’’جہاز لیز پر لیا اور کرایہ بھی نہ دیا ،مسافر الگ رُلے، ملک کی جگ ہنسائی الگ ہوئی ملایشین حکومت کاپی آئی اے کے طیارے کو روکنے کاحکم ،کرایہ کتنے کروڑ روپے بنتا ہے ‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آئن لائن )ملایشین حکام کا پی آئی اے کے بوئنگ 777کو روکے جانے کی وجہ سامنے آگئی ۔ تفصیلات کے مطابق ملائیشیا نے کوالالمپور کی عدالت کے حکم پر تحویل میں لے لیا۔پی آئی اے کی پرواز پی کے 894 اسلام آباد سے کوالالمپور پہنچی تھی تو اسے وہیں لیز کی عدم ادائیگی پر عدالتی حکم کے ذریعے رکوا لیا گیا۔نجی ٹی وی جیو کے مطابق مسافروں کو بعد

میں طیارے سے اُتاردیا گیا، پی آئی اے نے لیز پر لیے گئے طیارے کا کرایہ نہیں بھرا اور اُسی طیارے کو انٹرنیشنل فلائٹ پر ملائیشیا بھیج دیا۔کرائے کی یہ رقم ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر بنتی ہے، مسافر الگ رُلے، ملک کی جگ ہنسائی الگ ہوئی۔ ترجمان پی آئی اے نے بتایاکہ کورونا کی وجہ سے پچھلے سال آمدنی کم ہوئی، کرایہ کم کرانے کا مقدمہ برطانوی کورٹ میں زیر سماعت ہے، ایسے میں تیسرے ملک کی عدالت کی یکطرفہ کارروائی ناخوشگوار واقعہ ہے۔کام خراب کرنے کے بعد پی آئی اے نے ملائیشیا سے معاملہ سفارتی سطح پر حل کرانے کیلئے حکومتِ پاکستان سے رجوع کرلیاجبکہ روکے گئے طیارے کے مسافر پاکستان کیلئے روانہ ہوگئے۔خیال رہے کہ پی آئی اے نے 2015 میں بوئنگ 777 طیارہ ویتنام کی کمپنی سے لیز پر حاصل کیا تھا۔واضح رہے کہ آج پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن ( پی آئی اے) کا بوئنگ 777 طیارہ کوالالمپورایئرپورٹ پرمقامی حکام نے قبضے میں لے لیا۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملائیشیا میں عدالتی حکم پر طیارے کو تحویل میں لیا جانا ایک ناخوشگوار صورتحال ہے، مسئلے کے احسن حل تک مسافروں کی مناسب دیکھ بھال کی جائے گی۔ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ ملائیشیا میں پی آئی اے کا ایک طیارہ عدالتی حکم پر تحویل میں لیا گیا ہے، ، 2015 میں ملائشیا میں پی آئی اے کا طیارہ ویتنامی کمپنی سے لیز پر لیا گیا تھا،طیارے کی لیزکے واجبات ادا نہ کرنے پرملائیشیا میں پی آئی اے کا طیارہ قبضے میں لیا گیا، اس معاملے میں برطانوی عدالت میں پی آئی اے اورایک پارٹی کا کیس زیر التوا ہے، پی آئی اے اور برطانیہ کی عدالت میں زیر التوائ￿ دوسرے فریق کے مابین قانونی تنازعہ سے متعلق یک طرفہ فیصلہ ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ یہ ایک ناقابل قبول صورتحال ہے اور پی آئی اے نے سفارتی چینلز کے ذریعہ اس معاملے کو اٹھانے کے لئے

حکومت پاکستان کی حمایت حاصل کی ہے اور ان کے سفر کے متبادل انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے دوسری جانب پاکستان سے چین پہنچنے والے 10 مسافروں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد چین نے قومی انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کی پروازوں کی آمد پر 3 ہفتوں کے لیے پابندی عائد کردی۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے چین کی جانب سے پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان سے چین جانے والے مسافروں کی72 گھنٹے پہلے ہونے والے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ منفی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جب یہ مسافر چین پہنچے تو وہاں ان کی کورونا ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے چین کے لیے ہفتہ وار صرف ایک پرواز آپریٹ کرتی ہے جب کہ چینی فضائی کمپنی کے ہفتہ وار 19 پروازیں پاکستان آتی ہیں۔دوسری جانب چین میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر پی آئی اے نے چین جانے والی پروازیں عارضی طور پر معطل کردیں۔پروازیں پاکستانی مسافروں میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر منسوخ کی گئیں۔ ترجمان پی آئی اے نے پروازوں کی منسوخی کی

تصدیق کردی ہے۔ذرائع کے مطابق چین نے بھی پاکستانی مسافروں پر عارضی سفر ی پابندیاں عائد کی ہیں، پی آئی اے چین کے لیے ہفتہ وار دو پروازیں آپریٹ کرتی ہے۔دوسری جانب چین کی کمپنی سینوویک بائیوٹیک کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین بیماری کی روک تھام کے لیے 50.38 فیصد تک موثر قرار دی گئی ہے۔برازیل میں اس ویکسین کے حتمی مراحل کے نتائج جاری کیے گئے ہیں،

جس میں اس کی افادیت ابتدائی نتائج سے نمایاں حد تک کم بتائی گئی ہے۔بیماری کی روک تھام کے لیے اتنی افادیت ریگولیٹری منظوری کے لیے کافی ہے مگر ابتدائی نتائج میں اسے 78 فیصد تک موثر قرار دیا گیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برازیلین حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ساپالو کے بوتانتین انسٹیٹوٹ اور ساپالو حکومت کے مطابق سینوویک کی کووڈ ویکسین کلییکل ٹرائل میں

مجموعی طور پر 50.38 فیصد تک موثر ثابت ہوئی۔ٹرائل کے مطابق یہ ویکسین بیماری کی معمولی شدت کے کیسز روکنے میں 78 فیصد اور معتدل و سنگین کیسز کی روک تھام میں سو فیصد موثر رہی۔اس ویکسین کی افادیت کی مجموعی شرح عالمی ادارہ صحت کے طے کردہ 50 فیصد سے زیادہ ہے۔حیران کن طور پر گزشتہ ہفتے بوتانتین انسٹیٹوٹ نے جزوی نتائج میں کہا تھا کہ یہ ویکسین بیماری کی روک تھام کے لیے 78 سے سو فیصد تک موثر ہے۔برازیل کی 8 ریاستوں میں 13 ہزار طبی ورکرز کو اس ویکسین کے ٹرائل کا حصہ بنایا گیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.