وینا ملک نے پاکستانی قونصل جنرل کی مدد سےمیرے بچوں کو اغوا کیا، سابق شوہر اسد خٹک قانونی جنگ کیلئے پاکستان پہنچ گئے ، وزیراعظم و آرمی چیف سے مدد کی اپیل

پشاور (این این آئی)اداکارہ وینا ملک کے سابق شوہر اسد خٹک نے سابق اہلیہ اور متحدہ عرب امارات کی ریاست میں تعینات قونصل جنرل پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مدد سے کی اپیل کردی۔ امریکا سے براستہ دبئی، پاکستان پہنچنے کے بعد پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد خٹک نے کہا کہ ان کی سابق اہلیہ وینا

ملک فوج اور ا?ئی ایس ا?ئی سمیت دیگر ریاستی اداروں کو بدنام کر رہی ہیں مگر متعلقہ اداروں کے حکام نوٹس نہیں لے رہے۔اسد خٹک نے دعویٰ کیا کہ وینا ملک انہیں فوج، آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آرکے نام سے ڈراتی اور دھمکیاں دیتی ہیں، وہ آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان معاملات کی تفتیش کروائی جائے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دبئی کی عدالت نے بچوں کی حوالگی کا فیصلہ ان کے حق میں دیتے ہوئے دبئی کی حکومت کو ہدایات کی تھیں کہ اسد خٹک کے بچے دبئی سے باہر نہیں جانے چاہئیں اور ابھی تک تکنیکی اعتبار سے ان کے بچے وہاں سے باہر نہیں گئے لیکن وینا ملک نے وہاں تعینات پاکستانی قونصل جنرل کی مدد سے ان کے بچوں کو اغوا کیا۔اسد خٹک نے دعویٰ کیا کہ دبئی میں مقیم قونصل جنرل امجد علی نے وینا ملک کے کہنے پر ان کے بچوں کے آؤٹ پاس دستاویزات بنائے جو اس وقت بنائے جاتے ہیں جب کسی کو ایمرجنسی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ان کے بچوں کے پاسپورٹ دبئی حکومت نے تحویل میں لے رکھے تھے، اس لیے وینا ملک کے کہنے پر دبئی میں مقیم پاکستانی قونصل جنرل نے آؤٹ پاس بنا کر ان کے بچوں کو دبئی سے پاکستان منتقل کروایا جو ایک طرح سے غیر قانونی کام ہے۔انہوں نے اسی معاملے پر کہا کہ تکنیکی اعتبار سے اب بھی ان کے بچے دبئی میں مقیم ہیں لیکن درحقیقت ان کے بچوں کو اغوا کرکے پاکستان منتقل کیا گیا ہے۔ اسد خٹک نے اپنے بچوں کو غیر قانونی طریقے سے پاکستان منتقل کیے جانے کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ معاملے کی تفتیش کروائیں۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بچوں کو اغوا کرنے کے معاملے پر وینا ملک کو قانونی نوٹس بھی بھجوا رکھا ہے اور وہ پاکستان محض اپنے بچوں کی خاطر ہی آئے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *