونٹ کا

سراغ نیو جرسی میں لگایا۔ نیب کو آگاہ کیا گیا اور انھیں کہا گیا کہ آپ نیو جرسی میں حکام کو لکھیں تاکہ یہ رقم پاکستان لائی جا سکے۔مگر نیب نے ہمیں اعتماد میں لیے بغیر حکام کو لکھا کہ ہمیں اس اکائونٹ سے مسئلہ نہیں ہے لہذا اسے کھول دیا جائے۔ اس کے بعد اس میں سے رقم نکلوا لی گئی اور ساتھ ہی شیر پائو کو وزیرِ داخلہ بنا دیا گیا۔

کاوے موسوی کا کہنا تھا کہ نیب نے اہداف کے پیچھے جانے کے بارے میں فراہم کی جانے والی خفیہ معلومات بھی لیک کیں۔ہم ایک ہدف کے پیچھے جاتے تھے تو پتا چلتا تھا کہ وہ پہلے ہی اکانٹ سے پیسے نکلوا کر اکانٹ بند کر کے نکل گیا ہے کیونکہ نیب کے اندر سے کوئی انھیں پہلے ہی خبردار کر دیتا تھا کہ ہم اس کے پیچھے آ رہے ہیں۔

کاوے موسوی کے مطابق جب ہم اس حوالے سے نیب سے سوال کرتے تھے تو وہ انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اس کی تردید نہیں کرتے تھے بلکہ ہمیں کہا جاتا تھا کہ آپ اس شخص کا نام اہداف کی فہرست سے نکال دیں۔کاوے موسوی نے کہاکہ انھوں نے لاکھوں ڈالرز کی رقم ان تین برس میں ان اکائونٹس اور اثاثہ جات

کا سراغ لگانے پر خرچ کی تاہم نیب نے ان سے معاہدہ ختم کرنے کے بعد انھیں کسی قسم کی ادائیگی نہیں کی۔2004 میں انھوں نے معاوضے کی رقم حاصل کرنے کے لیے مصالحتی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد نیب کے ایک نمائندے نے انھیں پانچ لاکھ پائونڈز لے کر چلے جانے کی پیشکش کی جسے لینے سے

انھوں نے انکار کر دیا۔میں نے ان سے کہا کہ جنرل صاحب اس میں دو صفر اور بھی لگا لیں کیونکہ جتنی رقم کا ہم نے آپ کو سراغ لگا کر دیا تھا اس کا 20 فیصد اتنا ہی بنتا ہے۔وہ اس پر راضی نہیں ہوئے اور عدالتی کارروائی چلتی رہی۔براڈ شیٹ کے موسوی نے دعوی کیا کہ اسی عدالتی کارروائی کے دوران سنہ 2012 میں انجم ڈار نامی

ایک شخص نے ان سے رابطہ کیا اور خود کو نواز شریف کا بھتیجا ظاہر کیا۔اس شخص نے کہا کہ وہ شریف خاندان کے خلاف ہمارے پاس موجود معلومات کے بارے بات کرنا چاہتا ہے۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس ملاقات کے دوران اس شخص نے شریف خاندان کے اثاثہ جات کے حوالے سے معلومات اور شواہد سامنے نہ لانے کے عوض

25 ملین ڈالر ادا کرنے کے پیشکش کی جسے انھوں نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ اس قسم کی کوئی بھی رقم مصالحتی عدالت کے ذریعے ادا کی جائے۔تاہم جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ جب وہ سنہ 2003 میں اپنی تحقیقات ختم کر چکے تھے تو لگ بھگ دس برس بعد شریف خاندان ان سے کیوں رابطہ کرتا، کاوے موسوی کا کہنا تھا کہ ‘شریف خاندان

کو معلوم تھا کہ جب یہ معاملہ مصالحتی عدالت کے سامنے جائے گا تو جج اس کی طے میں جائے گا اور یوں ایک مرتبہ پھر ان کی مبینہ کرپشن کا معاملہ سامنے آ جائے گا جو وہ نہیں چاہتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں اس نام کا کوئی شخص ہے ہی نہیں اور یہ کہ ایک محقق کی حیثیت سے موسوی کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ

الزام عائد کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کیسے کر سکتے تھے۔اس کے جواب میں موسوی کا کہنا تھا کہ اس شخص نے انھیں نواز شریف کے گھر پر ان کے ساتھ بغلگیر ہونے کی اپنی تصاویر دکھائی تھیں اور ساتھ ہی میرے سامنے انھوں نے نواز شریف کے ساتھ فون پر بات کی تھی۔ میں نواز شریف کی آواز کو پہچان سکتا تھا۔ان کا کہنا

تھا کہ نیب اور پاکستانی حکومت کی بدنیتی شروع دن ہی سے واضح تھی۔ جب ہم نواز شریف کی بیرونِ ملک رکھی دولت کا کھوج لگا رہے تھے تو اسی دوران جنرل مشرف نے انہیں طیارے پر بٹھا کر سعودی عرب بھیج دیا۔موسوی کا کہنا تھا کہ معاوضے کی رقم کو کم کروانے کے لیے پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے کیے جانے

والے مذاکرات کے دوران سنہ 2018 میں انھوں نے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ایک مرتبہ پھر ارادہ ظاہر کیا تھا۔موسوی کے مطابق موجودہ حکومت کے اندر ہی سے ان کے ساتھ بات چیت کرنے والے چند افراد نے انھیں پیشکش کی کہ ہم آپ کا نیا کانٹریکٹ کروا دیں گے لیکن یہ بتائیں کہ اس میں ہمارا حصہ کتنا ہو گا۔’ ان کا

کہنا تھا کہ اس کے فورا بعد انھوں تمام تر بات چیت روک دی تھی۔ہم نے ان سے کہا کہ ہم معاوضے کی اس رقم کو بھول جاتے ہیں اور آئیں مل کر اس پر پھر سے کام کرتے ہیں۔ ہم نے معاہدے کا ایک مسودہ بھی تیار کر لیا تھا لیکن عمران (وزیرِاعظم عمران خان) کی حکومت کے اندر ہی سے چند عناصر نے ایک مرتبہ پھر اس کوشش کو سبوتاژ

کر دیا۔کاوے موسوی نے بتایا کہ ان کی پاکستانی حکومت کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔کاوے موسوی کا کہنا تھا کہ ‘میں عمران خان کو جانتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ایک ایماندار شخص ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ وہ اس حوالے سے سنجیدہ ہیں۔تاہم کیا وہ یہ کام کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں، یہ مجھے

معلوم نہیں۔ ان کی حکومت کے لوگوں کے ساتھ حالیہ تجربے کے بعد میں کچھ زیادہ پرامید نہیں ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہوں گے جب انھیں یقین ہو جائے گا کہ نیب کے اندر موجود کرپٹ عناصر کو نکال دیا گیا ہے اور حکومت پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے بارے سنجیدہ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.