ملازمین کا اوور ٹائم بند کرنے کا اعلان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا کہ 50 سال سے خسارے میں چلنے والے ریلوے کو قابل منافع بنائیں گے لیکن ریلوے کی اراضی نہیں بیچیں گے، پشاور کینٹ سٹیشن کے دورے کے موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبضہ مافیا

ریلوے افسران اور پولیس کے ذریعے قبضہ کرتے آرہے ہیں، اب ریلوے میں قبضہ مافیا کو نہیں چھوڑیں گے۔وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ محکمہ ریلوے میں اوور ٹائم کے لیے افسران کو رشوت دی جاتی ہے، ملازمین 70 کروڑ اوور ٹائم لے رہے ہیں، ریلوے میں اب کسی کو اوور ٹائم نہیں لینے دوں گا۔ 6 ماہ میں ریلوے خسارہ ختم کریں گے، ریلوے یونین سے بلیک میل نہیں ہوں گا، اب چور اور چوکیدار کا گٹھ جوڑ نہیں ہوسکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین کو کچی جھونپڑیوں سے نکال کر ہائی رائز بلڈنگز میں منتقل کریں گے۔دریں اثنا بجلی کی مد میں پاکستان ریلویز کو اربوں روپے کا چونا لگانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کی رپورٹ ملنے پر وزیرِاعظم عمران خان نے سخت اظہارِ برہمی کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیرِ ریلوے اعظم سواتی نے تفصیلات رپورٹ کی صورت میں وزیرِ اعظم عمران خان کے سامنے پیش کر دیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریلوے کالونیوں میں بجلی کے میٹر نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ ڈھائی ارب

روپے کا نقصان ہوتا ہے، ریلوے ملازمین سالہا سال سے بجلی استعمال کرتے رہے ہیں، جس کا مالی بوجھ ریلوے پر پڑا ہے، نقصان میں واپڈا اور ریلوے حکام کی ملی بھگت نکلی ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے رپورٹ پر سخت اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ریلوے کالونیوں میں بجلی کے

میٹر نہ ہونے کا نوٹس لے لیا۔وزیرِ اعظم نے ریلوے کالونیوں میں 25 ہزار بجلی کے میٹر ہنگامی طور پر لگانے کا حکم بھی دے دیا۔انہوں نے حکم دیا ہے کہ ریلوے کی رہائشی کالونیوں میں بجلی کے میٹر لگانے کا یہ عمل 4 ماہ میں مکمل کیا جائے۔وزیرِاعظم عمران خان نے بجلی کے

میٹرز کے معاملے کی مانیٹرنگ کیلئے کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کر دی۔وزیرِاعظم آفس نے ایک آفیسر کو بجلی کے میٹرز کے معاملے کو دیکھنے کے لیے کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا ہے۔وزیرِاعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ریلوے کالونیوں میں میٹروں کی تنصیب شروع کریں، قومی خزانے کی ایک ایک پائی قوم کی امانت ہے، اسے امانت سمجھ کر خرچ کریں گے، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *