مودی حکومت مغل شہزادے دارا شکوہ کی قبر کیوں تلاش کر رہی ہے؟ بی بی سی اردو کی دلچسپ رپورٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی حکومت ان دنوں 17ویں صدی کے مغل شہزادے دارا شکوہ کی قبر تلاش کر رہی ہے۔بی بی سی اردو میں شکیل اختر کی شائع رپورٹ کے مطابق مغل بادشاہ شاہجہاں کے وقت کے مورخین کی تحریروں اور بعض دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ داراشکوہ کو دلی میں ہمایوں

کے مقبرے میں کہیں دفن کیا گیا تھا۔ مودی حکومت نے دارا کی قبر کی شناخت کے لیے ماہرین آثار قدیمہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو لٹریچر، آرٹ اور فن تعمیر کی بنیاد پر ان کی قبر کا تعین کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔داراشکوہ شاہجہاں کے سب سے بڑے صاحبزادے اور مغلیہ روایت کے مطابق اپنے والد کے بعد تخت کے وارث تھے۔ لیکن شاہجہاں کی بیماری کے بعد دوسرے شہزادے اورنگزیب نے اپنے والد کو بادشاہت سے معزول کر کے انھیں آگرے میں قید کر دیا تھا۔اورنگزیب نے خود کو بادشاہ قرار دیا اور تخت نشینی کی جنگ میں داراشکوہ کو شکست دی اور انھیں گرفتار کے جیل بھیج دیا گیا۔شاہجہاں کے شاہی مورخ محمد صالح کمبوہ لاہوری نے اپنی کتاب شاہجہاں نامہ میں لکھا ہے کہ شہزادہ دارا شکوہ کو جب گرفتار کر کے دلی لایا گیا تو جسم نازنین پر میلا کچیلا لباس تھا۔ یہاں سے اسے نہایت سرگردانی اور برگشتہ بختی کی حالت میں ہاتھی پر سوار کر کے خضر آباد پہنچایا گیا۔ کچھ عرصے ایک تنگ و تاریک گوشے میں

مقیم رہا کہ تھوڑے ہی دنوں میں قتل کیے جانے کا حکم صادر ہوا۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ چند جلاد اس عالیجاہ کو قتل کرنے کے لیے داخل زنداں ہوئے اور دم بھر میں اس کے گلے پر خنجر پھیر کر حسن و جمال کی اس تصویر کو خاک میں ملا دیا۔ اسی میلے خون آلود لباس میں، جو وہ پہنے

ہوئے تھا، اس کی نعش کو ہمایوں کے مقبرے میں دفن کر دیا گیا۔اس عہد کے ایک اور مورخ محمد کاظم ابن محمد امین منشی نے اپنی کتاب عالمگیر نامہ نے بھی دارا کی قبر کے حوالے سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں دارا کو ہمایوں کے مقبرے میں اس گنبد کے نیچے دفن کیا گیا

جہاں شہنشاہ اکبر کے بیٹے دانیال اور مراد دفن ہیں اور جہاں بعد میں دوسرے تیموری شہزادوں اور شہزادیوں کو دفن کیا گیا۔پاکستان کے ایک سکالر احمد نبی خان نے سنہ 1969 میں لاہور میں دیوان دارا شکوہ کے نام سے ایک مقالے میں دارا کی قبر کی ایک تصویر شائع کی تھی۔ ان کے

مطابق شمال مغربی چیمبر میں واقع تین قبریں مردوں کی ہیں اور ان میں سے جو قبر دورازے کی طرف ہے وہ دارا شکوہ کی ہے۔ہمایوں کے وسیع مقبرے میں ہمایوں کے علاوہ متعدد قبریں ہیں اور ان میں مقبرے کے وسط میں واقع صرف ہمایوں کی ہی ایک ایسی قبر ہے جس کی

شناخت ہوئی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مورخ پروفیسر شیریں موسوی کہتی ہیں چونکہ ہمایوں کے مقبرے میں کسی بھی قبر پرکتبہ نہیں لکھا ہوا ہے اس لیے کسی کے بارے میں نہیں معلوم کہ وہ کہاں دفن ہے۔حکومت نے دارا کی قبر کی شناخت کے لیے آثار قدیمہ کے ماہرین کی

ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں شعبہ آثار قدیمہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر سید جمال حسن بھی شامل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہاں تقریباً ڈیڑھ سو قبریں ہیں جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہوئی ہے۔ یہ شناخت کی پہلی کوشش ہے۔وہ کہتے ہیں ہمایوں کے مقبرے کی اصل محراب کے نیچے

جو چیمبرز بنے ہوئے ہیں وہاں ہم قبروں کا جائزہ لیں گے، ان کا ڈیزائن دیکھیں گے، اگر کوئی تحریر ہے تو اسے تلاش کریں گے، آرٹ اور فن تعمیر کے نکتہ نظر سے ہم لوگ یہ کوشش کریں گے کہ دارا کی قبر کا تعین کیا سکے۔ان کا ماننا ہے کہ یہ کام بہت مشکل ہے۔داراشکوہ شاہجہاں

کے وارث تھے۔ وہ ہندوستان کے ایک ایسے بادشاہ بننے کا خواب دیکھ رہے تھے جو بادشاہت کے ساتھ ساتھ فلسفے، تصوف اور روحانیت پر بھی عبور رکھتا ہو۔ان کے حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق وہ اپنے عہد کے سرکردہ ہند، بودھ، جین ، عیسائی اور مسلم صوفیوں سے ان کے

مذہبی تصورات پر تبادلہ خیال کیا کرتا تھا۔ اسلام کے ساتھ ساتھ انھیں ہند مذہب میں بھی گہری دلچسپی تھی اور وہ سبھی مذاہب کو برابری کی نظر سے دیکھتے تھے۔انھوں نے بنارس سے پنڈتوں کو بلا کر ان کی مدد سے ہندو مذہب کی درجنوں فلسفیانہ کتابوں ‘اوپنیشد’ کا فارسی میں ت

رجمہ کروایا تھا۔ اوپنشد کے یہ فارسی ترجمے یورپ پہنچے اور وہاں ان کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا جس سے اوپنیشد کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔انڈیا میں دارا شکوہ کو ایک اعتدال پسند کردار تصور کیا جاتا ہے۔ انڈیا کے ہندو مائل مورخین اور دانشوروں کا خیال ہے

کہ اگر اورنگ زیب کی جگہ دارا شکوہ مغلیہ سلطنت کے تخت پر بیٹھتے تو ملک کی صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔یہ مورخین اورنگزیب کو ایک سخت گیر، بنیاد پرست اور متعصب مسلم سمجھتے ہیں جو بقول ان کے ہندوئوں سے نفرت کرتے تھے اور جنھوں نے متعدد مندروں کو مسمار کیا تھا۔

یہ تصور موجودہ دور کے سیاسی بیانیے میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔بی بی سی نے جن مورخین سے بات کی ان کے خیال میں اورنگ زیب کے برعکس دارا شکوہ ہندو مذہب سے متاثر تھے اور وہ ہندو کے مذہبی تصورات کا احترام کرتے تھے۔ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس،

وزیر اعظم مودی اور ان کی حکمراں جماعت بی جے پی انڈیا میں مسلم حکمرانوں کے تقریباً سات سو سالہ دور حکمرانی کو ہندوئوں کی غلامی سے تعبیر کرتے ہیں۔عصر حاضر میں مسلم حکمرانی کے دور بالخصوص مغلیہ حکمرانوں اور واقعات کو اکثر انڈیا کے مسلمانوں کے

خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اب یہ بیانیہ تخلیق کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دارا موجودہ مسلمانوں سے کہیں زیادہ انڈیا کی مٹی میں گھل مل گیا تھا۔مودی حکومت دارا شکوہ کو ایک مثالی، لبرل مسلم کردار تصور کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ دارا کو

مسلمانوں کا رول ماڈل بنانا چاہتی ہے۔ ان کے خیالات کو اجاگر کرنے کے لیے بہت ممکن ہے کہ مغل شہزادے کی قبر کی شناخت کے بعد مذہبی ہم آہنگی کا کوئی سالانہ میلہ یا کوئی پرگرام شروع کیا جائے۔حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنما سید ظفر اسلام کہتے ہیں دارا شکوہ ایک ایسا

انسان تھا جس نے سبھی مذاہب کا مطالعہ کیا اور امن کی ایک مہم چلائی۔ وہ سبھی مذاہب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے تھے۔ اس کا انھیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ آج کے مسلم معاشرے میں بھی دارا جیسی سوچ اور فہم کی شدید ضرورت ہے۔دارا شکوہ کو مسلمانوں کا رول ماڈل بنا

کر پیش کرنے کا تصور اس مفروضے پر قائم ہے کہ مسلمان انڈیا کے مذاہب اور یہاں کے رسم و رواج میں پوری طرح گھل مل نہیں سکے اور اس سے ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔تاہم چند ناقدین یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ داراشکوہ کو ان کے اعتدال پسند اور مذہبی یکجہتی کے تصورات کے لیے صرف مسلمانوں کا ہی کیوں پورے ملک کا رول ماڈل کیوں نہ بنایا جائے؟

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *