ن لیگ کا ہزارہ برادری کی احتجاج کی کال کی مکمل حمایت کا اعلان، معاملے کو پی ڈی ایم کی سطح پر لیجانے کا بھی فیصلہ‎‎

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ہزارہ برادری کی حمایت میں احتجاج کی کال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں مقامی قیادت اور کارکنان کو احتجاج کی کال میں بھرپور شرکت کی ہدایت کر دی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے کہا ہے کہ جماعت کی مقامی قیادت اور کارکنان اپنے اپنے شہروں میں ہزارہ برادری کیلئے احتجاج میں شریک ہوں اور حمایت کریں۔

مسلم لیگ (ن) نے ا س معاملے کو پی ڈی ایم میں بھی لے جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن اور دیگر قائدین سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر تکبر اور ہٹ دھرمی کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ عمران خان جیسا ہوتا۔ ہزارہ برداری سے متعلق وزیرا عظم کا بیان انسانیت سے عاری ہے۔میں سلیکٹرز سے بھی سوال کرتی ہوں کہ کیا 22 کروڑ عوام میں یہ ہی ایک سوغات ملی تھی’۔موجودہ حکومت کی پے در پے غلطیوں پر عوام اب سلیکٹرز سے جواب طلب کررہے ہیں ‘۔ کیا سلیکٹرز جانتے ہیں کہ ان کے انتخاب کی وجہ سے برادر دوست ناراض ہوئے، خارجہ پالیسی برباد کردی، گورننس کا ستیاناس کیا اور اب مظلوموں کو بلیک میلرز کا لیبل دے کر انسانیت کی توہین کی جارہی ہے۔جس کو کوئٹہ جانے کی اجازت نہیں مل رہی اسکی کیا حیثیت این آر او دینے کی،وزیراعظم کے پاس کتوں سے کھیلنے اورڈرامے دیکھنے کاوقت ہے،متاثرین سے بات کرنے کا نہیں۔ ہزارہ برداری سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنے پیاروں کو دفنادیں کیونکہ جس انسان سے آپ امید لگائے بیٹھے ہیں اس کے سینے میں دل نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی رہائش گا ہ پرپریس کانفرنس سے

خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگ زیب،سینیٹر پرویز رشید،احسن اقبال،رانا ثناء اللہ،سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان،خواجہ طارق نذیر،علی اکبر گجر اور دیگر بھی موجود تھے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہزارہ برادری پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ہم لوگ گزشتہ روز انھیں دلاسہ دینے گئے تھے، اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے

لاہور جانا تھا، کوئٹہ سے واپسی پر کراچی رکنا پڑا، میرا یہاں پریس کانفرنس کا کوئی پروگرام نہیں تھا لیکن وزیراعظم کے حالیہ بیان نے مجھے انھیں جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کا بیان سنا کہ مجھے بلیک میل مت کریں،مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم نے بے حسی اور انسانیت سے عاری باتیں کیں،پوری دنیا میں کسی بھی ملک میں کوئی ایسا سانحہ ہو تو ملک کا سربراہ سب سے

پہلے پہنچتا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز نے ہزارہ برادری کی غمزدہ خواتین کی تصاویر بھی دکھائیں اور کہا کہ ‘کیا یہ بلیک میلر ہیں؟’انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا فرض ہے کہ وہ ہزارہ برداری کے غم میں برابر کے شریک ہوں۔مریم نواز نے کہا کہ ہزارہ برداری کو بلیک میلر کہہ کر جس غرور، تکبر اور سفاکی پر مبنی بیان دیا ہے اس کے بعد ہم صرف آپ کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ ‘یہ فرعونیت ہے’۔ اگر یہ صورتحال آپ کے گھر میں پیش آتی تو کیا آپ انہیں بھی بلیک میلرز کہتے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *