معروف بزنس میں سیٹھ عابد انتقال کرگئے

کراچی (آن لائن) معروف صنعتکار سیٹھ عابد انتقال کرگئے، خاندانی ذرائع نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے، سیٹھ عابد کی نمازجنازہ کل کراچی میں ادا کی جائے گی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان کی معروف بزنس مین اور صنعتکار سیٹھ عابد طویل علالت کے باعث انتقال کرگئے ہیں، سیٹھ عابد فالج کے حملے کے باعث علیل تھے۔خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیٹھ عابد کی نماز جنازہ کل بعد

نماز عصر کراچی میں ادا کی جائے گی۔سیٹھ عابد کی رہائشگاہ اسٹریٹ نمبر7 فیز ٹو ڈیفنس میں واقع ہے۔ حافظ ایاز مسجد فیز ٹومیں ادا کی جائے گی۔ سیٹھ عابد کا تعلق قصور سے ہے، جبکہ ان کے والد کراچی کی صرافہ مارکیٹ کی بڑی مشہور شخصیت تھے، سیٹھ عابد کے کردار کے بارے بہت ساری قیاس آرائیوں کی بناء پر ان کو پراسرار شخصیت کے طور بھی دیکھا جاتا رہا، ان کی جائیدادوں، لاہور میں ایک بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک اور خیراتی ادارے چلانے کے طور بھی جانا جاتا رہا، اسی طرح ان کے بارے کہا جاتا ہے کہ جب امریکا نے پاکستان پر ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ درآمد کرنے پر پابندی عائد کی تو سیٹھ عابد نے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ بحری راستے سے پاکستان پہنچایا تھا۔ سیٹھ کے بیٹھے حافظ ایاز کو جب نومبر 2006 میں لاہور میں ان کے محافظ نے شوٹ کر دیا تھا، اس وقت بھی یہ خبروں میں رہے۔ ‎ ۔ دوسری جانب سیٹھ عابد حسین کا آبائی تعلق بابا بلھے شاہ کے شہر قصور سے ہے ، سیٹھ عابدکا کردار ہمیشہ سے پراسرا رہا ہے ۔ عام لوگ ان کے بارے کچھ خاص نہیں جانتے اور نہ ہی شیخ عابد حسین کو اپنے بارے میں معلومات ظاہر کرنے کا شوق تھا ۔ سیٹھ عابد کو اللہ تعالی نے تین بیٹے اور ایک بیٹی سے نواز ۔ ان کے تینوں بیٹو میں دونوں چھوتے بیٹے گونگے ، بہرے اور ذہنی طور پر معذور تھے جو امریکا میں کسی بورڈنگ ہائوس میں پلے بڑے جبکہ ان کے سب سے بڑے بیٹے ایاز محمود کو 2006میں لاہور میں اس کے اپنے ہی گارڈ میں مار دیا تھا ۔ شیخ عابد حسین اپنے بھائیوں میں سب سے زیادہ ہوشیار اور ذہن تھے ، ان کا دماغ کمپوٹر کی طرح کام کرنے کی خدادا صلاحیت رکھتا تھا وہ اردو اور پنجاب کے علاوہ میمنی بولی پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے ۔ انہوں نے مختلف ہائوسنگ پروجیکٹس بھی تعمیر کیے جبکہ اسٹاک ایکس چینج میں بھی بڑا سرمایا لگایا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *